کوئٹہ: مسجد میں دھماکہ، ڈپٹی سپرینٹنڈنٹ پولیس سمیت کم از کم 14 افراد ہلاک، متعدد زخمی

کوئٹہ دھماکہ
،تصویر کا کیپشندھماکے سے متاثر ہونے والی مسجد میں وقوعہ کے مناظر
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے علاقے سیٹلائیٹ ٹاﺅن میں بم کے ایک دھماکے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں پولیس کے ڈی ایس پی امان اللہ بھی شامل ہیں۔ وہ پولیس ٹریننگ کالج سریاب روڈ پر فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

ایک ماہ قبل سریاب روڈ کے علاقے میں ان کے نوجوان بیٹے نجیب اللہ کو بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے کہا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں مختلف پہلوﺅں سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

کوئٹہ دھماکہ

،تصویر کا ذریعہBANARAS KHAN

کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں حتمی بات کرنا قبل ازوقت ہوگا لیکن خدشہ یہ ہے کہ یہ خودکش حملہ ہوسکتا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ شہر کے اندر بڑی مساجد پر سکیورٹی سخت ہے لیکن گلی کوچوں میں مساجد کی سکیورٹی کا تھوڑا بہت مسئلہ ہوتا ہے۔ ’دشمن نے گلی کوچے کی اس مسجد کو اپنے لیے آسان ٹارگٹ سمجھ کر حملہ کیا‘۔

سیٹلائیٹ ٹاﺅن پولیس سٹیشن کے ایک اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ اس علاقے میں واقع مدرسہ دارالعلوم الشرعیہ کے مسجد کے اندر نماز مغرب کے دوران ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ نماز مغرب کی دوسری رکعت کی ادائیگی کے دوران ہوا۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکے کے باعث مسجد کے اندر اندھیرا چھا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

دھماکہ

دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کو سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کیا گیا ہے۔

سول ہسپتال کوئٹہ کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں 14 افراد ہلاک اور21 زخمی ہوئے ہیں۔

زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں کوئٹہ پولیس کے ڈی ایس پی امان اللہ بھی شامل ہیں۔

تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مدرسے میں ڈی ایس پی کو بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا یا اس کا ہدف کوئی اور تھا۔

دھماکہ کے بعد امداد

پولیس اہلکار نے بتایا کہ دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے ۔

کوئٹہ شہر میں یہ نئے سال کے دس دنوں میں دوسرا دھماکہ تھا۔

تین روز قبل شہر کے اندر لیڈی ڈفرن ہسپتال کے قریب ایک دھماکے میں دو افراد ہلاک اور 8 افراد زخمی ہوئے تھے۔

لیڈی ڈفرن ہسپتال کے قریب سیکورٹی فورسز کی گاڑی کو ہدف بنایا گیا تھا۔

کوئٹہ کی مساجد کے اندر دھماکے

کوئٹہ شہر میں رواں سال کسی مسجد کے اندر یہ اپنی نوعیت کا پہلا دھماکہ تھا تاہم اس سے قبل بھی مساجد کے اندردھماکے ہوتے رہے ہیں۔

گذشتہ سال بھی کوئٹہ شہر میں دو اہم مساجد میں بم دھماکے ہوئے۔ جن میں سے ایک پشتون آباد کے علاقے میں مئی کے مہینے میں ہوا تھا جس میں امام مسجد سمیت تین افراد ہلاک اور19زخمی ہوئے تھے۔

2019ء میں اگست کے مہینے میں ایک اور بم دھماکہ نواحی علاقے کچلاک کے ایک مدرسے کے مسجد کے اندر ہوا تھا۔ کچلاک میں ہونے والے اس بم دھماکے میں چار افراد ہلاک اور 25زخمی ہوئے تھے۔ کچلاک میں مسجد کے اندر ہلاک ہونے والوں میں افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ کے بھائی بھی شامل تھے۔

10جنوری سے کوئٹہ کی تلخ یادیں وابستہ

کوئٹہ میں سیٹلائیٹ ٹاﺅن کے مسجد میں ہونے والے اس بم دھماکے سے پہلے بھی کوئٹہ کی دس جنوری سے تلخ یادیں وابستہ ہیں۔

دس جنوری 2013 کو کوئٹہ شہر میں علمدار روڈ پر دو خود کش حملہ ہوئے تھے۔

ان میں سے ایک خود کش حملہ ایک سنوکر کلب میں ہوا تھا۔ جب اس دھماکے کے بعد ریسکیو ورکرز اور عام لوگوں کی بڑی تعداد میں عام افراد جائے وقوعہ پر پہنچے تھے تو کلب کے باہر دوسرا دھماکہ ہوا تھا۔

دونوں دھماکوں میں 105 افراد ہلاک اور169 زخمی ہوئے تھے۔

2013ء میں ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ ترکا تعلق شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبیلے سے تھا۔

ان خود کش حملوں میں ایدھی کے رضا کاروں کے علاوہ صحافی اور کیمرہ مین بھی ہلاک ہوئے تھے۔