آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
اسداللہ مینگل: بلوچستان کا ’پہلا جبری لاپتہ‘ نوجوان جس کی موت تاحال ایک معمہ ہے
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اسدللہ مینگل کی کار بلخ شیر مزاری کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر پائی گئی جو بری طرح تباہ ہو چکی تھی جب کار کو کھولا گیا تو اگلی نشست پر خون کے دھبے تھے لیکن اسداللہ مینگل اور ان کے دوست احمد شاہ کرد دونوں ہی غائب تھے اور تلاش کے باوجود وہ کہیں مل نہ سکے۔پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب 'افواہیں اور حقیقت' میں یہ واقعہ بیان کیا ہے اور اس کتاب کو الطاف احمد قریشی نے مرتب کیا ہے۔
اسد مینگل بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ سردار عطااللہ مینگل کے بڑے فرزند اور سابق وزیر اعلیٰ اختر مینگل کے بڑے بھائی تھے، جن کی عمر 19 سال تھی وہ کراچی میں نیشنل کالج میں زیر تعلیم تھے۔
اسد مینگل کو سیاسی بنیادوں پر بلوچستان کا پہلا جبری لاپتہ نوجوان قرار دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسد بلخ شیر کے گھر فون سننے گئے تھے
سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ 1976 میں وہ 14 برس کے تھے۔ ان دنوں ظاہر ہے کہ موبائل فون کا زمانہ نہیں تھا لینڈ لائن ہر گھر میں نہیں ہوتا تھا اور ان کے گھر کے ٹیلی فون منقطع کر دیے گئے تھے۔
ان کا بھائی اسد مینگل ٹیلی فون پر بات کرنے کے لیے محمد علی سوسائٹی میں بلخ شیر مزاری کے گھر پر جایا کرتا تھا۔ چھ فروری کی شام بھی وہ وہاں گیا تھا۔
'ہمیں یہ اطلاع ملی کہ اسد کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد پولیس آئی اور ہم سے پوچھنے لگی کہ وہ کہاں ہیں ہم تو حیران پریشان تھے کہ ایک طرف ٹیلی فون آیا ہے کہ اس کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے وہ اس قسم کا کوئی تاثر دینا چاہ رہے تھے کہ وہ نہیں کوئی اور ملوث ہے وہ ان سے پوچھ گچھ کرنا چاہ رہے ہیں۔
'جب ہم نے جائے وقوع پر جا کر گاڑی دیکھی تو ڈرائیونگ نشست اور پسینجر نشست دونوں پر ہی خون کے دھبے تھے، واقعہ رات آٹھ بجے کے قریب پیش آیا تھا اس سے پہلے اچانک علاقے سے بجلی چلی گئی تھی اسی دوران دو گاڑیاں آئی ہیں ایک نے روڈ بلاک کیا دوسری نے فائرنگ کی، ایک چشم دید گواہ تھا جو طالب علم تھا اس نے یہ منظر بیان کیا تھا۔'
وزیر اعظم بھٹو کراچی میں ہی موجود تھے
جس روز اسد مینگل کا واقعہ پیش آیا اس روز وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کراچی میں ہی تھے۔
'افواہیں اور حقیقت' میں وہ لکھتے ہیں کہ انھیں سندھ کے وزیر اعلیٰ غلام مصطفیٰ جتوئی نے ٹیلی فون پر بتایا کہ شہر میں کوئی غیر معمولی واقعہ ہوا ہے۔
وزیر اعلٰی سندھ کو صوبائی انسپیکٹر جنرل پولیس نے بتایا تھا کہ سردار عطااللہ مینگل کے صاحبزادے کو بلخ شیر مزاری کے گھر سے اغوا کیا گیا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اغوا کرنے والے کون لوگ تھے۔
غلام مصطفیٰ جتوئی کے مطابق ایک عینی شاہد نے پولیس کو اطلاع دی تھی کہ اسد مینگل اپنے دوست احمد شاہ کرد کے ساتھ وقوع کی رات کو بلخ شیر مزاری کے گھر آئے تھے بلخ شیر مزاری گھر میں نہیں تھے۔
کہا جاتا ہے کہ کسی نے گھر کا دروازہ کھولا اور اسداللہ اور ان کے دوست اندر گئے اور بیٹھ گئے۔ کچھ ہی دیر بعد دونوں باہر نکلے اور اپنی کار میں سوار ہو گئے جونہی گھر کا دروازہ بند ہوا گولیاں چلنے کی آواز آئی۔
سب منصوبہ کے مطابق تھا لیکن گولی چل گئی
سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب کے مطابق اگلے روز وزیر اعظم نے پشاور جانا تھا اور انھوں نے فوج کے سربراہ جنرل ٹکا خان سے کہا کہ وہ پشاور میں ملیں۔
پشاور میں جنرل ٹکا خان نے دوسرے روز ان سے ملاقات کی اور وزیراعظم کو بتایا کہ بلوچستان میں موجود کمان کا کہنا ہے کہ اگر اسداللہ مینگل اور اس کے ساتھی کو تحقیقات کے لیے گرفتار کیا جائے تو فوج کو مطلوبہ اطلاعات مل جائیں گی جن کی بنیاد پر جھالاواں اور شاید ساراواں میں ہونے والی شر انگیزی کو یقینی طور پر ختم کیا جاسکے گا۔
فوج کا خیال تھا کہ اس مقصد کے لیے دونوں کو گرفتار کرنا بے حد ضروری تھا۔
جنرل ٹکا خان نے وزیر اعظم کو بتایا کہ فوج کو ان کے کراچی میں قیام کے بارے میں علم تھا اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ انھیں بلخ شیر مزاری کے گھر پہنچانے کے لیے کیا ترغیب دی جاسکتی تھی تاکہ وہاں سے انھیں گرفتار کیا جا سکے۔
جنرل ٹکا خان نے کہا کہ ظاہری طور پر ویسا ہی ہوا جیسا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔
فوج کا خیال تھا کہ جب دونوں کی کار چلے گی تو ذرا آگے جا کر اسے ایس ایس جی ٹیم اپنی کار آگے لاکر روک لے گی اور پھر انھیں زبردستی اپنی کار میں ڈال کر کوئٹہ پہنچایا جائے گا جہاں ان سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔
تاہم فوج یہ نہیں سوچ سکتی تھی کہ اسداللہ مینگل اور ان کا ساتھی مسلح ہوں گے۔ جونہی ایس ایس جی کی گاڑی نے ان کی گاڑی کو اوور ٹیک کیا اور اسے روکنے کی کوشش کی انھوں نے فائرنگ شروع کر دی۔
اس کے جواب میں اور’ صرف اپنے دفاع کی خاطر‘ ایس ایس جی ٹیم نے بھی جوابی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ان میں سے ایک موقع پر ہی اور ایک ٹھٹہ کی طرف جاتے ہوئے راستے میں جاں بحق ہوگیا۔
ایس ایس جی نے انھیں کوئٹہ جانے والے راستے میں کہیں رات کے اندھیرے میں دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔
'آپ کہیں وہ افغانستان چلے گئے ہیں'
'افواہیں اور حقیقت' کے مطابق وزیر اعظم بھٹو کو متعلقہ سینیئر افسران کا مشورہ تھا کہ حکومت اسداللہ اور اس کے دوست احمد شاہ کرد کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرے اور کہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ افغانستان بھاگ گئے ہوں اور وہاں پکڑے گئے ہوں۔
وزیراعظم نے جواب دیا کہ 'یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں اور عین ممکن ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ واقعہ پورا یا ادھورا دیکھا گیا ہوگا۔ مزید برآں ان کی کار مل چکی ہے جس میں خون کے دھبے ہیں، خود لوگ اندازہ لگا لیں گے کہ کیا ہوا تھا اور عوام کبھی اس بات پر یقین نہیں کریں گے کہ مقتولین خود افغانستان چلے گئے تھے یا انہیں زبردستی بھیجا گیا تھا۔'
راولپنڈی میں وزیر اعظم بھٹو سے فوج کے نامزد آرمی چیف جنرل ضیاالحق نے ملاقات کی اور معاملہ دبانے کا مشورہ دیا اور کہا کہ اگر یہ واقعہ عام ہوگیا تو اس سے بلوچستان میں فوجی کارروائی کا عمل رک جائے گا۔
’اسد نے کہا تھا کہ تعاقب کیا جا رہا ہے‘
سردار اختر مینگل بتاتے ہیں کہ ان کے والد سردار عطااللہ مینگل ان دنوں حیدرآباد سازش کیس میں قید اور جناح ہسپتال کے شعبے کارڈیولوجی میں زیر علاج تھے۔ ان کو اسد نے آگاہ کیا تھا کہ ان کا تعاقب کیا جا رہا ہے اور والد نے انھیں اپنا خیال رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
ان کے والد جیل میں تھے، چھوٹا بھائی منیر اور دو چچا پہاڑوں میں تھے، اسد گھروں کو سنبھالنے والا تھا اور وہ اس وقت نیشنل کالج کراچی میں طالب علم تھا۔
'گرفتاری کا خدشہ تو تھا لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اس طرح سے غائب یا مارا بھی جا سکتا ہے، اس کے بعد پتہ نہیں چلا نہ ہی حکومت نے رابطہ کیا۔‘
بلوچستان پوسٹ ویب سائٹ پر نصیر دشتی نے اپنے آرٹیکل میں لکھا تھا کہ اسد مینگل اور اس کا دوست احمد شاہ کرد بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کا کام کر رہے تھے۔ ریاستی اداروں کو ان پر یہ شبہ تھا کہ وہ عوامی رابطہ کاری کے علاوہ بلوچستان میں عسکریت پسندی کے لیے بھی موبلائزیشن کر رہے ہیں۔
بھٹو، مینگل کشیدگی اور لندن پلان
1970 کے انتخابات کے نتیجے میں بلوچستان کی پہلی صوبائی اسمبلی وجود میں آئی۔
یہاں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی حکومت قائم ہوئی، میر غوث بخش بزنجو گورنر بنائے گئے سردار عطا اللہ مینگل وزرات اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے جبکہ خیربخش مری نیشنل عوامی پارٹی کے اسمبلی میں صوبائی سربراہ رہے۔ دونوں لیفٹسٹ تھے جبکہ نواب اکبر بگٹی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ تھے۔
سردار عطااللہ مینگل نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھٹو نیپ کو حکومت بنانے ہی نہیں دیتے مگر مجبوری میں انھوں نے ایسا کیا کیونکہ اس وقت فوج ان کے ساتھ نہیں تھی۔
اقرا یونیورسٹی انٹرنیشنل یونیورسٹی میں میں پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی تعلقات عامہ کے پروفیسر ڈاکٹر رضوان زیب اخبار فرائیڈے ٹائمز میں اپنے آرٹیکل ’دے روٹس آف رزنمنٹ‘ میں لکھتے ہیں کہ عطااللہ مینگل کی حکومت اور وفاق میں تنازع شروع ہوگیا۔
مینگل نے 550 غیر مقامی ملازمین کو بلوچستان سے بے دخل کر کے واپس بھیج دیا جن میں ڈھائی ہزار سے زائد پولیس کے تھے اس کے علاوہ بلوچستان دیہی محافظ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مینگل نے کوسٹ گارڈز کو مکران کےساحل پر گشت کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے علاوہ مری اور مینگل قبائل نے پٹ فیڈر ایریا میں پنجابی آبادکاروں پر حملے کیے۔
رضوان زیب کے مطابق ان ہی دنوں یعنی 1972 میں پاکستان کے کئی سیاست دان جن میں سے زیادہ تر کا تعلق نیشنل عوامی پارٹی سے تھا لندن میں تھے۔ اتفاقی طور پر وہاں بنگلادیش کے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمان بھی موجود تھے۔ پاکستانی میڈیا بالخصوص حکومتی اشاعتی ادارے نیشنل ٹرسٹ پیپرز کے اخبارات میں یہ شہ سرخیاں بنائی گئیں کہ یہ لوگ بھٹو حکومت کا تختہ الٹا کر پاکستان کی تقیسم چاہتے ہیں، اس کو لندن پلان کا نام دیا گیا۔
اسی سال 10 فروری کو سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد میں واقع عراقی سفارتخانے سے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ بلوچ مزاحمت کاروں کے لیے بھیجا گیا تھا، اس کو بنیاد بنا کر بلوچستان میں 30 دنوں کے لیےصدارتی نظام نافذ کیا گیا نواب اکبر بگٹی کو گورنر لگایا گیا لیکن وہ بھی زیادہ عرصہ نہیں چلے اور مستعفی ہو گئے۔ اس کے بعد احمد یار خان کو گورنر لگایا گیا۔
ایک اور مسلح جدوجہد کا آغاز
بلوچستان کی پہلی اسمبلی اور حکومت کے قیام کے دس ماہ میں برطرف کر دیا گیا اور غوث بخش بزنجو، عطااللہ مینگل اور نواب خیربخش مری سمیت نیپ کے کئی سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان پر حکومت کے خلاف سازش کا مقدمہ چلایا گیا، اس کو حیدرآباد سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
رضا زیب کے مطابق حکومت کی برطرفی کے چھ ہفتوں کے بعد حکومتی فورسز اور قافلوں پر حملے شروع ہوگئے۔ 18 مئی 1973 کو ایک اہم حملہ ہوا جب تندوری کے مقام پر دیر اسکاؤٹس کو نشانہ بنایا گیا، عسکریت پسندوں کی خاص طور پر موجودگی ساراواں، جھالاواں اور مری بگٹی ایریا میں تھی۔ جولائی 1974 تک عسکریت پسند کئی سڑکوں کا کنٹرول حاصل کر چکے تھے اور ملک کے دوسرے علاقوں سے رابطہ منقطع کر دیا تھا۔ ٹرین سروس بھی متاثر ہوئی۔
صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ قلات اور خصدار سے لے کر لسبیلہ تک وسطی بلوچستان میں مینگل حاوی تھے۔
منظر نامہ میں اس وقت تبدیلی آئی جب پاکستان ایئر فورس نے تین ستمبر 1974 کو چمالنگ پر حملہ کیا جس میں 125 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے اور 900 کے قریب کو گرفتار کر لیا گیا۔
مارشل لا اور اسیروں کی رہائی
جنرل ضیاالحق نے ذوالقفار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ انھوں نے بلوچ رہنماؤں کی طرف نرم رویہ رکھا، شہزادہ ذوالفقار کے مطابق جنرل ضیاالحق نے بلوچوں سے میٹنگ کی۔
انھوں نے بتایا کہ ان سے ظلم زیادتی ہوئی ہے جس کے بعد گرفتار لوگ رہا ہوئے اور سیاسی درجہ حرارت معمول پر آ گیا۔
'میر غوث بخش بزنجو نے کہا کہ بلوچ فیڈریشن میں ہی رہیں تو بہتر ہے، مینگل اور مری خاموش رہے ، عطااللہ مینگل لندن اور خیربخش مری افغانستان چلے گئے۔ انھوں نے ایک دوسری راہ اختیار کی اور اپنے لوگوں کو افغانستان بلا لیا۔ لندن میں عطااللہ مینگل نے سندھی اور بلوچ قوم پرستوں پر مشتمل 'ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن قائم کی۔ بزنجو پاکستان میں رہے اور پی این پی کا قیام عمل میں لائے۔'
جب اسداللہ کا نام رکھا پھر یقین ہوا
سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ اسد کی گمشدگی کے دو سال کے بعد 1978 میں اسد سے چھوٹے بھائی منیر مینگل کے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی، والد (سردار عطااللہ) نے اس کا نام اسداللہ رکھا۔
'جیسے آج کل احتجاج ہوتا ہے، دھرنے ہوتے ہیں کہ لاپتہ لوگ واپس آ جائیں گے ہمیں بھی امید تھی کہ اسد زندہ ہو گا اور واپس آئے گا۔ جب نام رکھا گیا تو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ اب وہ مزید نہیں رہا۔'
سردار اختر مینگل بتاتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل نے اے آر وائی پر ان کے ساتھ ایک پروگرام میں اعتراف کیا تھا کہ وہ اسد کو زخمی حالت میں مظفر آباد کشمیر میں جلالی کیمپ لائے تھے اور تشدد میں اس کی ہلاکت ہوئی۔
اختر مینگل اپنے والد عطااللہ مینگل کی جنرل ضیاالحق سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جب وہ علاج کے لیے لندن جا رہے تھے تو جنرل ضیاالحق نے ان سے ملاقات کی اور تسلی دی کہ آپ علاج کرا کے آئیں ہم جب تک آپ کے بیٹے کی معلومات لے لیں گے۔
والد نے انھیں کہا کہ جس نوعیت کا واقعہ ہوا اس میں آپ مجھے یہ باور کرانا چاہیں گے کہ وہ بچہ ابھی تک زندہ ہے؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا چونکہ جس طرح نشانہ لگا کر فائر کیے گئے ہیں گاڑی کے اس حصے سے سر دکھتا ہے تو مجھے یہ تسلی آپ نہ دیں، مجھے یقین ہوچکا ہے کہ وہ نہیں رہا۔ اب تم یہ جھوٹی تسلی دو کہ میرا بیٹا مارا گیا ہے اور میں دل پر ہاتھ رکھ کر یہاں بیٹھ جاؤں گا ایسا نہیں ہوگا، بلوچستان میں یہ ایک میرا ہی بیٹا نہیں ہے کئی بیٹے مارے گئے ہیں۔'
بھٹو نہیں ضیا ملوث تھے؟
ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب 'افواہیں اور حقیقت' کو مرتب کرنے والے الطاف احمد قریشی لکھتے ہیں کہ اسد کے واقعے میں بھٹو کے ملوث ہونے کا شائبہ بھی ہوتا تو فوجی حکومت اس میں ان کو ملوث کرتی، اگر فیڈرل سکیورٹی فورس (ایف ایس ایف) کا ڈی جی محمود قصوری کیس میں گواہ بن سکتا تھا تو اسے اسد مینگل کیس میں بھی سرکاری گواہ بنانے کے لیے آسانی سے تیار کیا جا سکتا تھا۔
الطاف احمد قریشی کے مطابق اس واقعے کا ذمہ دار جنرل ضیاالحق تھا۔ چھ جنوری کو اسد مینگل کے واقعے کے وقت جنرل ضیاالحق کی بطور چیف آف آرمی سٹاف تعیناتی کا اعلان ہو چکا تھا جبکہ ٹکا خان محض نام کے چیف آف سٹاف تھے۔
مینگل اور مری کی واپسی اور تحقیقات
جنرل ضیاالحق کی طیارے میں ہلاکت اور پاکستان میں جمہوری دور حکومت کی بحالی کے بعد عطااللہ مینگل اور بعد میں خیربخش مری وطن واپس آ گئے۔ انھوں نے عملی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور اپنی سیاسی وراثت اپنے بچوں کے حوالے کر دی۔ عطااللہ کے بیٹے اختر مینگل وزیر اعلیٰ بنے جبکہ حربیار مری اور بالاچ مری اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
اختر مینگل کا کہنا ہے کہ جب 1996 میں ان کی وزرات اعلیٰ آئی تھی اس واقعے کو بیس سال سے زائد کاعرصہ گزر چکا تھا۔ کس سے تحقیقات کرتے، اداروں اور حکمرانوں کو جو اس کے ذمہ دار ہیں وہ اس واقعے کو بلوچ جدوجہد میں شمار کرتے ہیں۔
اختر مینگل نے سپریم کورٹ میں جب لاپتہ افراد سمیت بلوچستان کے معاملات پر درخواست دائر کی تھی اس میں انھوں نے جبری گمشدگیوں کے ریفرنس اور ثبوت کے طور پر ذوالفقار علی بھٹو کی کتاب بھی پیش کی تھی۔