پاکستان میں ایک اور ’ذہنی مریض‘ کے ڈیتھ وارنٹ جاری

پھانسی کا پھندا

،تصویر کا ذریعہThinkstock

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستان میں سزائے موت کے قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزائے موت کے قیدی غلام عباس کے ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

غلام عباس میں ذہنی امراض میں مبتلاہونے کی علامات پائی گئی ہیں اور اگر ان کی موت کی سزا پر عمل درآمد نہ روکا گیا تو ان کو 18 جون بروز منگل پھانسی دے دی جائے گے۔

غلام عباس کی والدہ نور جہاں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کو جیل حکام کی طرف سے اطلاع دی گئی ہے کہ وہ غلام عباس سے 17 جون بروز سوموار آخری ملاقات کرسکتی ہیں۔

غلام عباس کی والدہ نے بتایا کہ وہ چند روز قبل اپنے بیٹے سے ملنے جیل گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ غلام عباس کی حالت قابل رحم تھی اور اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔ ان کو کچھ سمجھ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں، کیا کر رہے ہیں اور کس سے مل رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا ’مجھے پہچاننے میں بھی اس کو مشکلات ہو رہی تھیں۔ پتا نہیں کیا کیا کہہ رہا تھا۔‘

یہ بھی پڑھیے

غلام عباس کے بھانجے صداقت حسین کا کہنا ہے کہ وہ 13 جون کو اپنے ماموں غلام عباس سے ملے تھے۔ ان کا بھی کہنا ہے کہ غلام عباس ’بہکی بہکی باتیں کررہے تھے‘۔

صداقت حسین کے مطابق ’وہ طویل عرصے سے نفیساتی اور مختلف امراض کا شکار رہے ہیں جبکہ جیل میں تو ان کی حالت بہت زیادہ بگڑ گئی ہے۔‘

غلام عباس کے وکلا کا کہنا ہے کہ وہ ساری صورتحال پر قانونی نکات کا جائزہ لے رہے ہیں جس پر وہ جلد ہی کوئی لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔

غلام عباس کی والدہ
،تصویر کا کیپشنغلام عباس کی والدہ

غلام عباس سنہ 2004 سے قید ہیں۔ سنہ 2006 میں ان کو اپنے ہمسائے کے قتل کے جرم میں ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی کی عدالت سے موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

پاکستان میں سزائے موت کے منتظر ذہنی مریض

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق اس وقت ان کے پاس غلام عباس کے علاوہ چار ایسے نفسیاتی مریضوں کے کیسز موجود ہیں جن کے مختلف اوقات میں ڈیتھ وارنٹ جاری ہوئے ہیں۔ ان مریضوں کی سزا پر عمل درآمد کو سٹے آرڈر کے ذریعے رکوایا گیا ہے جبکہ سزائے موت کے ایک نفسیاتی مریض خضر حیات چند روز قبل لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی زینب محبوب ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت امداد علی اور کنیزہ بی بی کے کیسز سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ امداد علی کا ڈیٹھ وارنٹ سنہ 2016 جبکہ کنیزہ بی بی کا سنہ 2001 میں جاری ہوا تھا۔ دونوں کیسز میں ان کی بیماری کی بنا پر ان کی سزا کے خلاف سٹے آرڈر حاصل کیا گیا تھا۔

کنیزہ بی بی سنہ 2001 سے پنجاب میڈیکل انسٹیٹوٹ لاہور میں زیر علاج ہیں۔ ان کے کیس پر گزشتہ سال سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے اس وقت سو موٹو ایکشن لیا تھا جب پنجاب میڈیکل انسٹیٹوٹ کی انتظامیہ نے جگہ دستیاب نہ ہونے کی بنیاد پر ان کو واپس جیل بھیج دیا تھا۔

زینب محبوب ایڈووکیٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے ان دونوں مریضوں کی صورتحال کا تعین کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دے رکھا ہے۔

انھوں نے بتایا ’سپریم کورٹ کے ان دونوں کیسز کے فیصلے کا اطلاق باقی ذہنی مریض قیدیوں پر بھی ہوگا۔‘

زینب محبوب کے مطابق اسی طرح سلیم احمد اور شیراز بٹ کے مقدمے بھی سیشن جج لاہور کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جیل قوانین میں یہ موجود ہے کہ نفسیاتی امراض اور شدید بیمار قیدیوں کو انتہائی سزائیں نہیں دی جاسکتی ہیں جس میں پھانسی کی سزا بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنہ 2015 میں دونوں ٹانگوں سے معذور عبدالباسط کیس میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ جیل حکام اس کیس میں جیل قواعد و ضوابط کے مطابق عمل کریں، جس کے بعد جیل حکام نے عبدالباسط کو پھانسی کی سزا نہیں دی تھی۔

عبدالباسط

،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Family

،تصویر کا کیپشنعبدالباسط

غلام عباس کی صورتحال

امداد علی اور کنیزہ بی بی کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے مقرر معاون پروفیسر ڈاکٹر ملک مبشر حسین نے اپنا ایک بیان حلفی دیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ غلام عباس کے وکیل کی جانب سے فراہم کردہ ریکارڈ کے بعد وہ یہ سجھتے ہیں کہ مریض اس قابل نہیں کہ اس کو کوئی سزا دی جا سکے بلکہ غلام عباس کو مناسب علاج معالجے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر ملک مبشر حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ غلام عباس کے خاندان میں ذہنی امراض کا ریکارڈ موجود ہے۔ ان کے مرحوم والد اور دونوں بھائی نفسیاتی امراض میں مبتلا تھے جبکہ غلام عباس خود بھی مرگی کے مریض ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ مریض ہیں اور مریض کو سزا نہیں بلکہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا ’میں نے حکام سے رابطے کیے ہیں کہ مجھے غلام عباس کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے تاکہ میں ان کا علاج کر سکوں۔‘