سندھ ادبی میلے میں بلوچستان پر سیشن منسوخ: ’یہ ثابت کرتا ہے ہمیں اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں ہے‘

سندھ ادبی میلہ
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کراچی میں جاری سندھ ادبی میلے کے تیسرے روز بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کے لیے مجوزہ پروگرام کو منسوخ کر کے آڈیٹوریم کو بند کر دیا گیا۔

اس سیشن کے شرکا میں بلوچستان کے صوبائی وزیر ظہور بلیدی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ، سینئر سیاست دان اور بلوچ یکجہتی کاؤنسل کے رہنما یوسف مستی خان، بلوچ دانشور و ادیب ڈاکٹر شاہ محمد مری اور طلبا رہنما ماہرنگ بلوچ مدعو تھے جبکہ میزبان کے فرائص بلوچ ادیب عابد میر نے انجام دینے تھے۔

اس پروگرام سے چند گھنٹے قبل مقررین کو آگاہ کیا گیا کہ یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ اس پروگرام کو سننے کے لیے بڑی تعداد میں بلوچ طلبہ و طالبات، سیاسی و سماجی کارکن موجود تھے۔

سندھ لٹریچر فیسٹیول کے ایک آرگنائزر نے بی بی سی کو بتایا کہ مقررین میں سے صوبائی وزیر ظہور بلیدی، ثنا بلوچ اور یوسف مستی خان کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ پروگرام منسوخ کیا گیا ہے۔

جب انھیں بتایا گیا کہ یوسف مستی خان تو آچکے ہیں تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ میلے کے منتظمین کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے پروگرام میں شرکت سے انکار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ

،تصویر کا ذریعہCourtesy SLF

آرٹس کونسل کے ممبر گورننگ باڈی ڈاکٹر ایوب شیخ کا پروگرام کی منسوخی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’پروگرام، موضوع اور مہمان میلے کے منتظمین کی ذمہ داری تھی۔ آرٹس کاؤنسل نے صرف جگہ فراہم کی تھی۔‘

اس تین روزہ ادبی میلے میں خواتین کی صحت، خواتین کی تحریک، بچوں کی جنسی استحصال سے لے کر، سندھی معاشرے کی نشوونما، صحافی اور صحافتی ادارے، جمہوری اداروں سمیت دیگر موضوعات پر بحث مباحثے منعقد کیے گئے۔

اس کے علاوہ مشاعرہ اور محفل موسیقی بھی منعقد کی گئی۔ پاکستان آرٹس کاؤنسل میں منعقد اس چوتھے ادبی میلے کا اتوار کو تیسرا اور آخری دن تھا۔

مجوزہ پروگرام کے میزبان عابد میر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ظہور بلیدی دو روز قبل اپنی مصروفیت کے بارے میں آگاہ کر چکے تھے جبکہ ثنا بلوچ اسلام آباد میں تھے اور انھوں نے بتایا تھا کہ وہ زوم یا سکائپ پر دستیاب ہوں گے۔‘

عابد میر نے یہ واضح کیا کہ ’شاہ محمد مری نے ہرگز شرکت سے انکار نہیں کیا تھا۔ انھیں پروگرام سے صرف ایک گھنٹہ قبل آگاہ کیا گیا اور اس کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ صرف اتنا معلوم ہوا کہ میلے کے منتظمین کو اس کے پارٹنر ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ یہ سیشن منسوخ کیا جائے۔‘

سندھ ادبی میلہ

،تصویر کا ذریعہSindh Literature Festival

اس فیصلے سے ادبی میلے کے شرکا لاعلم تھے اور جب بچوں کے جنسی استحصال پر ایک سیشن جاری تھا تو انسانی حقوق کمیشن کے رہنما اسد اقبال بٹ نے الزام عائد کیا کہ بلوچستان پر ہونے والا پروگرام دباؤ ڈال کر منسوخ کرایا گیا جبکہ اس کے مقررین یہاں موجود تھے جن میں یوسف مستی خان علالت کے باوجود آئے تھے۔

اسد اقبال کا کہنا تھا کہ ’اس عمل سے بلوچستان کی عوام کو اچھا پیغام نہیں جائے گااور وہ سوچیں گے کہ ہم ان کی بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسد بٹ کا کہنا تھا کہ ’انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ریاستی ادارے جس طرح سے معاملات کو ہینڈل کرتے ہیں وہ بجائے بہتری لانے کے مزید خرابی اور نفرتیں پھیلاتے ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہاس پروگرام میں تمام سپیکرز موجود تھے اور انتظامات مکمل تھے اور پروگرام منسوخ ہونے کی وہ مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ بہت غلط ہے اور ایسے اقدامات سے لوگوں کو دوسری جانب دھکیلا جا رہا ہے۔

سندھ ادبی میلہ

آرٹس کاؤنسل میں اس اچانک صورتحال کی وجہ سے بلوچ طلبہ، طالبات اور سیاسی کارکن پریشانی کا شکار ہو گئے۔

کچھ نے آرٹس کونسل کے کسی حصے میں سیشن جاری رکھنے کا مشورہ دیا جبکہ کچھ نے قریب ہی واقع پریس کلب جا کر احتجاج ریکارڈ کرانے کی تجویز دی۔

بعد میں نصف کلومیٹر دور واقع پولو گراونڈ کی بارہ دری میں سیشن کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد تمام خواتین اور حضرات پیدل چل کر وہاں پہنچے۔

پولو گراونڈ کے سبزے پر فرشی نشست لگا کر اس سیشن کا آغاز کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہ محمد مری کا کہنا تھا کہ ’دوستوں کو کہا گیا کہ اس پروگرام کو منسوخ کریں لیکن ہم زمین کے لوگ ہیں اور زمین پر ہی بیٹھے ہیں۔ ہم نے کب فرمائش کی تھی کہ ہمیں مائیک دیں یہ سیشن دیں اور ٹکٹ دیے کر بلائیں۔‘

سیشن میں شاہ محمد مری اور طلبہ رہنما ماہ رنگ بلوچ سے مزاحمتی سیاست، خواتین کی سیاست میں شمولیت، سماجی علوم اور سائنس سمیت مختلف موضوع پر سوالات کیے گئے۔

ماہ رنگ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’بہت سے لوگ حب چوکی سے لے کر گوادار تک سے خاص طور پر یہ سیشن سسننے کے لیے آئے تھے ۔یہ کتنی بدنظمی اور بداخلاقی ہے کہ کسی قومی رہنما اور دانشوروں کو بلائیں اس کے بعد دو گھنٹے قبل سیشن منسوخ کر دیں اور اس کی کوئی وجہ بھی نہ بتائیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتی ہوں ہم بلوچوں کی بات کبھی سنی ہیں نہیں گئی اور یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ہے کہ ہمیں اظہار رائے کی آزای حاصل نہیں ہے۔ آپ انٹریکیٹو سیشن نہیں رکھ سکتے۔ یہ ایک ڈائیلاگ تھا بنیادی طور پر کہ بلوچستان کیا ہے، اس کے مسائل کیا ہیں ایک طالب علم رہنما، ایک دانشور ایک سینئر سیاست دان کے مذاکرے اور مباحثے سے ریاست یا دباؤ ڈالنے والوں کو آخر کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔‘

سندھ ادبی میلہ

اس سے قبل ادبی میلے میں شاہ محمد مری کے ساتھ ایک خصوصی پروگرام تھا جس میں انھوں نے سندھی اور بلوچوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سندھیوں اور بلوچوں کا رشتہ انتہائی قدیم ہے۔

’ اس سر زمین پر اکٹھے لڑے اور اکٹھے مرے ہیں۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی بلوچوں کو مخاطب ہوئے ہیں ان کا کلام بلوچی میں ترجمہ ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بلوچ کہتا ہے کہ یہ ریاست غیر فطری ہے۔ میں کہتا ہوں کہ دنیا کی ایک ریاست بتاؤ جو فطری ہے ریاست خود ایک غیر فطری چیز ہے اس لیے کہ ریاست گلا گھوٹنے کے لیے ہوتی ہے، کوئی بھی ریاست نہ رضاکارانہ طور پر ہوتی ہے نہ ماں ہوتی ہے۔‘