لاڈی گینگ: صدیوں پرانے پولیسنگ نظام اور قبائلی روایات کو توڑنے والا سفاک گینگ

،تصویر کا ذریعہBorder Military Police,DGKhan.
- مصنف, شاہد اسلم
- عہدہ, صحافی، لاہور
خون میں لت پت ایک مغوی شخص زمین پہ لیٹا ہوا ہے اور درد سے چیخ رہا ہے جبکہ کچھ لوگوں نے اسے بازوؤں اور ٹانگوں سے پکڑا ہوا ہے، دیکھتے ہی دیکھتے سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے اغوا کاروں میں سے ایک نے تیز دھار آلے سے اس مغوی کے بازو اور ناک کاٹ دیے جس کے کچھ ہی دیر بعد مغوی تڑپ تڑپ کر مر جاتا ہے۔
یہ مناظر کسی ڈراؤنی فلم کے نہیں ہیں بلکہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ایسی ویڈیو کے ہیں جو وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے شہر ڈیرہ غازی خان کے سفاک اور بدنام زمانہ ’لاڈی گینگ‘ نے اپ لوڈ کی ہے۔
دل دہلا دینے والی اس ویڈیو میں نظر آنے والے مناظر سے دیکھا جا سکتا ہے کہ مغوی، جس کی بعد میں شناخت رمضان کے نام سے ہوئی، کو اغوا کار اس قدر اذیت ناک طریقے سے اس لیے قتل کر رہے ہیں کیونکہ انھیں شبہ تھا کہ وہ شخص پولیس کا مخبر ہے اور گینگ سے متعلق معلومات پولیس کو فراہم کر رہا تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق جب لاڈی گینگ کے کارندے مخبری کے شبے میں ڈوہری قبیلے کے تین لوگوں کو پکڑنے آئے تو اس موقع پر جھڑپ ہو گئی۔ ان تین افراد کے نام رمضان، خیرو اور خادم تھے۔ جھڑپ کے دوران خیرو مارا گیا جبکہ باقی دونوں افراد کو اغوا کر کے گینگ کے کارندے اپنے ٹھکانے پر لے گئے جہاں رمضان کو بے دردی سے ہلاک کرنے کی ویڈیو اب سامنے آئی ہے جبکہ خادم تاحال لاپتہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پولیس کے مطابق لاڈی گینگ گذشتہ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے قتل، ڈکیتی، بھتہ خوری، اغوا اور چوری جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس گینگ کے کئی لیڈر اور ارکان گذشتہ کچھ برسوں کے دوران پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں لیکن اب بھی ان کے 25 سے 30 کارندے مقامی لوگوں، پورے علاقے کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBorder Military Police
ڈیرہ غازی خان اور راجن پورکے پہاڑی اور قبائلی علاقے میں پولیس کو چھوٹو گینگ یا لاڈی گینگ کے مٹھی بھر گینگ ارکان کو قابو کرنے میں ہمیشہ مشکلات کیوں رہتی ہیں۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے پہلے ہمیں ان قبائلی علاقوں اور ان کا پولیسنگ کا نظام سمجھنا ہو گا۔
لاڈی گینگ کب اور کیسے وجود میں آیا یہ آگے چل کر، اس سے قبل یہ دیکھتے ہیں کہ اس علاقے میں رائج پولیسنگ سسٹم ہے کیا اور یہ کیسے کام کرتا ہے۔
ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے قبائلی علاقے اور بارڈر ملٹری پولیس
برطانوی راج کے دوران راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے قبائلی اور پہاڑی علاقوں میں لا اینڈ آرڈر کو دیکھنے کے لیے پنجاب بارڈر ملٹری پولیس ایکٹ 1904 لایا گیا جس کے تحت بارڈر ملٹری پولیس اور بلوچ لیوی متعارف کروائی گئی۔
بلوچ لیوی تو تقریبا ختم ہو چکی ہے جبکہ 100سال زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود بارڈر ملٹری پولیس آج بھی قائم ہے۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں واقع ان مخصوص پہاڑی اور قبائلی علاقوں میں یہی فورس کام کر رہی ہے جبکہ وہاں پنجاب پولیس یا ضلعی پولیس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
پنجاب بارڈر ملٹری پولیس ایکٹ 1904 کے مطابق ڈپٹی کمشنر بارڈر ملٹری پولیس کا سینیئر کمانڈنٹ جبکہ گریڈ 17 کا سول انتظامیہ کا آفسر اس کا کمانڈنٹ ہوتا ہے جبکہ باقی فورس میں رسالدار(پولیس کے ڈی ایس پی رینک کے برابر کا عہدہ)، جمع دار(پولیس کے انسپکٹر رینک کے برابر) اور سوار (سپاہی) وغیرہ جیسے عہدے ہوتے ہیں۔
بارڈر ملٹری پولیس میں مقامی قبائلی سرداروں کا اثرو رسوخ

،تصویر کا ذریعہBorder Military Police
کھیتران قبیلے کے سردار حافظ اورنگ زیب کے مطابق قیام پاکستان کے وقت تک یہ قبائل آزاد تھے اور جب ان مقامی قبائل نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تو ان کے رہن سہن کے علاوہ بارڈر ملٹری پولیس کے معاملات کو بھی نہ چھیڑنے کا معاہدہ شامل تھا۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بارڈر ملٹری فورس کا قیام ان قبائل کے رسم و رواج کے مطابق عمل میں لایا گیا تھا اور اس فورس میں بھرتی کے لیے بھی مقامی قبائل کا ہمیشہ سے اثر و رسوخ رہا ہے کیونکہ انگریز نے پہلے قبیلوں میں سردار بنائے پھر ان سرداروں کو اپنے اپنے قبیلے میں اثر و رسوخ کے حساب سے اس پولیس میں سیٹیں دی گئیں اور یہ غیر تحریری انتظام آج بھی قائم ہے۔‘
قیام پاکستان کے بعد سے جب تک راجن پور اور ڈیرہ غازی خان ایک ہی ضلع تھے تو دونوں کے لیے ایک ہی رسالدار مقرر ہوتا رہا اور دونوں کے آخری مشترکہ رسالدار غلام رسول لغاری تھے۔ سردار حافظ اورنگ زیب کے مطابق چند ماہ پہلے رسالدار کی دو نئی سیٹیں تخلیق کی گئیں جو اب بڑھ کر چار ہو چکی ہیں جن میں ایک پر وزیراعلیٰ پنجاب کے بھائی تعینات ہیں۔
سردار حافظ اورنگ زیب کے مطابق اب ڈیرہ غازی خان میں چاروں بڑے قبائل کا ایک ایک فرد رسالدار کی پوسٹ پر تعینات ہے جن میں انعام ﷲ کھوسہ کے بیٹے خرم کھوسہ، وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے بھائی عمر بزدار، وقار قیصرانی اور اعجاز احمد خان لغاری شامل ہیں۔
سردار حافظ اورنگ زیب کے مطابق ’رسالدار کی سیٹ پر زیادہ تر یہ تعیناتیاں سیاسی بنیادوں پر ہی کی گئیں ہیں اس لیے ایسی فورس سے امن و امان قائم کروانا ایک مشکل کام ہے۔‘
دوسری طرف سینیئر مقامی سیاستدان اور رکن پنجاب اسمبلی سردارمحسن عطا کھوسہ کا خیال ہے کہ ’سیاسی اثر رسوخ رکھنے والے خاندان کے لوگوں کو اہم پوسٹوں پر تعینات کرنے کی ایک رسم رہی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ میرٹ کے اس نظام پہ نظر ثانی کی جانی چاہیے۔‘
دوسری طرف ڈیرہ غازی خان کے قبائلی اور پہاڑی علاقوں میں تعینات پولیٹیکل اسسٹنٹ اور کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس حمزہ سالک نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مقامی قبائلی سرداروں کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے چند ماہ پہلے بارڈر ملٹری پولیس کے چاروں رسالدار کا انٹر قبائل تبادلہ کردیا گیا ہے۔‘
سردار حافظ اورنگ زیب کا مزید کہنا تھا کہ ان کے اپنے داماد انسپکٹر محمد صفدر علی بزدار کو بھی لاڈی گینگ نے ہی سنہ 2011 میں اس وقت مار ڈالا تھا جب وہ ایک کیس کے سلسلے میں مقامی عدالت جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے داماد کو لاڈی گینگ سے لڑنے کے لیے خاص طور پر تھانہ کالا میں تعینات کیا گیا تھا اور وہ بڑی بہادری سے اس گینگ کے خلاف لڑ رہے تھے اور اس گینگ کے ٹھکانوں پر چھاپے مار رہے تھے۔
ڈیرہ غازی خان کے ایک اور مقامی سیاستدان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ’جس پہاڑ پر لاڈی گینگ نے اپنا ٹھکانہ بنایا ہوا ہے وہ لنڈ اور کھیتران قبیلے کے پہاڑ تھے لیکن جب وہ نیچے میدانی علاقے میں آ گئے ہیں تو اس گینگ نے ان پہاڑوں پر قبضہ کر لیا۔‘
گینگ کے پنپنے کی بنیادی وجوہات، حکومتی رٹ اورپولیس کی ری سٹرکچرنگ کا نہ ہونا؟

،تصویر کا ذریعہBorder Military Police,DGKhan.
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے رکن پنجاب اسمبلی سردار محسن عطا خان کھوسہ نے بتایا کہ حکومت کی اس علاقے میں رٹ نہ ہونا اور پولیس کا سٹرکچر نہ ہونا ہی ایسے گینگ کے پنپنے کی بنیادی وجوہات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جہاں حکومتی رٹ نہیں ہو گی وہاں ایسے گینگ ہی جنم لیں گے۔‘
سردار محسن عطا خان کھوسہ کے مطابق وہ پہلے دن سے حکومت کو تجویز دے رہے ہیں کہ پولیس کی ری سٹرکچرنگ کریں ورنہ حالات مزید خراب ہوں گے لیکن اس تجویز پر عمل درآمد نہ ہوسکا اور یہ گینگ اب اور زیادہ خطرناک طریقے سے وارداتیں کر رہے ہیں۔
سردار محسن عطا خان کھوسہ اس بات کی بھی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ مقامی سرداروں کی پشت پناہی سے ہی ایسے گینگ بلاخوف و خطر کام کر رہے ہیں۔
'یہ مکمل طور پر غلط بات ہے اور 100 فیصد غلط پرسیپشن۔ ہم مقامی سردار ایسے سفاک گینگز کی پشت پناہی نہیں کرتے ہیں۔ لاڈی گینگ مکمل طور پر آزادانہ طریقے سے اپنی کاروائیاں کر رہا ہے جسے سختی سے روکے جانے کی ضرورت ہے۔‘
’وارداتوں کے لیے پرکشش ہدف میدانی علاقے‘

،تصویر کا ذریعہBorder Military Police,DGKhan
سردار محسن عطا خان کھوسہ کا دعویٰ ہے کہاس گینگ کا اس وقت سارا فوکس ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری سے بھتہ لینا ہے اور بھتہ نہ ملنے کی صورت میں میدانی علاقے سے ٹریکٹر، جیپیں، کاریں اور موٹر سائیکلز وغیرہ چھین کر تاوان لے کر چھوڑ دینا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سارا علاقہ بارڈر ملٹری پولیس کے زیر انتظام ہے۔ ’یہ وہ واحد گینگ ہے جس نے پرانی قبائلی روایات کے برعکس ہمسایہ قبائل کے لوگوں کو قتل کرنا شروع کر دیا ہے۔‘
سردار محسن عطا کھوسہ نے کہا کہ یہ بات بہرحال اپنی جگہ درست ہے کہ پہاڑی علاقوں میں قبائل کا آپس میں ایک چیک اینڈ بیلنس ہے لیکن سیٹل ایریا (میدانی علاقہ) میں نہیں ہے اس لیے یہ گینگ سیٹل ایریا میں قتل، بھتہ خوری، ڈکیتی اور اغوا وغیرہ جیسی وارداتیں انجام دیتے ہیں۔
لاڈی گینگ یا چاکرانی گینگ؟
لاڈی گینگ کے متعلق بات کرتے ہوئے سردار محسن عطا خان کھوسہ نے بتایا کہ لاڈی گینگ تو شاید مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس کا نام استعمال ہوتا ہے جبکہ موجودہ گینگ تو دراصل چاکرانی گینگ ہے جس کے سرپرست موسیٰ چاکرانی ہیں۔
’پولیس نے لاڈی گینگ کے تقریباً سارے لوگ، بشمول اس کے سرغنہ محمد بخش، مار دیے ہیں اور جو اِکا دُکا بچے ہیں وہ اب چاکرانی گینگ میں شامل ہے۔ لیکن لاڈی گینگ کا چونکہ نام مشہور ہو چکا ہے اس لیے چاکرانی گینگ کو بھی لاڈی گینگ ہی کے طور پر لیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس گینگ کو اب 30 سے 35 سال کی عمر کا موسیٰ اور 22 سے 23 سال کی عمر کا خودی چاکرانی، جو کہ کھوسہ قبیلے کی ایک سب کاسٹ جیانی کی سب کاسٹ ہے، چلا رہے ہیں۔
سردار محسن عطا خان کھوسہ کے مطابق موسیٰ چاکرانی نے کم عمری میں ہی اپنے قبیلے میں ایک قتل کر دیا تھا جس پر اسے سزائے موت ہوئی تھی اور سپریم کورٹ نے بھی اس سزا کو برقرار رکھا تھا لیکن قبیلے کے لوگوں کی آپس میں صلح کے نتیجے میں موسیٰ کی رہائی ہو گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہUMAR BUZDAAR
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’موسیٰ نے رہائی کے بعد ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری کی انتظامیہ سے کہا کہ وہ لاڈی گینگ کے بھتہ خوروں سے انھیں تخفظ دلا سکتا ہے لیکن اس کے بدلے انھیں اور اُن کے لوگوں کو معاوضہ چاہیے، لیکن فیکٹری انتظامیہ نے اس آفر کو ٹھکرا دیا جس کے بعد اس نے اسی علاقے میں لوٹ مار شروع کر دی۔‘
’وسائل کم ہونے کی وجہ سے پولیس نے وہاں کے مقامی قبیلہ جندانی کھوسہ کو اپنی امداد کے لیے فرنٹ لائن پر رکھا لیکن اس گینگ نے اس قبیلے کے آٹھ سے نو لوگوں کو قتل کر دیا جس کے بعد جندانی قبیلہ وہاں سے ہجرت کر گیا۔‘
'چاکرانی گینگ کے آپریشنل کمانڈر ہارون، جو قتل اور ڈکیٹی کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھے، کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مقامی قبائل کی مدد سے پہلے ہی مقابلے میں مار دیا تھا۔‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 80 کی دہائی میں بارڈر ملٹری پولیس میں ایک منصوبے کے تحت نئی بھرتیاں بند ہو گئیں جس کا مقصد بارڈر ملٹری پولیس کا ضلعی پولیس میں ادغام تھا لیکن وہ بھی آج تک نہ ہو سکا۔
ہزاروں مربع کلومیٹر پر پھیلا پہاڑی علاقہ، لاکھوں کی آبادی اور صرف 329اہلکار

،تصویر کا ذریعہBorder Military Police,DGKhan.
ڈیرہ غازی خان کے قبائلی اور پہاڑی علاقوں میں تعینات پولیٹیکل اسسٹنٹ اور کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس حمزہ سالک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس ڈیرہ غازی خان کا 30 سے 40 کلومیٹر لمبا اور ساڑھے چھ ہزار مربع میٹر چوڑا پہاڑی علاقہ ہے جس پر دو لاکھ بارہ ہزار سے زائد لوگ رہتے ہیں۔ ان پہاڑوں پر فورس کے کل 25 تھانے ہیں اور ان پر تعینات عملہ صرف 329 اہلکاروں پر مشتمل ہے۔
چونکہ گذشتہ کئی دہائیوں سے بارڈر ملٹری پولیس میں نئی بھرتیاں نہیں ہوئیں اس لیے حمزہ سالک کا ماننا ہے کہ وقت پر بھرتیاں نہ ہونے سے لا اینڈ آرڈر کے مسائل بڑھے ہیں کیونکہ اتنے بڑے پہاڑی علاقے پر رہنے والے لاکھوں لوگوں کے لیے یہ تعداد انتہائی کم ہے۔
’پہاڑوں پر پولیسنگ کرنا خاصا مشکل کام ہے اور یہ گینگ نیچے میدانی علاقے میں واردات کر کے دوبارہ پہاڑوں پر اپنے ٹھکانوں میں چلے جاتے ہیں اورجب بھی پولیس یا بارڈر ملٹری پولیس کاروائی کے لیے آگے بڑھتی ہے تو یہ اوپر سے فائرنگ شروع کر دیتے ہیں۔‘
حمزہ سالک کے مطابق بارڈر ملٹری پولیس کے ملازمین کی اب اوسط عمر بھی 40 سے 50 سال کے درمیان ہے جس سے فورس کی کارکردگی پر فرق پڑتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے پاس وسائل کی کمی ہے جسے دور کرنے کے لیے ابھی حال ہی میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان کی ذاتی دلچسپی سے اس فورس کو نئی گاڑیاں اور دیگر ضروریات کی چیزیں ملی ہیں۔
حمزہ سالک نے مزید بتایا کہ اب نئی بھرتیوں کے لیے بھی کام شروع ہو چکا ہے جس سے فورس میں نئے اور جوان لوگ شامل ہوجائیں گے۔
لاڈی گینگ کب اور کیسے بنا؟
لاڈی گینگ کب اور کیسے بنا اس کے متعلق حمزہ سالک نے بی بی سی کو بتایا کہ 2007-08 میں قبائلیوں کی ذاتی لڑائی کے نتیجے میں یہ گینگ بنا تھا جو پہلے چھوٹی موٹی وارداتیں کرتا تھا لیکن آہستہ آہستہ اس نے قتل، ڈکیتی اور بھتہ خوری جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنا بھی شروع کر دیا، اور اب تک کئی پولیس اہلکاروں سمیت مقامی لوگوں کو یہ قتل اور زخمی کر چکے ہیں۔
حمزہ سالک نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ دلخراش واقعے کے بعد ہوم سیکریٹری پنجاب سمیت دیگر سینیئر حکام خود ڈیرہ غازی خان پہنچے ہیں اور لاڈی گینگ کے خلاف جاری کارروائی کو مانیٹر کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ضلعی پولیس اور بارڈر ملٹری پولیس نے آج بھی ایک مشترکہ آپریشن کیا گیا ہے اور بہت جلد اس گینگ کا خاتمہ ہو گا۔
حمزہ سالک کے مطابق انھوں نے پہاڑی علاقے میں اس طرح کے گینگ سے نمٹنے کے لیے اب رینجرز کی مستقل تعیناتی کے لیے متعلقہ فورم پر درخواست بھی دے دی ہے۔
’لاڈی گینگ کے پاس جدید اسلحہ ہے جس میں کلاشنکوف، راکٹ لانچر وغیرہ تک شامل ہیں اور یہ لوگ 125 موٹر سائیکلوں پر وارداتیں کرتے ہیں جس کے بعد پہاڑوں پر اپنے ٹھکانوں پر چلے جاتے ہیں۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ ان گینگ کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے اس پر حمزہ سالک نے بتایا کہ انھیں اسلحہ اور دیگر سامان راجن پور اور بلوچستان سے باآسانی مل جاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں حمزہ سالک کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب ہوم ڈپارٹمنٹ کے ایک نوٹیفیکیشن کے تحت ضلعی پولیس پر پہاڑی علاقوں میں جا کر کارروائی کرنے کی مکمل اجازت ہے اور وہ اپنے مطلوب اشتہاریوں کو گرفتار کرنے کے لیے بارڈر ملٹری پولیس کے علاقوں میں کارروائی کر سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ضلعی پولیس نے بھی اب تک لاڈی گینگ پر 60 سے 70 ایف آئی آرز درج کر رکھی ہیں جن میں تھانہ کوٹ مبارک اور تھانہ صدر میں بھی قتل، ڈکیتی، بھتہ خوری، چوری وغیرہ کے متعدد مقدمات درج ہیں۔
لاڈی گینگ کے ممبران کی ممکنہ تعداد کے متعلق حمزہ سالک کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق اس گینگ میں 25 سے 30کے قریب لوگ ہی ہیں۔











