سینیٹ الیکشن، ’بڑی خبر یہ ہے کہ اگر گیلانی جیت گئے تو کیا ہو گا‘

سینیٹ الیکشن

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشنسینیٹ کے انتخاب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ووٹ ڈالتے ہوئے
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سینیٹ میں ووٹنگ کا عمل شروع ہونے سے تقریباً ایک گھنٹہ پہلے ہی کئی پارلیمانی ارکان ایک ایک کر کے پہنچنا شروع ہو چکے تھے۔ جہاں ایک روز پہلے علی حیدر گیلانی کے ویڈیو سکینڈل کے نتیجےمیں پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان بچتے بچاتے اور کہتے سنائی دیے کہ 'یہ تو سیٹ اپ تھا،' وہیں مسلم لیگ نواز کی مریم نواز ایوان میں نہ ہونے کے باوجود سب کی گفتگو کا مرکز رہیں۔

سینیٹ کی راہداری میں مختلف کونوں پر کھڑے صحافی سیاسی ارکان کی آمد پر نظریں جمائے پائے گئے وہیں آس پاس پہرے پر کھڑے اہلکاروں کی نظریں اور کان تمام تر سیاسی ارکان اور ان سے متعلق گفت و شنید پر مرکوز تھی۔

الیکشن کمیشن کا عملہ ایوان کے باہر پارلیمانی ارکان کے موبائل فون لیتے ہوئے اور پولنگ بوتھ کا راستہ سمجھاتے ہوئے نظر آئے۔ جبکہ خواتین اور مرد پارلیمان کے لیے دو علیحدہ پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے۔

ایک طرف سے آواز آئی کہ 'آپ کسی کو تلوار کی نوک پر ووٹ دینے پر آمادہ نہیں کر سکتے۔' جبکہ تھوڑی ہی دور سینیٹ کے ایک رکن صحافی سے بات کرتے ہوئے بتاتے ہوئے سنائی دیے 'جو بھی ہو ووٹ تو سارے حفیظ کو جانے والے ہیں۔'

اب یہ بات سب کے علم میں ہے کہ سینیٹ انتخابات کا سب سے بڑا معرکہ اسلام آْباد کی جنرل نشست پر تھا۔ اور اس کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیرِ اعظم کے مشیرِ خزانہ عبد الحفیظ شیخ کے درمیان مقابلہ زور پکڑ گیا۔ جسے حکومت بمقابلہ پی ڈی ایم بھی کہا جا رہا تھا۔

آصف علی زرداری کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کے بطور نمائندے پر سینیٹ کی حد تک رائے یہی تھی کہ 'ان کے انتخاب سے سینیٹ انتخابات میں تھوڑی جان آ گئی۔ ورنہ یہ اتنا بڑا معرکہ نہ بنتا۔'

پولنگ بوتھ میں جانے سے پہلے وفاقی وزیر برائے داخلہ شیخ رشید نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اس ایک نشست کو خاصی اہمیت مل گئی، اور اپنا صوبہ تو انھوں نے کلیئر کر لیا مل بیٹھ کر۔ دوسرے صوبے بھی کلیئر ہو سکتے تھے اگر ایک ایک نمائندہ واپس لے لیتے۔ خیر، پانچ بجے حفیظ شیخ جیت جائیں گے۔'

لیکن ایوان کے اندر ماحول مختلف تھا۔ایوان کے باہر ہونے والی گفتگو کے باوجود حکومتی ارکان اور اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی سے اجتناب کیا۔ یوسف رضا گیلانی جہاں حکمراں جماعت کی نشستوں کے پاس کھڑے بات چیت کرتے نظر آئے، وہیں دوسری جانب عبد الحفیظ شیخ، بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف سے ہنسی مذاق کرتے دکھائی دیے۔

وہیں ایوان کی پریس گیلری میں بیٹھے ایک صحافی نے کہا کہ آج آپ جتنا حفیظ شیخ صاحب کو دیکھنا چاہتے ہیں، ملنا چاہتے ہیں، مل لیں۔ اس کے بعد یہ نظر نہیں آئیں گے۔ اور نہ ہاتھ آئیں گے۔'

'کیا مریم لندن جارہی ہیں؟'

مسلم لیگ ن کی مریم نواز ایوان میں نہ ہوتے ہوئے بھی گفتگو کا مرکز تھیں۔ سینیٹ کے ارکان ہوں یا صحافی سب یہی سوال پوچھتے نظر آئے کہ 'کیا مریم جارہی ہیں؟ اور کیا شہباز شریف آرہے ہیں؟' اس کے بارے میں پاکستان تحریک انصاف سے منسلک ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ 'کوششیں تو یہی ہیں، لیکن بڑے صاحب مریم کو بھیجنے پر راضی نہیں ہیں۔'

انھیں وفاقی وزیر کے کمرے سے سیڑھیاں اتر کر جب مسلم لیگ نواز کے سینیٹر مشاہد حسین سے ملاقات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ 'ہمیں تو ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی ان کے باہر جانے کی۔ ہم مفروضوں پر بات نہیں کرسکتے۔اس وقت مریم کا یہاں رہنا بہت ضروری ہے۔ ان کی وجہ سے پارٹی میں نئی جان آئی ہے۔ اور میرے خیال میں وہ اس نئے کردار میں بہت خوش ہیں۔'

وہیں پیپلز پارٹی کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ہی سابق رکن جو اب پی ٹی آئی کے وفاقی وزیر ہیں نے تجزیہ دیا کہ 'مستقبل تابناک ہے ان کا۔کل کی (حیدرگیلانی کی) ویڈیو سے سب واضح ہوگیا ہے۔ کہ کیا مستقبل ہے پیپلز پارٹی کا۔'

جبکہ مسلم لیگ ن کے ایک رکن نے باتوں کے دوران کہا کہ 'اس ووٹنگ کا نتیجہ کوئی بھی ہو۔ سندھ پی پی کا ہے، بیٹے کا نام مستقبل کے وزیرِ اعظم کی فہرست میں آگیا ہے، آج کا نمائندہ آپ کی مرضی سے ہے۔ تو اس سے زیادہ مضبوط پوزیشن کسے کہہ سکتے ہیں؟'

پی ڈی ایم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پی ڈی ایم کے مستقبل پر سوال

اسی دوران خبر آئی کہ وزیرِ اعظم عمران خان ایوان میں پہنچ گیے ہیں۔ اور تمام تر پی ٹی آئی کہ ارکان ایوان کی طرف دوڑے۔ اور جو دوڑ نہیں سکتے تھے وہ اپنی دفتروں میں ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے۔ایوان میں آمنے سامنے آتے ہی حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اپنے نعرے بلند کیے، جس کو الیکشن کمیشن کے عملے نے فوراً روکنے کا کہا۔

کسی طرح سے جنرل نشست پر ووٹنگ کا نتیجہ اور پی ڈی ایم کے مستقبل پر اس وقت ایک ساتھ بات ہورہی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی کی گئی کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم حکومت کو دفاعی پوزیشن تک تو پہنچا دیا گیا ہے۔

مسلم لیگ کے دفتر میں بات کرتے ہوئے مشاہد حسین نے کہا کہ 'اگر پچھلے کچھ دنوں کا جائزہ لیا جائے تو حکومت دو تین نشستیں ہار چکی ہے۔ 'سندھ، نوشہرہ اور پنجاب سے حکومت نشستیں ہار چکی ہے۔ اب ارکان پر منحصر ہے۔گیلانی کے ہارنے سے کوئی خاص فرق تو نہیں پڑے گا۔'

حالانکہ پریس گیلری میں ہر صحافی کو خبریں پہنچانے والے صحافی ایم بی سومرو نے کہا کہ 'آج کی بڑی خبر یہ نہیں ہے کہ اگر گیلانی صاحب ہار گئے تو کیا ہوگا۔ بلکہ یہ ہے کہ اگر جیت گئے تو کیا ہو گا؟'

اس پر رائے دیتے ہوئے مشاہد حسین نے کہا کہ 'یہ تو بہت بڑی بات ہوجائے گی کہ ایک ایسی حکومت جس کے پیچھے پاکستان کی پوری اسٹیبلشمنٹ ہے، جس کے پاس پورے وسائل ہیں، اور حکومت کو اپنے گھر میں اپنے گڑھ میں اگر پی ڈی ایم کا نمائندہ شکست دیتا ہے تو میں کہوں گا پی ڈی ایم زندہ باد۔ اگر ایسا نہ ہوا، تو دنیا ختم نہیں ہوجائے گی۔ سیاست کا بھی مزہ لینا چاہیے۔'