پھندا لگا کر پھانسی دینے کے خلاف درخواست خارج

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK
پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے جمعرات کو پھندا لگا کر پھانسی دینے کے طریقہ کے خلاف دائر درخواست خارج کر دی ہے۔
یہ درخواست مقامی وکیل محمد خورشید خان ایڈووکیٹ نے سزائے موت کے منتظر گل ولی اور جان بہادر کی جانب سے دائر کی تھی۔ دونوں مجرموں کی درخواستیں پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ میں علیحدہ علیحدہ دائر کی گئی تھیں۔
خورشید خان ایڈووکیٹ نے بینچ کے سامنے موقف اختیار کیا کہ گل ولی گذشتہ 22 سال سے گرفتار ہے جسے قصاص اور دیت آرڈیننس کے تحت موت کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ سزا انگریز کے سنہ 1868 میں بنائے گئے قانون سی آر پی سی کے تحت دی جا رہی ہے جو پھندا لگا کر پھانسی دینے کا طریقہ ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق خورشید خان ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پھانسی کا یہ طریقہ انتہائی تکلیف دہ اور اذیت ناک ہے۔
جسٹس روح الامین نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ یہ پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار میں نہیں ہے اس کے لیے انھیں فیڈرل شریعت کورٹ کے پاس جانا چاہیے۔
خورشید خان ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں اسلامی نظریاتی کونسل کو فریق بناتے ہوئے کہا ہے کہ موت کی سزا اسلامی طریقے سے ہونی چاہیے جس میں مرنے والے کو کم تکلیف ہونی چاہیے جبکہ پھانسی کے لیے پھندا لگا کر لٹکانے میں بعض اوقات آدھے گھنٹے تک بھی موت واقع نہیں ہوتی ہے۔
عدالت نے سماعت کے بعد دونوں درخواستیں خارج کر دیں۔ اس سے پہلے گذشتہ سال جان بہادر کی درخواست پر حکم امتناعی جاری کیا دیا گیا تھا لیکن جمعرات کو وہ درخواست بھی خارج کر دی گئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خورشید خان ایڈووکیٹ نے سزائے موت کے مجرم گل ولی کی جانب سے درخواست پشاور ہائی کورٹ میں دائر کی تھی جس کی سماعت دو جنوری کو ہوئی اور عدالت نے درخواست ڈویژن بینچ کو بھیج دی تھی۔
گل ولی سنہ 1995 میں قتل کے ایک مقدمے میں دیگر دو ساتھیوں کے ساتھ گرفتار ہوئے تھے جہاں ان کے باقی دو ساتھی رہا کر دیے گئے جبکہ گل ولی کی موت کی سزا بر قرار رکھی گئی۔
خورشید خان ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا برصغیر پاک و ہند میں انگریز کے آنے سے پہلے بادشاہوں کے من چاہے طریقوں سے سزا دی جاتی تھی جبکہ انگریز کے آنے کے بعد پھانسی کی سزا مقرر کی گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام میں مجرم کو موت کی سزا ایسی دی جانی چاہیے جس سے انسان کو تکلیف نہ ہو یا اسے کوئی اذیت نہ پہنچے جبکہ پھانسی دینے کا موجودہ طریقہ انتہائی تکلیف دہ اذیت ناک ہے۔







