کورونا وائرس: دس ڈالر والی روسی ویکسین کی قیمت پاکستان میں اتنی زیادہ کیوں؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, سارہ عتیق
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں جہاں حکومت کی جانب سے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز یعنی طبی عملے اور 60 سال سے زائد عمر والے افراد کو کورونا سے بچاؤ کی مفت ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے وہیں نجی دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے بھی فروخت کے لیے ویکسین درآمد کی جا رہی ہیں۔
تاہم دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے درآمد شدہ کورونا ویکسینز کی قیمتوں کا تعین ابھی کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں ادویات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی جانب سے روسی ویکسین سپٹنک کی دو خوراکوں کی قیمت 8449 روپے جبکہ ایک خوراک پر مشتمل چین کی کونویڈیشیا ویکسین کی قیمت 4225 روپے منظوری کے لیے کابینہ کے پاس بھیجی گئی ہے۔
تاہم ان ویکسینز کو درآمد کرنے والی نجی کمپنیوں نے اعتراض کیا ہے کہ انھوں نے یہ ویکسین زیادہ قیمت میں درآمد کی ہے، جس کے بعد کابینہ نے ڈریپ کو ان قیمتوں پر نظرثانی کی ہدایت کی ہے، اور اب امکان ہے کہ ان ویکسینز کی قیمت تجویز شدہ قیمت سے بھی زیادہ ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے پہلے مرحلے میں روس میں بننے والی سپٹنک ویکسین اور چین میں بننے والی کونویڈیشیا ویکسین درآمد کی جا رہی ہے لہٰذا حکومت کی جانب سے ابھی ان ہی دو ویکسینز کی قیمتوں کا تعین کرنے کا عمل جاری ہے۔
کورونا ویکسین کی قیمت کا تعین کیسے ہوگا؟
ڈریپ کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عموماً درآمد کی جانے والی ادویات کی قیمتوں کا تعین ہمسایہ مملک جیسے کہ انڈیا اور بنگلہ دیش میں اس دوا کی قیمت کو دیکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، تاہم کورونا ویکسین کی قیمتوں سے متلعق ابھی اتنی معلومات دستیاب نہیں ہیں، اس لیے ان کی قیمت کا تعین ڈریپ کے 2018 کے قوانین میں درج شدہ فارمولے کے تحت کیا جائے گا۔
اس فارمولے کے مطابق تیار شدہ کورونا ویکسین کی حتمی قیمت کمپنی کی جانب سے ویکسین کی درآمد پر آنے والی قمیت (لینڈنگ کوسٹ) جمع 40 فیصد مارک اپ ریٹ یعنی منافع ہوگی، جبکہ بڑے پیمانے پر درآمد اور مقامی طور پر پیک ہونے والی ویکسین کی قیمت کمپنی کی جانب سے ویکسین کی درآمد پر آنے والی قیمت (لینڈنگ کوسٹ) جمع 40 فیصد مارک اپ جمع اس کی پیکنگ پر آنے والی لاگت ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس فارمولے کے تحت ڈریپ نے جو قیمتیں تجویز کی ہیں اس پر وفاقی کابینہ نے سمری پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیتے ہوئے ڈریپ کو روسی ویکسین سپٹنک کی قیمت پر نظرثانی کرنے کی ہدایت کی ہے کیوں ڈریپ کی مجوزہ قیمت پر ویکسین درآمد کرنے والی کمپنی نے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
دس ڈالر والی روسی ویکسین کی قیمت پاکستان میں اتنی زیادہ کیوں؟
ڈریپ کی جانب سے روسی ویکسین سپٹنک کی قیمت 8449 روپے تجویز کرنے کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں سپٹنک کی قیمت 10 ڈالر یعنی 1559 روپے ہے تو پاکستان میں اس کی تجویز شدہ قیمت آخر اتنی زیادہ کیوں ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
روسی ویکسین سپٹنک دو خوراکوں پر مشتمل ہے اور کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق ایک خوراک کی قیمت 10 جبکہ دو خوراکوں کی قیمت 20 ڈالر ہے۔
پاکستان میں سپٹنک درآمد کرنے والی دوا ساز کمپنی اے جی پی کے مطابق جب ڈریپ کی جانب سے ان سے قیمت کی تجویز مانگی گئی تھی تو انھوں نے اس کی قیمت 30 ڈالر دی تھی تاہم وقت کے ساتھ مارکیٹ میں سپٹنک کی مانگ میں اضافہ ہوا اور جب انھوں نے اسے درآمد کیا تو سپٹنک کی دو خوراکوں پر لاگت 45 ڈالر روپے آئی اور کمپنی اس قیمت پر یہ ویکسین درآمد کر چکی ہے جو کراچی کے سرد خانے میں محفوظ ہے۔
جب اے جی پی کے ایک اہلکار سے یہ سوال کیا گیا کہ 20 ڈالر میں دستیاب سپٹنک کو 45 ڈالر میں کیوں خریدا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سپٹنک بنانے والی کمپنی کی جانب سے منفی تین سے منفی آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کی جانے والی ویکسین کی قیمت 20 ڈالر ہے جو کہ اس وقت دستیاب نہیں۔
اُنھوں نے بتایا کہ ویکسین کی یہ قسم مئی کے بعد فروخت کے لیے دستیاب ہوگی جبکہ کمپنی کی جانب سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کی جانے والی سپٹنک ویکسین کو درآمد کیا گیا ہے جس کی قیمت مانگ بڑھنے کی وجہ سے 30 سے 45 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔
اے جی پی کا کہنا ہے کہ ڈریپ کی جانب سے تجویز شدہ قیمت کمپنی کو آنے والی لاگت سے کم ہے لہٰذا کمپنی نے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جس کے بعد حکومت نے ڈریپ کو اس پر نظرثانی کرنے کا حکم دیا ہے۔
درآمد شدہ ویکسین کہاں اور کب دستیاب ہوگی؟
روسی ویکسین سپٹنک کو فروخت کے لیے درآمد کر لیا گیا ہے جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دوا ساز کمپنی اے جے پی چینی ویکسین کی 10 ہزار خوراکیں 25 مارچ تک درآمد کر لے گی، تاہم یہ ویکسینز حکومت پاکستان کی جانب سے قیمتوں کے تعین کے بعد ہی استعمال کے لیے دستیاب ہوں گی۔
یہ ویکسین عام کیمسٹ کے پاس دستیاب نہیں ہوں گی بلکہ صرف منظور شدہ ہسپتالوں میں ہی اس ویکسین کو فراہم کیا جائے گا۔
اے جی پی کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے قیمت کا تعین کرنے کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر اندر اسے عوام کے استعمال کے لیے فراہم کر دیا جائے گا۔











