آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
والدین بچوں پر تشدد کیسے کرسکتے ہیں؟
امریکی ریساست کیلیفورنیا کے رہائشی ڈیویڈ اور لویز ٹرپن پر اپنے بچوں کو باندھ کر رکھنے اور ان پر تشدد کر نے کا الزام ہے۔
لیکن ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی تصاویر کو دیکھا کر جن میں ان کو اپنے بچوں کے ساتھ مختلف مقامات پر سیر و تفریح کرتے دیکھا جاسکتا ہے، ان پر لگنے والے الزامات سمجھ سے بالاتر نظر آتے ہیں۔
ہم نے نفسیاتی ماہرین سے یہ پوچھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ والدین اپنی ہی اولاد پر تشدد کریں۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف ناٹنگم سے وابستہ پروفیسر براؤن کا کہنا ہے کہ عموماً ایسے واقعات وہاں ہوتے ہیں جہاں والدین کا صرف ایک بچہ ہوتا ہے اور وہ اس کی دیکھ بھال مناسب طریقے سے کرنے کے قابل نہیں ہوتے اور بات تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔
ڈاکٹر برنڈ گیلاگر جو بچوں کی حفاظت کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ ’ میں نے بہت سے ایسے واقعات دیکھے ہیں جن میں بچوں کو مناسب خوراک نہ دینا یا مناسب کپڑے نہ پہنانا جیسے مسائل واضح ہوتے ہیں لیکن ایسے واقعات بہت کم دیکھنے کو ملتے جہاں منصوبہ بنا کر بچوں پر تشدد کیا جائے۔‘
کیا والدین مل کر ایسا کر سکتے؟
اس بارے میں لندن کی ویسٹ منسٹر یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ نفسیات پروفیسر کارل ڈینڈو کا کہنا ہے کہ ’جب دو لوگ مل کر کوئی کام کرتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور ان کو ایک دوسرے کا رویہ درست دیکھائی دیتا ہے۔`
ان کہنا ہے کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ والدین میں سے ایک دوسرے کو ایسا کرنے پر راضی کر لیتا ہے۔
اس سارے عمل میں وقت کے ساتھ شدت کیسے آسکتی ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈیویڈ اور لویز کے خلاف مقدمے کی پیروی کرنے والے سرکاری وکیل کے مطابق یہ سارا عمل پہلے بچوں پر عدم توجہ سے شروع ہوا لیکن وقت کے ساتھ اس نے تشدد کی شکل اختیار کر لی۔
لویز ٹرپن کی بہن نے مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تقریباً بیس سال قبل خاندان کے ساتھ ٹھری تھیں اور اپنے قیام کے دوران انھوں نے بچوں پر تشدد ہوتے نہیں دیکھا لیکن والدین کا رویہ یقیناً سخت تھا۔
پروفیسر براؤن کے بقول ایک ایس وقت آجاتا ہے جب والدین اپنے تشدد پر پردہ ڈالنے کے لیے بچوں پر باہر جانے کی پابندی لگا دیتے ہیں تاکہ یہ بات دوسروں تک نہ پہنچ سکے۔
لیکن ایسے والدین کبھی اچھا سلوک اور کبھی برا سلوک کیسے کر سکتے ہیں؟
پروفیسر براؤن کے بقول ایسے لوگ دوہری شخصیت کے مالک ہوتے ہیں ’آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ لوگ باہر بہت اچھا رویہ رکھتے ہیں لیکن گھروں میں وہ ایک آمر کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہوتے ہیں۔‘
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ والدین مذہب معاشرتی روایات کو بھی وجہ بنانا کر بچوں پر تشدد کرتے ہیں۔
اتنے شدید تشدد کو کیسے چھپایا جاسکتا ہے؟
اس بارے میں پروفیسر ڈینڈو کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ بچوں کا باہر کی دنیا سے رابطہ بھی ہو تو وہ ڈر کی وجہ سے کسی سے بات نہیں کرتے۔
ان کے بقول ’اگر آپ دورِ جدید کے جبری مزدوروں کو ہی دیکھیں تو وہ ہر روز باہر کام کے لیے جاتے ہیں، عام لوگوں سے ملتے ہیں لیکن ڈر کی وجہ سے کسی سے بات نہیں کرتے۔ ایسے افراد کو دھمکیوں او بہلا پھسلا کر کنٹرول کیا جاتا ہے۔‘
خیال رہے کہ سامنے آنے والے اس کیس میں بچوں کو سکول نہیں بھیجا جاتا تھا اور گھر میں ہی انھیں تعلیم دی جاتی تھی۔
ماہر نفسیات ڈاکٹر گلیسر کے بقول ’ اگر آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے ہمسائے میں بچے رہتے ہیں، لیکن وہ نظر نہیں آتے یا پھر ان کا رویہ عجیب ہے تو آپ کو اس پر دھیان دینا چاہیے۔‘