ذہنی مریض مجرمان کو سزائے موت:’اگر مجرم کو سزا کا ادراک ہی نہیں تو پھر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عباد الحق
- عہدہ, صحافی، لاہور
پاکستان کی سپریم کورٹ نے بدھ کو ایک اہم فیصلے میں دو ذہنی معذور قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ ایسے ہی ایک قیدی کی رحم کی اپیل کو دوبارہ صدر پاکستان کو بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے یہ حکم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی تین مختلف اپیلوں پر دیا جن میں ذہنی معذور قیدیوں کو پھانسی یعنی موت کی سزا دینے کے اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا۔
نجی تنظیم نے ذہنی معذور اسیران کنیزہ بی بی، امداد علی اور غلام عباس کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے فیصلے میں کنیزہ بی بی اور امداد کی علی سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے جبکہ غلام عباس کی رحم کی اپیل صدر کو بھیجنے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیے
عدالت نے فیصلے میں صدر مملکت سے توقع کی کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں رحم کی اپیل پر فیصلہ کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سپریم کورٹ کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت پر آیا جب ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ نے ان تینوں مجرموں کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا اور جبکہ صدر مملکت بھی ان تینوں مجرموں کی سزا کے خلاف رحم کی اپیل مسترد کر چکے ہیں۔
سپریم کورٹ نے تینوں مجرموں کو پنجاب کے ذہنی امراض کے ہسپتال میں منتقل کرنے کا حکم بھی دیا جبکہ ذہنی معذور قیدیوں کی ذہنی کیفیت کی جانچ پڑتال کے لیے ملک بھر میں میڈیکل بورڈز بنانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ذہنی معذور اسیران کے بارے میں جیل قوانین میں ترمیم کی جائے۔
سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بدھ کو ہونے والے سماعت کے دوران پانچ رکنی لارجر بنچ کے سربراہ جسٹس منظور احمد ملک نے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ کسی ذہنی معذور قیدی کو سزائے موت سے اس وقت تک استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا جب تک ذہنی صحت کے ماہرین پر مشتمل بورڈ اس کی ذہنی کیفیت کا تعین نہ کریں۔

،تصویر کا ذریعہwww.lhc.gov.tv
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایسے بورڈ تشکیل دیں جو ذہنی صحت کے ماہرین پر مشتمل ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ ذہنی مریض قیدیوں کے لیے جیل قوانین میں بھی تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اگر کسی مجرم کو ملنے والی موت کی سزا کا ادراک ہی نہیں تو پھر انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔
سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے وفاق اور صوبوں کو ذہنی مریض قیدیوں کے لیے بہترین فرانزک مینٹل ہیلتھ سہولیات کی فراہمی شروع کرنے کا بھی حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وفاقی اور صوبائی جوڈیشل اکیڈمیز میں ججز، وکلا اور پراسکیوٹرز کی تربیت کے لیے ٹریننگ پروگرامز شروع کئے جائیں۔
عدالت نے افسوس کا اظہار کیا کہ ’ذہنی صحت بھی اُتنی اہم ہے جتنی جسمانی صحت ہے لیکن اس کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اسے ملنی چاہے۔‘
اپیلوں کی سماعت کے دوران عدالتی معاونین اور حکومتی وکلا کی یہ متفق رائے تھی کہ ذہنی معذور اسیر کو ملنے والی پھانسی کی سزا پر عمل درآمد نہیں ہونا چاہیے۔ عدالتی معاون حیدر رسول مزرا نے یہ بھی تجویز دی کہ ایسے (ذہنی معذور) اسیران کی بحالی کے مراکز چاروں صوبوں میں قائم کیے جائیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ کتنا اہم ہے؟
سپریم کورٹ کی جانب سے ذہنی معذور مجرموں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے احکامات دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی صحت کی جانچ کے لیے فرانزک مینٹل ہیلتھ سہولیات فراہم کرنے کے فیصلے پر جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی لیگل اینڈ پالیسی سپشلسٹ جگنو کاظم نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ ذہنی معذور قیدیوں کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ایسا فیصلہ اس سے قبل کسی عدالت نے نہیں دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے بعد اس بات کا تعین ہو گا کہ ذہنی معذور قیدیوں کے خلاف عدالتی کارروائی کیسی ہو گی اور ان کو ماہرین ذہنی صحت کی رائے کے مطابق پرکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بہت سے اہم نکات ہیں جن میں سے ایک میں عدالت نے یہ کہا گیا ہے کہ ذہنی معذور افراد کو سزائے موت نہیں دی جا سکے گی۔
انھوں نے بتایا کہ دوسرا سب سے اہم نکتہ عدالت کی جانب سے وفاقی اور صوبائی جوڈیشل اکیڈمیز میں ججز، وکلا اور پراسکیوٹرز کی تربیت کے لیے ٹریننگ پروگرامز شروع کیے جانا ہے کیونکہ اگر لوئر کورٹ میں وکلا اور ججز صحبان ان قیدیوں کے مسائل کے آگاہ ہوں گے تو ان کی خلاف قانونی کارروائی اس کے مطابق کرے گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی مقدمہ پہلے ٹرائل کورٹ میں جاتا ہے جیسا کے امداد کے مقدمے میں ہوا اور ان کو موت کی سزا دے دی گئی۔‘
جگنو کاظمی کا کہنا تھا کہ عدالت کی جانب سے ذہنی معذور افراد کے لیے فرانزک مینٹل ہیلتھ سہولیات کے قیام کا مطلب ہے کہ اب کسی بھی ایسے مجرم کے مقدمے میں جو ذہنی طور پر معذور ہے زیادہ بہتر انداز میں قانونی کارروائی ہو سکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے یہ ہدایت نہ صرف ایسے ذہنی معذور مجرموں کے لیے دی ہے جو مصدقہ طور پر ذہنی مسائل کا شکار ہیں بلکہ ایسے افراد کے لیے بھی جن کے مقدمات زیر سماعت ہیں اور جیل حکام کو ان پر ذہنی مسائل کا خدشہ ہے تو ان کے مکمل جانچ ہسپتال اور ایک باقاعدہ میڈیکل بورڈ سے ہو گا جس میں دو ماہر ذہنی امراض، ایک پبلک سیکٹر سے ماہر ذہنی امراض کرے گے اور ان کے مکمل جانچ کے بعد ان کے مسائل کی رپورٹ دیں گے۔











