شادی پر شیر کے بچے کی وائرل تصویر کے بعد محکمہ وائلڈ لائف کی تحقیقات

،تصویر کا ذریعہFacebook
- مصنف, محمد زبیر خان
- عہدہ, صحافی
لاہور کے محکمہ وائلڈ لائف نے سوشل میڈیا پر ایک نئے شادی شدہ جوڑے کی شیر کے بچے کے ساتھ وائرل ہونے والی ویڈیو اور تصاویر کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
شادی کی تصاویر بنانے والے سٹوڈیو کا کہنا ہے کہ شیر کے بچے کو تصاویر میں بعد میں شامل کیا گیا ہے اور تصویر کے موقع پر شیر وہاں موجود نہیں تھا۔
’جوڑے اور تصاویر بنانے والے سٹوڈیو نے غیر قانونی کام کیا ہے‘
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیو میں ایک نئے شادی شدہ جوڑے کو ایک شیر کے بچے کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس دوران وہ مختلف پوز لے کر شیر کے بچے کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو بنواتے ہیں۔
شیر کے بچے کے ساتھ تصاویر بنوانے کا بظاہر مقصد اپنی شادی کی تصاویر اور ویڈیو کو یادگار بنانا ہو سکتا ہے۔
وائلڈ لائف لاہور کے ڈی ایف او تنویر جنجوعہ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت پنجاب اور وائلڈ لائف پنجاب نے کچھ شرائط کے ساتھ جنگلی حیات کی افزائش کے لیے ’بریڈنگ فارم‘ کی اجازت دے رکھی ہے جس کا لائنس حاصل کرنے کے بعد ایسی جنگلی حیات کی جن کی پاکستان میں آماجگاہیں نہیں ہیں اور وہ پاکستان کی مقامی جنگلی حیات نہیں ہیں، بریڈنگ اور فارمنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن حکام کے مطابق اس میں کسی بھی صورت میں نمائش کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے اور یہ کہ جوڑے اور تصاویر بنانے والے سٹوڈیو نے تصاویر اور ویڈیو بنوا کر غیر قانونی کام کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سٹوڈیو اور جوڑے پر کم از کم ایک لاکھ روپے جرمانہ یا انھیں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
تنویر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال کے مطابق مذکورہ شیر کا بچہ کسی بریڈنگ فارم سے حاصل کیا گیا ہوگا اور ان کے مطابق اس بریڈنگ فارم کے خلاف بھی کارروائی ہو گئی۔
سٹوڈیو کا موقف
شیر کے بچے کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو لاہور کے افضل سٹودیو میں بنوائی گئی ہیں۔ سٹوڈیو کے سوشل میڈیا اکاوئنٹس سے اب ان تصاویر اور ویڈیو کو ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر ابھی بھی یہ گردش کر رہی ہیں۔
افضل سٹوڈیو کے احسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شادی شدہ جوڑے کی تصاویر کے ساتھ شیر کے بچے کی تصاویر بعد میں شامل کی گئیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تصاویر کے موقع پر شیر وہاں موجود نہیں تھا۔
جب ان سے کہا گیا کہ ایسی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں شیر کا بچہ نظر آ رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ویڈیو نہیں بنائی تھی۔‘
احسن کا کہنا تھا کہ یہ تصاویر دس، پندرہ روز پرانی ہیں۔
کیا شیر کا بچہ ’پورے ہوش میں نہیں ہے‘؟
محکمہ وائلڈ لائف لاہور کے ڈی ایف او تنویر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ تصاویر اور ویڈیو میں بظاہر لگ رہا ہے کہ ’شیر کا بچہ بے سدھ ہے۔ وہ کسی قسم کی حرکت نہیں کر رہا، مگر ایسا نہیں ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’محسوس ہوتا ہے کہ یہ تربیت یافتہ ہے۔ اپنے مالک کے ساتھ مانوس ہو چکا ہے اور اس کی ہدایات پر عمل کرتا ہے۔ شادی کی تصاویر اور ویڈیو میں بھی لگتا ہے کہ وہ اپنے مالک کی ہدایات پر عمل کر رہا ہے‘۔
تنویر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ بریڈنگ فارمز میں شیروں اور جنگلی حیات کو تربیت فراہم کی جاتی ہے جس کے بعد وہ انسانوں سے مانوس ہو جاتے ہیں۔
تنویر جنجوعہ کے مطابق یہ افریقی نسل کے شیر کا بچہ ہے جس کی عمر کوئی دو، تین ماہ ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر تنقید
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سوشل میڈیا پر مذکورہ تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد ہی سے اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
سیو دی وائلڈ نے پنجاب وائلڈ لائف سے سوال پوچھا کہ ’کیا آپ کی اجازت سے شیر کے بچے کو تقاریب کے لیے کرائے پر دیا جاتا ہے؟‘
صارف فیصل امین خان کا کہنا تھا ’پتا نہیں لوگوں کے ساتھ کیا غلط ہے۔ جوڑا نئی زندگی کا آغاز کرنے جا رہا ہے اور اس کے لیے ایک جاندار کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کر رہا ہے۔‘
عیسیٰ خان کا کہنا تھا کہ یہ ’ظالمانہ حرکت ہے۔ اس کی اجازت نہیں دی جانے چاہیے۔‘
جبکہ ملیحہ منظور کا کہنا تھا کہ ’نئی زندگی کے آغاز پر کوئی اچھا کام کرنا چاہیے نہ کہ کسی جاندار پر کوئی ظلم کیا جائے‘۔








