پیرنٹل پروٹیکشن آرڈیننس 2021: ’کیا اس ماں کا حق نہیں تھا کہ بیٹا اس کا سہارا بنتا‘

    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

کنیز بیگم (فرضی نام) اپنے شوہر کے ساتھ بنگلہ دیش سے پاکستان کے شہر کراچی منتقل ہوئیں تو ان کے کمسن اکلوتے بیٹے نے سکول جانا شروع نہیں کیا تھا۔ پاکستان آنے کے بعد جلد ہی ان کے خاوند نے اپنا کام شروع کیا تو بیٹے کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کنیز بیگم کے شوہر میں کینسر کی تشخیص ہوئی۔ ان کی جمع پونجی علاج پر خرچ ہوتی رہی لیکن وہ زیادہ عرصہ زندہ نہ رہ سکے۔

شوہر کی موت کے بعد بیٹے کی تمام تر ذمہ داری کنیز بیگم پر آن پڑی۔ اس نسبتاً نئے شہر میں نہ صرف انھیں خود زندہ رہنا تھا بلکہ اپنے بیٹے کو بھی پالنا تھا اور اس کی تعلیم کا خرچ بھی برداشت کرنا تھا۔ کنیز بیگم نے یہ ذمہ داری قبول کی۔

اس کے لیے زیادہ تر انھیں لوگوں کے گھروں میں ملازمہ کے طور پر کام کرنا پڑا تاہم کنیز بیگم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کے بیٹے کی تعلیم کا سلسلہ نہ ٹوٹنے پائے۔ ان کے بیٹے کی تعلیم کا یہ سلسلہ بی کام تک جاری رہا۔

کامرس میں گریجویشن کی ڈگری لینے کے بعد ان کے بیٹے کو نوکریاں ملنا شروع ہوئیں تو کنیز بیگم کو لگا کہ ان کی محنت رنگ لے آئی۔ جلد ہی ان کے بیٹے کو ایک اچھی نجی کمپنی میں نوکری ملی جس کے بعد انھوں نے ایک کمرے کا ایک مکان کرائے پر لے لیا۔

یہ بھی پڑھیے

کنیز بیگم نے اپنے بیٹے کے لیے ایک لڑکی تلاش کر کے ان کی شادی بھی کروا دی۔ اب وہ خود معمر ہو چکی تھیں اور کام کاج نہیں کر سکتی تھیں اس لیے بیٹے اور بہو کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ سنہ 2016 میں ایک حادثے کے نتیجے میں کنیز بیگم کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور وہ ہسپتال پہنچ گئیں۔

ان کی عمر میں ٹانگ کی ہڈی کا جڑنا مشکل نہیں تو دیرپا ضرور تھا جس دوران اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے بھی انھیں سہارے کی ضرورت تھی لیکن کئی روز ہسپتال میں گزرنے کے بعد بھی ان کا بیٹا اور بہو انھیں واپس گھر لے جانے کے لیے نہیں آئے۔

’وہ انھیں گھر لے کر نہیں جانا چاہتے تھے۔ بظاہر ان کی بہو کو ان سے مسئلہ تھا اس لیے وہ دونوں چاہتے تھے کہ ہسپتال سے ان کی والدہ کو معمر افراد کے لیے مخصوص کئیر ہوم بھجوا دیا جائے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کنیز بیگم کی یہ کہانی ثمینہ ورتیجی نے سنائی۔

وہ بتاتی ہیں کہ خود کنیز بیگم کے بیٹے نے انھیں یہ کہانی اس وقت سنائی تھی جب وہ انھیں اور ان کی بیوی کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ وہ اپنی ماں کو گھر لے جائیں۔

والدین کو گھر سے نکالنے والے کو ایک سال قید

پاکستان کے صدر نے حال ہی میں ایک آرڈیننس جاری کیا ہے جس کے مطابق کوئی بھی شخص والدین کو گھر سے نہیں نکال سکے گا چاہے وہ گھر ان کے بہن بھائیوں یا اولاد ہی کے نام پر کیوں نہ ہو۔

پیرنٹل پروٹیکشن آرڈیننس 2021 کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں ماں باپ کو گھر سے بے دخل والے افراد کو ایک سال قید یا جرمانے یا پھر دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون کے مطابق اگر گھر والدین کے نام پر ہو تو وہ اولاد کو گھر سے نکال سکتے ہیں۔

والدین کی طرف سے گھر خالی کرنے کا نوٹس ملنے کے باوجود اگر بچے گھر خالی نہیں کرتے تو انھیں ایک ماہ قید یا جرمانہ یا دونوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو کارروائی کرنے کے اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔

پولیس کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بغیر وارنٹ کے گھر خالی نہ کرنے والوں کو گرفتار کر سکتی ہے تاہم والدین اور بچوں دونوں کو اپیل کرنے کا حق ہو گا۔

ایسے قانون کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

پاکستان کے کئی شہروں میں معمر افراد کے لیے اولڈ ایج ہومز یا کیئر سنٹر کافی عرصہ سے موجود ہیں تاہم تاہم آج بھی مقامی خاندانی روایات میں والدین کو گھروں سے بے دخل کرنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

ثمینہ ورتیجی صوبہ سندھ کے حکومتی ادارے سینیئر سٹیزن کونسل کی ممبر ہیں اور آغا خان یونیورسٹی کے نرسنگ کے شعبہ تعلیم سے معلمہ کے طور پر منسلک رہ چکی ہیں۔ وہ ’ائیر آف دی نرس اینڈ دی مڈوائفس 2020‘ کی عالمی فہرست میں شامل آٹھ پاکستانی خواتین میں سے ایک تھیں۔

ثمینہ ورتیجی بزرگ افراد کی صحت اور نگہداشت کے حوالے سے ایک لمبے عرصے سے کام کرتی رہی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ کنیز بیگم کے بیٹے کے پاس وسائل تھے کہ وہ اپنی والدہ کا خیال گھر پر رکھ سکتے تھے۔

’کنیز بیگم کا بیٹا جس کمپنی میں کام کرتا تھا اس سے انھیں اتنی تنخواہ مل جاتی تھی کہ ان کا اچھا گزر بسر ہو رہا تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کی طرف سے انھیں والدین کے علاج معالجے کے لیے الاؤنس بھی ملتا تھا۔‘

اس کے باوجود کنیز بیگم کے بیٹے اور بہو نے انھیں گھر لے جانے سے مکمل طور پر انکار کر دیا۔ ان کی بہو کو یہ بھی کہا گیا کہ اگر وہ خود ان کی نگرانی نہیں کر پاتیں تو وہ اس کام کے لیے کسی کی مدد لے سکتی ہیں لیکن وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئیں۔

’اولڈ ایج ہوم میں والدین بچوں کے چہروں کو ترس جاتے ہیں‘

کنیز بیگم کے ساتھ والے بستر پر موجود مریض کے لواحقین ان کی باتیں سنتے رہتے تھے اور صورتحال سے واقف ہو گئے تھے۔ انھوں نے کنیز بیگم کے بیٹے کو پیشکش کی کہ وہ اولڈ ایج ہوم کا خرچ برداشت کرنے کے لیے ماہانہ وظیفہ دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔

ثمینہ ورتیجی کو اپنی ایک طالب علم اور کنیز بیگم کی بھانجی کے ذریعے ان کے بارے میں علم ہوا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بیٹے اور بہو کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ وہ اپنی ماں کو اولڈ ایج ہوم نہ بھجوائیں۔

’میں نے دیکھا ہے ان اولڈ ایج ہومز میں آنے والے ماں باپ اپنی اولادوں اور ان کے بچوں کے چہرے دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔‘

’ایک کمرے کے مکان میں ان کی پرائیویسی متاثر ہوتی‘

دوسری جانب ان کی مدد کرنے والے افراد کنیز بیگم کے لیے اولڈ ایج ہوم تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن انھیں کامیابی نہ ہو سکی۔ جس وظیفے کی پیشکش کی گئی تھی وہ اولڈ ایج ہوم کے ماہانہ خرچ سے کم تھا۔ ان کے بیٹے اس سے زیادہ خرچ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

ثمینہ ورتیجی نے بتایا کہ ’وہ مجبوراً کنیز بیگم کو ہسپتال سے گھر لے گئے۔ وہ لے کر جانا نہیں چاہتے تھے۔ ان کی بہو کو پسند نہیں تھا کہ کنیز بیگم انھیں کام کرتے ہوئے ٹوکتی تھیں یا کام کرنے کا کہتی تھیں۔ انھیں یہ بھی مسئلہ تھا کہ ایک کمرے کے گھر میں ان کی پرائیویسی متاثر ہوتی تھی۔‘

ثمینہ ورتیجی کا کہنا تھا کہ یہ مسائل اس نوعیت کے تھے کہ اگر کنیز بیگم کے بیٹے چاہتے تو ان کا حل تلاش کیا جا سکتا تھا تاہم اس کے بعد کنیز بیگم زیادہ عرصہ بیٹے کے گھر میں نہ رہ سکیں۔

’اس طرح والدین کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھ سکتے ہیں‘

ثمینہ ورتیجی سمجھتی ہیں کہ حالیہ صدارتی آرڈیننس کنیز بیگم جیسے معمر افراد کو ان کی اولاد کی طرف سے گھروں سے نہ نکالنے کے حوالے سے مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اگر اس پر صحیح طریقے سے عملدرآمد کیا جائے۔

تاہم بعض ماہرین کا استدلال ہے کہ یہ قانون مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ ماہرِ عمرانیات اور سماجی کارکن ڈاکٹر فرزانہ باری کے خیال میں ’اس طرح کے قوانین سے بزرگ والدین کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے فرزانہ باری کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی اولاد اپنے والدین کو ساتھ نہیں رکھنا چاہتی اور اس قانون کے ذریعے زبردستی انھیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جائے گا تو ردِ عمل میں وہ والدین کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنا سکتے ہیں۔‘

’انھیں جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا

کنیز بیگم کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔ ثمینہ ورتیجی کا کہنا تھا کہ انھیں ملنے والی اطلاعات کے مطابق کنیز بیگم اس کے بعد جتنا عرصہ اپنے بیٹے کے گھر پر رہیں انھیں اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

’وہ بہت بری حالت میں رہ رہیں تھیں۔ ان کی ٹانگ ٹوٹ چکی تھی اور غسل خانے تک جانے کے لیے بھی انھیں سہارے کی ضرورت پڑتی تھی۔ ایسی حالت میں ذہنی اذیت کے ساتھ ساتھ انھیں جسمانی تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔‘

چند ماہ قبل ہی کنیز بیگم کی صحت اس قدر بگڑ گئی تھی کہ وہ ایک مرتبہ پھر ہسپتال پہنچ گئیں۔ اس مرتبہ انھیں سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی اور ہسپتال میں انھیں مسلسل آکسیجن پر رکھنا پڑا۔

تاہم ان کے بیٹے نے انھیں ایک مرتبہ پھر گھر واپس لے جانے سے انکار کر دیا۔ اس دفعہ ان کے لیے ایک اولڈ ایج ہوم تلاش کر لیا گیا اور انھیں وہاں منتقل کر دیا گیا تاہم لگ بھگ دو ماہ قبل کنیز بیگم کی موت ہو گئی۔

معلوم کرنے پر اولڈ ایج ہوم نے ثمینہ ورتیجی کو بتایا تھا کہ کنیز بیگم وہاں محض دو سے تین دن رک پائیں تھیں۔ ان کی حالت زیادہ بگڑ گئی تھی اور وہاں ان کے علاج کے لیے موزوں سہولیات میسر نہیں تھیں۔

انتظامیہ نے کنیز بیگم کے بیٹے کو اطلاع دی تھی اور انھیں کنیز بیگم کو ہسپتال منتقل کرنے یا گھر لے جانے کا کہا تھا۔ وہ اولڈ ایج ہوم آئے ضرور تھے لیکن انھوں نے اپنی والدہ کو ساتھ گھر لے جانے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم اولڈ ایج ہوم کی انتظامیہ کی طرف سے انھیں مزید وہاں رکھنے سے مکمل انکار کی صورت میں بیٹے کو ایک مرتبہ پھر مجبوراً گھر لے جانا پڑا تھا لیکن چند ہی روز میں کنیز بیگم کا انتقال ہو گیا تھا۔

ثمینہ ورتیجی کا کہنا تھا کہ ’شاید گھر پر انھیں آکسیجن وغیرہ بھی نہیں ملی ہو گی اور ان کا علاج بھی نہیں ہو پایا تھا اس لیے جلد ہی ان کی موت ہو گئی۔‘

یہ قانون کتنا مؤثر؟

قانون کے اندر اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ اگر اولاد کی طرف سے والدین کو اذیت کا سامنا ہو تو وہ اولاد کو گھر سے نکال سکتے ہیں۔

تاہم پیرنٹل پروٹیکشن آرڈیننس 2021 کی مخالفت کرنے والوں کے خیال میں زبردستی والدین کو اولاد کے ساتھ رکھنے یا رہنے پر مجبور کرنے میں اسی نوعیت کے خطرات ہو سکتے ہیں جن کا سامنا کنیز بیگم کو کرنا پڑا۔

ڈاکٹر فرزانہ باری کے مطابق اس قسم کے مسئلے پر تحقیق کی بنیاد پر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے مسائل کا شکار افراد کی مدد کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ان کی فوری مدد کے لیے ایسے سینٹر قائم کرے جہاں ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جائے۔

’کیا اس ماں کا حق نہیں تھا کہ بیٹا اس کا سہارا بنتا؟‘

اس کا ایک حل یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ والدین گھر یا ایسے وسائل اپنے پاس رکھیں تاکہ ان کے لیے انھیں اولاد کے سہارے کی ضرورت ہی نہ پڑے تاہم ثمینہ ورتیجی اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتیں۔

ان کے خیال میں پاکستانی معاشرے میں عملاً ایسا کرنا بہت مشکل ہے یا اس کے امکانات انتہائی کم ہوتے ہیں۔

’ہمارے جیسے معاشرے میں ہر والدین کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اپنی اولاد کو دے دیں اور زیادہ تر والدین ایسا ہی کرتے ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہو گا کہ والدین سے زبردستی جائیداد کے کاغذات پر دستخط لیے جاتے ہوں۔‘

ثمینہ ورتیجی کا کہنا تھا کہ انھیں ’یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ جب بیٹا چھوٹا اور بے سہارا تھا اور اس کی ماں نے اپنا پیٹ کاٹ کر اس کو پالا پوسا تو کیا اس ماں کا حق نہیں تھا کہ جب اس کو ضرورت پڑی تو بیٹا بھی اس کا سہارا بنتا؟‘