بلوچستان: چمن دھماکے میں ایک بچہ ہلاک،16 افراد زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں ایک بم دھماکے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے۔
یہ دھماکہ پاک افغان سرحد کے قریب ہوا۔
چمن میں انتطامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب کسٹمز ہاؤس کے قریب سے سکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی گزر رہی تھی۔
دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے ڈسٹرکٹ ہسپتال چمن منتقل کیا گیا۔
ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اختر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے سے زخمی ہونے والے 17 افراد کو ہسپتال لایا گیا۔
ڈاکٹر اختر کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے ایک دس سالہ بچہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
انھوں نے بتایا کہ زخمیوں میں سے چار کی حالت نازک ہے جن کو علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کیا جارہا ہے۔
فوری طور پر دھماکے کی نوعیت کے بارے میں معلوم نہیں ہوسکا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض اطلاعات کے مطابق اس واقعے کے بعد چمن سے پاکستان اور اور افغانستان کے درمیان سرحد پر سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔
چمن کوئٹہ شہر سے شمال میں تقریباً 110 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
چمن پاکستان اور افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار اور دیگر جنوب مغربی علاقوں کے درمیان ایک اہم سرحدی گزرگاہ ہے۔
چمن میں پہلے بھی بم دھماکوں اور بدامنی کے دیگر واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔
ادھر ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ سے دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔
کیچ میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ لاشیں ضلع کیچ میں ہوشاپ کے علاقے تل سر سے برآمد کی گئیں۔
اہلکار کے مطابق دونوں افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
دونوں افراد کی شناخت ہو گئی ہے ان کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے دمب سے بتایا گیا ہے۔










