سینیٹ الیکشن میں خفیہ کی بجائے اوپن بیلٹ کے لیے سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس دائر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
صدر پاکستان عارف علوی نے پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق قانونی رائے طلب کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ یہ صدارتی ریفرنس پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں دائر کیا ہے۔
اس صدارتی ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ماضی میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات آئین کے تحت نہیں کروائے گئے جبکہ آئندہ سال سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت کروایا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ سینیٹ کے الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس صدرمملکت عارف علوی نے وزیرِاعظم کی تجویزپر سپریم کورٹ میں دائر کیا ہے۔ اس ریفرنس میں آئین میں ترمیم کیے بغیر متعلقہ قانون میں خفیہ بیلٹ سے متعلق شق میں ترمیم کرنے پر بھی رائے مانگی گئی ہے۔
ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آئے گی جبکہ خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔
صدر نے ریفرنس میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ سینیٹ میں خفیہ بیلیٹنگ سے ارکان کی خرید و فروخت میں منی لانڈرنگ کا پیسہ استعمال ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر عارف علوی نے اس ریفرنس میں دو سابق حکمران جماعتوں جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز شامل ہیں کے درمیان ہونے والے میثاق جمہوریت کا بھی حوالہ دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دو سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف اس بات پر متفق تھے کہ ملک میں انتخابات شفاف طریقے سے ہونے چاہیں۔
’ان دو جماعتوں کے علاوہ متعدد سیاسی جماعتوں نے بھی شفاف انتخابات کی بات کی ہے۔‘
واضح رہے کہ اس وقت پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت حزب اختلاف کی جماعتیں وزیر اعظم عمران کے اس فیصلے کی مخالفت کر رہی ہیں جس میں انھوں نے صدارتی ریفرنس کے ذریعے شو آف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ انتخابات کرانے کی رائے طلب کی ہے۔
کیا حکومت ’شو آف ہینڈ‘ سے پیچھے ہٹ گئی ہے؟

،تصویر کا ذریعہPID
سپریم کورٹ میں دائر کیے گئے صدارتی ریفرنس میں شو آف ہینڈ کے بجائے اوپن بیلٹنگ پر رائے مانگی گئی ہے جبکہ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ اُن کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمان میں قانون سازی کے ذریعے سینیٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری کے بجائے ’شو آف ہینڈ‘ کا طریقہ کار اپنایا جائے۔
عمران خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’آئینی ترمیم کے ذریعے سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈ ہو گا۔۔۔ ایم پیز کو پیسے دے کر ووٹ خریدے جاتے ہیں۔ ہم سینیٹ کے الیکشن میں کرپشن ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات میں شو آف ہینڈ ممکن نہیں ہے۔
انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کے بیان کی وضاحت دیتے ہوئے تشریح کی کہ عمران خان کے شو آف ہینڈ سے مراد ان انتخابات کا انعقاد شفاف طریقے سے کیا جائے تا کہ ووٹوں کی خرید و فروخت ممکن نہ ہو سکے۔
صدارتی ریفرنس میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں اخبارات میں بھی متعدد مضامین لکھے گئے لیکن بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔
صدارتی ریفرنس میں سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کروانے کے لیے انڈیا کے آئین کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انڈیا نے سنہ 2003 میں ایوان بالا کے ممبران کا انتخاب اوپن بیلٹ سے کرانے کی ترمیم کی اور ایوان بالا کے ممبران کی خفیہ رائے شماری کا عمل ختم کر دیا۔
ریفرنس کے مطابق اوپن بیلٹ کے ذریعے ہونے والے انتخابات سے عوام کا اعتماد بحال ہو گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خیال رہے کہ متحدہ اپوزیشن عمران خان کی حکومت کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کر رہی ہے اور انھوں نے حکمران جماعت تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بارہا ’سلیکٹڈ‘ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ سنہ 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کو اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت حاصل تھی۔
اوپن بیلٹ کا طریقہ کار کیا ہے؟
اٹارنی جنرل آفس کے مطابق اوپن بیلٹ سے مراد یہ ہے کہ جو بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کا رکن سینیٹ کے انتخاب میں ووٹ ڈالے گا تو اس پر ووٹ ڈالنے والے کا نام لکھا جائے گا تاکہ معلوم ہو کہ ووٹر نے کس امیدوار کو ووٹ ڈالا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے حزب مخالف کی جماعتوں کی طرف سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے پر بیان دیا تھا کہ حکومت سینیٹ کے انتخابات مقررہ تاریخ سے پہلے کروا دے گی۔
پاکستان میں یہ روایت رہی ہے کہ سینیٹ کے انتخابات مارچ کے مہینے میں ہوتے ہیں۔ اس بار حکومت نے ان انتخابات کے جلد انعقاد کا اعلان کیا ہے، جس پر حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ کہتے ہیں آپ کو پی ڈی ایم کی تحریک اور جلسوں سے فرق نہیں پڑ رہا تو اچانک ایسی کیا آفت آ پڑی ہے کہ آپ کو ایک مہینہ پہلے الیکشن کا اعلان کرنا پڑا جو پہلے پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا۔
'آپ کو اپنی پوری سٹریٹیجی تبدیل کرنا پڑی اور جن لوگوں کو 11 مارچ کے بعد حلف اٹھانا تھا انھیں پہلے منتخب کرنے کی کیا ضرورت آن پڑی۔'
ملک میں جاری اس سیاسی تنازع کے بارے میں پاکستان کے الیکشن کمیشن نے یہ وضاحت بھی جاری کی ہے کہ سینیٹ کے ریٹائر ہونے والے ارکان کی چھ برس کی مدت 11 مارچ کو مکمل ہو جائے گی اور اس مدت سے ایک ماہ سے زائد عرصہ پہلے یہ انتخابات منعقد نہیں کرائے جا سکتے یعنی اب حکومت دس فروری کے بعد ہی سینیٹ انتخابات کا انعقاد کرا سکے گی۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے یہ بھی وضاحت جاری کی ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کرانا اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔









