بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں بم دھماکہ، کم از کم چھ افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہKhair Muhammad
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن میں بم دھماکے ایک واقعے میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور 14زخمی ہوگئے۔
ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ طارق جاوید مینگل نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ ساجد مہند روڈ پر ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات ہورہی ہیں تاہم جائے وقوعہ پر ایک موٹرسائیکل تباہ حالت میں پڑی تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد اسی موٹر سائیکل میں نصب تھا۔
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ دھماکے میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 14 زخمی ہوگئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے چمن ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہKhair Muhammad
انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے چار کی حالت تشویشناک تھی جنہیں طبی امداد کی فراہمی کے بعد کوئٹہ منتقل کیا گیا۔
یہ دھماکہ ایک ایسے موقع پر ہوا جب فلسطینیوں کی حمایت میں چمن میں جے یو آئی (نظریاتی ) کے زیر اہتمام ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔
اس جلسے میں جے یو آئی نظریاتی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان کے امیر مولانا عبدالقادر لونی اور بعض دیگر رہنما خطاب کے لیے کوئٹہ سے گئے تھے۔
پولیس اہلکار نے بتایا کہ یہ دھماکہ جے یوآئی نظریاتی کے رہنماﺅں کی گاڑیوں کے قریب اس وقت ہوا جب وہ جلسے کے بعد ساجد مہمند روڈ پر رکے تھے۔
تاہم جب ڈپٹی کمشنر سے یہ پوچھا گیا کہ کیا اس دھماکے کا ہدف جے یوآئی نظریاتی کے رہنما تھے تو ان کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کے بعد ہی یہ پتہ چلے گا کہ اس دھماکے کا ہدف کون تھا لیکن ایسے گھناﺅنے کاموں میں جو لوگ ملوث ہیں وہ سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں۔‘
ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ دھماکے میں مولانا عبد القادر لونی اور دیگر رہنما محفوظ رہے۔
جے یوآئی کے مرکزی رہنما عبد الستار چشتی نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
کوئٹہ میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دھماکے میں جے یوآئی کے رہنماﺅں اور کارکنوں کو ہدف بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مارے جانے والے افراد اور زخمی افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق ان کے پارٹی سے ہے۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے اس واقعے کی مذمت کی ہے۔
اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کی غیر ملکی کوششیں جاری ہیں۔
چمن افغانستان سے متصل ضلع قلعہ عبداللہ کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے چمن شمال میں اندازاً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
چمن کی آبادی مختلف پشتون قبائل پر مشتمل ہے۔
یہ نہ صرف افغانستان سے متصل ایک اہم سرحدی شہر ہے بلکہ یہ طورخم کی طرح افغانستان اور پاکستان کے علاوہ وسط ایشائی ریاستوں کے درمیان بھی ایک اہم گزرگاہ ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان آمدروفت اور تجارت کے لیے اہم گزرگاہ ہونے کے علاوہ قندہار اور افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں نیٹو فورسز کی رسد کی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی یہاں سے ہوتی ہے۔
چمن کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جس میں گذشتہ کئی سال سے بم دھماکوں اور بد امنی کے دیگر واقعات پیش آرہے ہیں۔
رواں سال چمن میں بم دھماکے کا یہ دوسرا بڑا واقعہ تھا۔
اس سے قبل 23 مارچ کو ہونے والے ایک بم دھماکے میں تین افراد ہلاک اور13زخمی ہوگئے تھے۔












