مبینہ جبری گمشدگی: چار سال قبل صوبہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے حفیظ اللہ محمد حسنی کی والدہ آج بھی ان کی منتظر

بلوچ

،تصویر کا ذریعہSM viral post

    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے چار برس سے لاپتہ شہری حفیظ اللہ محمد حسنی کی والدہ بی بی شاری کی زندگی میں وہ لمحہ سب سے زیادہ خوشی کا تھا جب ان سے حفیظ اللہ کی بازیابی کے لیے بھاری رقم وصول کرنے والے سکیورٹی فورسز کے میجر کو سزا ہوئی۔

دراصل حفیظ اللہ کی والدہ کو اس افسر کو سزا ملنے پر خوشی نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ تو اس لیے خوش تھیں کہ اس کے نتیجے میں آنے والے دنوں میں ان کے بیٹے کی بازیابی کی راہ ہموار ہو گی۔

بی بی شاری نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ جب اس افسر کو سزا ہوئی تو انھیں یہ یقین ہو گیا تھا کہ اب ان کا بیٹا گھر آ جائے گا اور وہ عمر کا بقیہ حصہ بیٹے کی گمشدگی کے غم کے بغیر گزاریں گی مگر افسر کو سزا ملنے کے ایک سال گزرنے کے بعد بھی ایسا نہیں ہو سکا۔

بی بی شاری نے بتایا کہ وہ اب اپنی زندگی کے بقیہ دن اس انتظار میں گزار رہی ہیں کہ کب ان کا بیٹا آئے گا اور اس کے لیے ہر روز ان کی نظریں گھر کے دروازے پر لگی رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

حفیظ اللہ محمد حسنی کون ہیں؟

حفیظ اللہ محمد حسنی کا تعلق بلوچستان کے ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والی سرحدی ضلع چاغی سے ہے۔ وہ چاغی کے ہیڈ کوارٹر دالبندین میں کلی قاسم کے رہائشی ہیں اور پیشے کے اعتبار سے کاشتکار ہیں۔

ان کے چھوٹے بھائی نعمت اللہ نے بتایا کہ وہ تین بھائی ہیں اور حفیظ اللہ نے دالبندین کے قریب چھتر کے علاقے میں ایک ٹیوب ویل کو سنبھالا ہوا تھا اور وہاں زمینوں پر کاشتکاری کرتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ حفیظ اللہ 30 اگست 2016 سے لاپتہ ہیں اور ان کے انتظار میں ان کی والدہ اور خاندان کے لوگ ایک اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔

دو ڈھائی سال کے انتظار کے بعد حفیظ اللہ کی خواتین رشتہ داروں نے کوئٹہ میں ان کی بازیابی کے لیے کچھ دن علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بھی حصہ لیا تھا۔ یہ کیمپ طویل عرصے سے بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے قائم ہے۔

اس احتجاج میں حفیظ اللہ کی چھوٹی بیٹی بھی اپنی والدہ اور دادی شاری کے ساتھ محمد حسنی کی تصویر تھامے نظر آتیں تھیں۔

بی بی سی

حفیظ اللہ کی گمشدگی کے حوالے سے خاندان کا موقف

حفیظ اللہ کے چھوٹے بھائی نعمت اللہ نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو سکیورٹی فورسز کے ایک میجر نے 30 اگست 2016 کو ان کے گھر کلی قاسم خان سے لے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے لوگوں کا خیال تھا کہ شاید ان کے بھائی کو کسی تفتیش کے لیے لے جایا گیا ہے اور تفتیش کا عمل مکمل ہونے کے بعد ان کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن طویل عرصے تک ان کا کوئی اتا پتا نہیں مل سکا۔

انھوں نے بتایا کہ جب بھائی طویل عرصے بعد بھی نہ گھر آیا اور نہ انھیں یہ بتایا گیا کہ وہ کہاں ہیں تو خاندان کی تشویش میں اضافہ ہواجس کے بعد انھوں نے میجر سے رابطہ کیا۔

حفیظ اللہ کے بقول میجر نے ان کی بازیابی کے لیے بھاری رقم کا مطالبہ کیا۔

نعمت اللہ نے بتایا کہ انھوں نے اپنی بعض جائیدادیں اونے پونے بھیچنے کے علاوہ رشتہ داروں اور دیگر افراد سے قرضہ لیکر 68 لاکھ روپے اکٹھے کرکے اس میجر کو ادا کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کی ادائیگی کے بعد ان کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ اب ان کے بھائی کو چھوڑ دیا جائے گا لیکن اس کے باوجود ان کی بازیابی عمل میں نہیں آئی جس کے بعد انہوں نے دالبندین میں اس سیکورٹی فورس کے ہیڈکوارٹر سے رابطہ کیا جس سے یہ افسر وابستہ تھے۔

نعمت اللہ کے مطابق اس کے بعد میجر کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا اور انھیں سزا ہوئی۔

پاکستانی فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

سرکاری موقف

حفیظ اللہ کے خاندان کے اس الزام کے بعد مذکورہ میجر کا فیلڈ جنرل کورٹ مارشل ہوا تھا۔

فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے دوران انھیں اختیارات سے تجاوز کا مرتکب پاتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے اگست 2019 میں اس حوالے سے جو بیان جاری کیا گیا تھا اس میں یہ کہا گیا تھا کہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی سزا کی توثیق کی ہے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’مسلح افواج کو اپنے اداراتی احتسابی نظام کا احساس ہے ۔اس لیے اس افسر کو ملازمت سے برطرف کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔‘

سیکورٹی فورسز کے افسر کی سزا کے باوجود حفیظ اللہ کی بازیابی ممکن نہیں ہو سکی ہے۔

حفیظ اللہ کے چھوٹے بھائی نعمت اللہ نے بتایا کہ جب یہ بات ثابت ہوئی کہ مذکورہ افسر نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو ان کے خاندان کو ایک بار پھر حفیظ اللہ کی بازیابی کی امید پیدا ہوئی لیکن تاحال وہ بازیاب نہیں ہو سکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھائی کی گمشدگی کے باعث ان کا خاندان اذیت ناک مسائل سے دوچار ہے۔

’ایک طرف بھائی لاپتہ ہے تو دوسری جانب سکیورٹی فورسزکے میجر کو پیسے دینے کے لیے جن لوگوں سے قرضہ لیا گیا تھا اب وہ لوگ ان کے خاندان کو قرضے کی واپسی کے لیے تنگ کر رہے ہیں۔‘

نعمت اللہ کا مطالبہ ہے کہ مذکورہ افسر سے ان کے بھائی سے متعلق پوچھ گچھ کی جائے تاکہ ان کی بازیابی ممکن ہو سکے۔

انھوں نے حکومت اور سکیورٹی سے متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ وہ ان کے خاندان کو اذیت ناک صورتحال سے نجات دلوانے کے لیے ان کے بھائی کی بازیابی کو یقینی بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر ان کے بھائی کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا تو وہ ان کی بازیابی کے لیے 20 ستمبر کو لانگ مارچ کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔