کوئٹہ دھماکے: ایمل کاسی اور شاہ زیب شاہد، شب و روز ساتھ گزارنے والے دو دوست جو دنیا سے رخصت بھی اکٹھے ہوئے

کوئٹہ

،تصویر کا ذریعہNiaz Kakar & Facebook\ShahZeb SHahid

،تصویر کا کیپشنایمل کانسی اور شاہ زیب شاہد
    • مصنف, محمد زبیر خان اور محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو کے لیے

’ایمل خان کاسی کے اہلِخانہ اُن کی شادی کی تیاریاں کر رہے تھے، جو عید کے بعد ہونا قرار پائی تھی۔ ایمل چار بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، شاید اسی لیے ان کی شادی دھوم دھام سے ہونی تھی۔ مگر کوئٹہ میں گذشتہ رات ہونے والی دہشت گردی کی کارروائی نے (ان کے خاندان سمیت) کئی لوگوں کو زندہ درگور کر دیا ہے۔‘

یہ الفظ سرینا ہوٹل دھماکے میں ہلاک ہونے والے والے ایمل خان کاسی کے کزن ایاز خان بازئی کے ہیں۔

ایمل خان کاسی اور شاہ زیب محکمہ جنگلات حکومت بلوچستان کے دو نوجوان اہلکار تھے۔

ایمل کاسی سنہ 2018 میں محمکہ جنگلات میں ایڈمن اور فنانس آفیسر کے طور پر بھرتی ہوئے تھے، جبکہ شاہ زیب کی تقرری تین دن قبل ہوئی تھی۔

ایاز خان بازئی بتاتے ہیں کہ ایمل اکثر اوقات سرینا ہوٹل میں اپنے دوست شاہ زیب شاہد سے ملنے اور کافی پینے جایا کرتے تھے کیونکہ محکمہ جنگلات میں تقرری سے قبل شاہ زیب سرینا ہوٹل میں فرنٹ آفس مینیجر کے طور پر کام کرتے تھے۔

واقعے کے روز بھی ایمل کاسی شاہ زیب سے ملاقات کرنے گئے ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ گذشتہ رات صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سرینا ہوٹل کی پارکنگ میں ہونے والے زور دار دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور گیارہ کے زخمی ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ایمل خان کاسی اور شاہ زیب شاہد کون تھے؟

شاہ زیب شاہد

،تصویر کا ذریعہNiaz Kakar

،تصویر کا کیپشنشاہ زیب شاہد

ایمل خان کاسی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ بیوروکریٹ ارباب ظاہر کاسی کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ ان کے والد سیکریٹری کی پوزیشن سے ریٹائر ہوئے ہیں۔

ایمل خان کاسی نے چند ماہ قبل محکمہ وائلڈ لائف میں ملازمت اختیار کی تھی تاہم وہ یونیورسٹی آف بلوچستان سے فنانس میں پی ایچ ڈی بھی کر رہے تھے۔

حال ہی میں ان کا سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک تحقیقاتی مقالہ یورپین جرنل آف ٹیکنالوجی میں بھی شائع ہوا تھا۔

اس کے ساتھ ہلاک ہونے والے ان کے دوست شاہ زیب شاہد نے سنہ 2015 میں یونیورسٹی آف بلوچستان سے کمپیوٹر اور انفارمیشن سائنسز میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔ انھوں نے سنہ 2014 میں سرینا ہوٹل میں ملازمت شروع کی تھی۔

اس سے قبل ایک سال تک وہ پاکستان ٹوبیکو کمپنی میں سیلز پروموشن افسر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے تھے۔

شاہ زیب شاہد نے تعلیم کے ہمراہ اپنی ملازمت بھی جاری رکھی تھی۔

دونوں دوست جو ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہو گئے

قبر
،تصویر کا کیپشنایمل کانسی کو آج مقامی قبرستان میں دفنا دیا گیا

ایاز خان بازئی کا کہنا تھا کہ گھر سے جاتے ہوئے ایمل خان کاسی نے اپنے گھر والوں کو بتایا تھا کہ وہ سرینا میں کافی پینے جا رہے ہیں۔

’اس کا بڑا واضح مطلب ہوتا تھا کہ وہ شاہ زیب شاہد سے ملنے جا رہے ہیں۔ وہ دونوں اکثر دن کا کوئی نہ کوئی وقت ساتھ گزارتے تھے۔‘

بازئی کے مطابق عموماً یہ وقت رات ہی کا ہوتا تھا جب شاہ زیب اپنی نوکری سے فراغت حاصل کر لیتے تھے۔ اُس وقت وہ دوست اکھٹے ہوتے، گپ شپ کرتے، منصوبے بناتے اور ایمل کاسی کچھ دیر کی ملاقات کے بعد واپس گھر چلے جاتے تھے۔

ایاز خان بازئی کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت شاہ زیب، ایمل خان کاسی کو چھوڑنے یا ان کا استقبال کرنے کے لیے پارکنگ تک گئے تھے۔

Mir Aimal Kasi

،تصویر کا ذریعہFacebook\Mir Aimal Kasi

،تصویر کا کیپشنایمل کانسی

کوئٹہ میں دونوں کے ایک مشترک دوست صبور خان کا کہنا تھا کہ ’ایمل خان کاسی اپنی شادی کی تیاریوں میں بھی مصروف تھے اور ان کی شاہ زیب شاہد کے ساتھ ہونے والی آخری ملاقات ممکنہ طور پر شادی کے فنکشن کے حوالے سے تبادلہ خیال اور مشوروں سے متعلق رہی ہو گی۔‘

چار سال تک یونیورسٹی میں ایمل خان کاسی کے کلاس فیلو رہنے والے دلاور خان کا کہنا تھا کہ ہم لوگ سنہ 2008 سے لے کر 2012 تک کلاس فیلو رہے جس کے بعد سب اپنی اپنی ملازمتوں میں مصروف ہو گئے اور مختلف شہروں میں روانہ ہو گئے لیکن اس دوران سب دوستوں کا ایک دوسرے کے ساتھ واٹس ایپ گروپ کے ذریعے رابطہ رہتا تھا۔

دلاور کے مطابق اس واٹس ایپ گروپ کے سب سے فعال ممبر ایمل خان کاسی تھے جو اکثر زمانہِ طالب علمی کی یادیں تازہ کرتے رہتے تھے۔

سرینا ہوٹل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکوئٹہ میں سرینا ہوٹل میں ہونے والے زور دار دھماکے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور گیارہ کے زخمی ہوئے ہیں

دلاور خان کا کہنا تھا کہ ’زمانہِ طالب علمی میں بھی ایمل انتہائی فعال طالب علم تھے۔ وہ نہ صرف تعلیم کے معاملے میں بہت آگے تھے بلکہ غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بہت فعال رہتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جس محفل اور گروپ میں وہ موجود ہوتے تھے وہاں ان کی دلچسپ باتیں قہقہے بکھیر رہی ہوتی تھی۔‘

دلاور نے مزید بتایا کہ ایمل ایک حساس دل رکھنے والے انسان تھے اور اکثر بلوچستان کے غریب افراد کی مدد کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے زمانہ طالب علمی میں کئی ایسے واقعات ہوئے جن میں ہمارے کلاس فیلوز کے لیے فیس اور دیگر اخرجات کی بنا پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اس موقع پر ایمل خان کاسی میدان میں آتے اور ایسے طالب علموں کے لیے نہ صرف فنڈ اکٹھے کرنے کی مہم چلاتے بلکہ خود بھی اس میں حصہ ڈالتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایمل کی وجہ سے کئی لوگ اپنی تعلیم جاری رکھنے میں کامیاب ہوئے اور آج وہ کامیاب اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔‘

ایمل کاسی کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے پروجیکٹ ڈائریکٹر برائے وائلڈ لائف نیاز کاکڑ نے بتایا کہ محکمے کے ایک اور اہلکار شہک رند کو دھماکے سے قبل ایمل کا فون آیا تھا۔ ’ایمل کاسی نے شہک رند کو بتایا تھا کہ وہ سرینا ہوٹل شاہ زیب کے ساتھ چائے پینے جا رہے ہیں۔ اُنھوں نے شہک رند کو کہا تھا کہ وہ بھی کافی پینے سرینا آجائیں۔‘

پروجیکٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف نے بتایا کہ شہک رند نے ایمل کاسی کو بتایا کہ وہ سرینا ہوٹل نہیں آسکتے کیونکہ وہ اس وقت اپنے خاندان کے ساتھ ہیں۔‘

شہک رند نے ایمل کاسی کو بتایا کہ کافی پینے کے بعد ان سے دفتر میں ملاقات ہوگی۔

نیاز کاکڑ نے کہا کہ اس دوران دونوں کی محکمے کے ایک اور اہلکار اویس سے بھی بات ہوئی تھی جنھوں نے ان کو بتایا تھا کہ اُنھوں نے جلیبی خریدی ہے اور دفتر آنے پر چائے کے ساتھ جلیبی کھائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمل کاسی اور یہ لوگ ان کے دفتر کے محنتی لوگوں میں شامل تھے۔ ’اگر دن کو کوئی کام رہ جاتا تھا تو وہ رات کو دفتر آکر وہ کام مکمل کرتے تھے۔‘

اُنھوں نے بتایا کہ ایمل کاسی محنتی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ذہین شخص تھے اور وہ یہاں ملازمت کے ساتھ ساتھ فنانس میں پی ایچ ڈی بھی کر رہے تھے۔

نیاز کاکڑ نے بتایا کہ وہ اپنے والدین کا بھی بہت خیال رکھتے تھے اور چند روز قبل اپنی بوڑھی والدہ کو علاج کے لیے کراچی لے گئے تھے۔

شاہ زیب محکمہ جنگلات میں صرف تین دن کام کرسکے

سرینا ہوٹل کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نئی تقرری سے قبل شاہ زیب سرینا ہوٹل میں مینیجر فرنٹ آفس کے طور پر کام کرتے تھے۔

محکمہ جنگلات کے پروجیکٹ آفیسر نے بتایا کہ شاہ زیب نے 20 روز قبل محکمے کے ایک پراجیکٹ میں خالی آسامیوں کے لیے انٹرویو دیا تھا اور میرٹ پر ان کی تقرری یوئی تھی۔ ’تین روز پہلے جب ان کو کمپیوٹر کے اسسٹنٹ پروگرامر کے آرڈر ملے تو اُنھوں نے مجھ سے ملاقات کی تھی اور مجھے بتایا کہ وہ اس تقرری پر بہت خوش ہیں کیونکہ ان کو نہ صرف مستقل ملازمت ملی بلکہ پہلے جاب کے مقابلے میں تنخواہ بھی بہت زیادہ ہے۔‘

نیاز کاکڑ نے بتایا کہ کوئٹہ میں بہت سارے افسوسناک واقعات اور سانحات ہوئے لیکن اُنھیں سانحہ 8 اگست 2016ء کے بعد اس واقعے پر بہت زیادہ دکھ ہوا۔

آٹھ اگست 2016 کو سول ہسپتال کوئٹہ میں وکلاء پر ہونے والے خودکش حملے میں بڑی تعداد میں وکلاء مارے گئے تھے جن میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور 2007 سے 2009 کے درمیان جاری رہنے والی وکلاء تحریک کے ایک اہم رہنما باز محمد کاکڑ بھی شامل تھے۔

باز محمد کاکڑ نیاز کاکڑ کے بھائی تھے۔

سرینا ہوٹل بم دھماکے اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں میں محکمہ پولیس بلوچستان کے اے ٹی ایف کے اہلکار شجاعت حسین بھی شامل تھے۔

پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد دھماکے کے وقت ہوٹل کے پارکنگ ایریا یا اس کے بالکل قریب موجود تھے۔