تحریکِ لبیک پاکستان: حکومت کا ٹی ایل پی کو تحلیل کرنے کی سمری پیش کرنے، قومی اسمبلی میں قرارداد نہ لانے کا اعلان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مذہبی سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی لگائے جانے کے بعد جمعے کو کابینہ میں اس جماعت کو تحلیل کرنے کے لیے سمری پیش کی جائے گی۔
جمعرات کی دوپہر کو وفاقی کابینہ نے اس تنظیم پر پابندی لگانے کی باقاعدہ منظوری دی جس کے بعد تحریکِ لبیک کا شمار بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں ہوگا۔
یاد رہے کہ رواں ہفتے ملک کے مختلف شہروں میں مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے فرانس مخالف مظاہروں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
مظاہرین نے بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان بھی پہنچایا اور تقریباً دو دن تک مختلف شہروں کی بڑی سڑکوں سمیت قومی شاہراہیں بند کیے رکھیں۔
اس حوالے سے جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور نورالحق قادری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔
شیخ رشید احمد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے بھی قانونی مشاورت کر رہی ہے کہ یہ تنظیم نام بدل کر اپنی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے۔
’اب کوئی قرارداد نہیں آئے گی‘
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ حکومت نے کوشش کی کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے طے پائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ دو سے تین دن میں اس تنظیم کو تحلیل کرنے کی سمری پر بھی عملدرآمد ہو جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایک سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان سے مشاورت کی گئی ہے تاکہ تحریکِ لبیک پاکستان کسی اور نام سے اپنا کام جاری نہ رکھ سکے۔
یہ بھی پڑھیے
تحریکِ لبیک کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ متنازع خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
تاہم شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سفیر کو ملک بدر کرنے سے یورپی یونین وغیرہ سے حالات پیچیدہ ہو جائیں گے۔
اُنھوں نے کہا کہ اب قومی اسمبلی میں فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر کوئی قرارداد نہیں آئے گی۔
’ریاست کا کام منت سماجت کرنا نہیں ہوتا‘
وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور نورالحق قادری نے کہا کہ حکومت نے کوشش کی کہ تحریکِ لبیک ایک مرکزی دھارے کی سیاسی جماعت کے طور پر نظام میں آئے اور اس حوالے سے اُن سے متعدد رابطے اور ملاقاتیں رہی ہیں۔
اُنھوں نے کہا کہ حکومت اسمبلی میں قرارداد کے مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قرارداد کے متن کے بارے میں حکومت کی تجویز یہ تھی کہ اس کے مضمرات ملک کے لیے منفی نہ ہوں اور سفارتی محاذ پر ملک مشکل میں نہ پڑ جائے، لیکن ٹی ایل پی اپنا متن تجویز کر رہی تھی۔
’جب ہمارے اور اُن کے مذاکرات جاری تھے تو بہت سے باخبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ 20 اپریل کو فیض آباد پر بھرپور دھرنا دینے کی تیاری جاری ہے۔‘
’ہم نے اُن کو یہاں تک پیشکش کی کہ ایک متن آپ کا ہے، ایک ہمارا ہے، سپیکر ایک پارلیمانی کمیٹی کا اعلان کریں جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہو، اگر وہ کمیٹی ایک متفقہ متن لے آئے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن وہ بضد تھے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اسی کو مانا جائے اور پارلیمنٹ سے منظور کیا جائے۔‘
اُنھوں نے کہا کہ حکومت اور ریاست کا کام منت سماجت کرنا نہیں ہوتا لیکن حکومت نے مذاکرات کے ذریعے اُنھیں رضامند کرنے کی کوشش کی۔
’فرانسیسی شہری پاکستان چھوڑ دیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دوسری جانب اسلام آباد میں فرانس کے سفارتخانے نے پاکستان میں مقیم اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو ’سنگین خطرات‘ کی بنا پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
فرانسیسی سفارتخانے کی ایک ترجمان نے بی بی سی سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس وقت پاکستان میں مقیم فرانسیسی شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں جاری صورتحال کے پیش نظر ان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
فرانسیسی سفارتخانے کی ترجمان نے وضاحت کی کہ یہ ایڈوائزری محض ایک تجویز ہے اور فرانسیسی شہری اس پر عمل کرنے کے پابند نہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ اس دوران سفارتخانہ بند نہیں ہوگا اور معمول کے مطابق کام جاری رہے گا تاہم ڈیوٹی دینے والے عملے کی تعداد گھٹا دی جائے گی۔
بی بی سی نے اس حوالے سے پاکستانی حکومت کا ردعمل جاننے کے لیے وزارت خارجہ سے رابطہ کیا تاہم ان کی جانب سے اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
کسی سفیر کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دینے کے کیا اثرات ہوتے ہیں؟
سابق سفیر عاقل ندیم کا کہنا ہے کہ امن وامان کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگر کسی ملک کا سفارت خانہ اپنے شہریوں کو اُس ملک کو چھوڑنے کا کہتا ہے تو بین الاقوامی سطح پر ایسے ملک کا تشخص خراب ہوتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان میں فرانس کے سفارت خانے کی طرف سے اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کے بارے میں جو ہدایات کی گئی ہیں وہ تشویش ناک امر ہے اور حکام کو اس معاملے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر کسی ملک میں امن وامان کی صورت حال خراب ہو تو ایسے حالات میں نہ تو غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آتی ہے اور نہ ہی ملکی سیاحت فروغ پاتی ہے۔
تحریکِ لبیک پاکستان کیا چاہتی ہے؟
فرانسیسی جریدے چارلی ایبڈو نے ستمبر 2020 میں پیغمبر اسلام کے وہ خاکے پھر سے شائع کیے تھے جن کی بنا پر سنہ 2015 میں اس پر حملہ ہوا تھا۔
اس کے بعد سے تحریکِ لبیک کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ متنازع خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔
اس کے بعد پاکستان سمیت پوری مسلم دنیا میں ایک غم و غصے کی لہر دیکھنے میں آئی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کے صدر اردوغان سمیت کئی رہنماؤں نے بھی فرانس پر تنقید کی۔
پاکستان میں تحریکِ لبیک کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان فرانسیسی سفیر کو فوراً ملک بدر کر کے پیرس سے تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
فرانسیسی سفیر کی ملک بدری اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے خادم رضوی کی قیادت میں تحریک لبیک نے گذشتہ برس نومبر میں دھرنا دیا اور اس کے بعد حکومت کے ساتھ پہلا معاہدہ نومبر 2020 میں کیا۔
خادم حسین رضوی کی وفات کے بعد فروری 2021 میں سعد رضوی کی قیادت میں حکومت نے جماعت کے ساتھ ان کے مطالبات کے حوالے سے دوسرا معاہدہ کیا۔
اس کے تحت حکومت نہ صرف 20 اپریل 2021 تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے لیے تحریک پارلیمان میں پیش کرے گی بلکہ فورتھ شیڈول میں شامل تحریک لبیک کے تمام افراد کے نام بھی فہرست سے خارج کر دیے جائیں گے۔
تاہم رواں ہفتے کے اوائل میں سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد تحریکِ لبیک کے کارکنوں کی جانب سے ملک بھر کے مختلف شہروں میں ہنگامہ آرائی کے بعد اب حکومت نے اس جماعت پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ اعلان کیا ہے کہ اب اس حوالے سے کوئی قرارداد پارلیمان میں نہیں آئے گی۔













