عرفان جتوئی: والد کا الزام ہے کہ پیسے نہ دینے پر بیٹے کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا

عرفان جتوئی

،تصویر کا ذریعہRoshan jatoi

،تصویر کا کیپشنعرفان جتوئی
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سندھ کے شمالی ضلع سکھر میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں عرفان جتوئی نامی نوجوان ہلاک ہوگیا ہے۔ عرفان جتوئی کے والدین کا الزام ہے کہ ان کے بیٹے کو سندھ یونیورسٹی جام شورو سے کچھ عرصہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔

سکھر پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب قومی شاہراہ پر جھانگرو کے مقام پر پولیس نے موٹر سائیکل پر سواروں کو روکنے کا اشارہ کیا جس کے بعد فائرنگ ہوئی اور ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا، جبکہ اس کے دیگر ساتھی فرار ہوگئے۔

ایس ایس پی عرفان سموں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والے کی شناخت عرفان خروس کے نام سے ہوئی جو شکارپور کا رہائشی تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم لاڑکانہ بار کے صدر اطہر عباس سمیت اغوا برائے تاوان، ڈکیتیوں اور گاڑیوں چھیننے کے 18 سے زائد مقدمات میں مطلوب تھا۔ یہ مقدمات، میرپورخاص، ٹنڈ والہیار، خیرپور، سکھر، نوابشاہ سمیت دیگر اضلاع میں درج ہیں۔

عرفان جتوئی سندھ یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی کے طالب علم تھے۔ ان کے والد روشن جتوئی کا دعویٰ ہے کہ وہ امتحان دینے گئے تھے اور انہیں 14 فروری کو ہاسٹل سے دیگر دو لڑکوں سمیت حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

روشن جتوئی

،تصویر کا ذریعہRoshan jatoi

،تصویر کا کیپشنروشن جتوئی نے الزام عائد کیا کہ حیدرآباد پولیس نے ان سے 20 سے 25 لاکھ روپے مانگے تھے

انھوں نے تسلیم کیا کہ ان کے بیٹے پر منشیات سمیت دیگر کچھ مقدمات دائر تھے جن میں سے منشیات کے مقدمے میں سے نوابشاہ کی عدالت نے انھیں بری کردیا تھا۔

بیٹے کی گمشدگی کے خلاف انھوں نے ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی اور عدالت نے اس میں آئی جی سندھ پولیس کو نوٹس جاری کیے تھے۔

روشن جتوئی نے الزام عائد کیا کہ حیدرآباد پولیس نے ان سے 20 سے 25 لاکھ روپے طلب کیے تھے۔ انھوں نے واضح کیا تھا کہ وہ یہ رقم نہیں دے سکتے، جس کے بعد ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر ایک جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔ تاہم ایس ایس پی سکھر عرفان سموں نے جعلی مقابلے اور پیسے طلب کرنے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

عرفان جتوئی عرف عرفان خروس کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے پر سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ رہا، جس میں سرکاری حکام سے تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔