بی این پی مینگل کے صدر اختر مینگل: ’موجودہ دور حکومت میں بلوچستان سے تقریباً 1500 جبری گمشدگیاں ہوئیں‘

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت میں بلوچستان سے 1500 کے قریب جبری گمشدگیاں ہوئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس عرصے میں 418 افراد بازیاب ہوئے ہیں اور یہ وہ ہیں جنھوں نے ان سے رابطہ کیا یا ان کے ذریعے رہا ہوئے ہیں۔

بدھ کو پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے صدر سردار اختر مینگل نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد سے اپنی جماعت کی علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

انھوں نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران حکومت سے حالیہ بجٹ اور بلوچستان کے مستقبل سے متعلق کئی سوال بھی کیے تھے۔

پارلیمان کے اجلاس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ 'میں اپنی جماعت کی تحریک انصاف کی حکومت سے علیحدگی کا باضابطہ طور پر اعلان کرتا ہوں، ہم پارلیمنٹ میں رہیں گے اور مسائل پر بات کرتے رہیں گے۔'

واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کی چار نشستیں ہیں اور اس کی حکومت سے علیحدگی کے بعد حکمران جماعت کی عددی برتری میں کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اختر مینگل حکومت سے ناراض کیوں؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ موجودہ دور حکومت میں بلوچستان سے 1500 کے قریب جبری گمشدگیاں ہوئی ہیں جبکہ اس عرصے میں 418 افراد بازیاب ہوئے ہیں اور یہ وہ ہیں جنھوں نے ان سے رابطہ کیا یا ان کے ذریعے رہا ہوئے ہیں۔

’ہم نے قومی اسمبلی میں لاپتہ 5128 افراد کی فہرست پیش کی تھی، اسی دوران مئی تک 500 مزید افراد کی گمشدگی کی ایک اور فہرست دی جبکہ 900 سے 1000 افراد کی ایک اور فہرست ہے جو ابھی تیار ہو رہی ہے یہ تمام لوگ تحریک انصاف کی حکومت میں لاپتہ ہوئے ہیں اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ ہمارے مطالبات اور بنیادی مطالبے پر کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بلوچستان کی ڈیموگرافی میں تبدیلی کے خلاف قانون سازی کے لیے مسودہ ابھی تک قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی میں پڑا ہوا، افغان مہاجرین کی واپسی کا اعلان ہوا اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، صحت، تعلیم، معدنی وسائل اور انفراسٹریکچر،گودار کے ماہی گیروں کے مسائل پر بھی صفر پیش رفت ہوئی۔‘

گذشتہ برس حکومت سے علیحدگی کے اعلان اور بعد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد حمایت جاری رکھنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے گزشتہ مرتبہ بھی انھیں متنبہ کیا تھا اور ایک سال کا وقت دیا گیا اس دوران حکومت یقین دہانی کراتی رہی وزیر اعظم سے ملاقات میں بھی کمیٹی بنائی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے جہانگیر ترین کی سربراہی میں کمیٹی بنائی گئی اس کے بعد نعیم الحق کو سربراہ بنا دیا گیا دوبارہ جہانگیر ترین کو سربراہ بنایا گیا، پھر ان کو ہٹاکر اب پرویز خٹک کو کمیٹی میں رکھا گیا اس صورتحال میں سلسلہ بے ربط ہوجاتا ہے کمیٹی کو مسائل اور صورتحال کو دوبارہ سے سمجھانا پڑتا ہے اس طرح پورا عرصہ صرف ان کمیٹیوں میں گزر گیا ہے، پیش رفت کوئی نہیں ہوئی ہے۔‘

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’ہماری سینٹرل کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کہ حکومتی اتحاد کو خدا حافظ کہہ کر نکل آئیں۔‘

حکومت کی دوبارہ حمایت کے بارے میں سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’ان کے مطالبات پر عملدرآمد ممکن نہیں لگتا لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔ حکومت اب پہلے مطالبات پر عملدرآمد کرے اس کے بعد بی این پی کیا، بلوچستان کی تمام اقوام تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارے معاہدے حکومت کے ذمہ داران سے ہوئے، ہوسکتا ہے کہ مسنگ پرسنز کی واپسی میں سٹیبلشمنٹ رکاوٹ ہو، لیکن قانون سازی، ترقیاتی منصوبوں، روڈ بنانے میں بھی کیا سٹیبلشمنٹ رکاوٹ ہے، وہ سٹیبلشمنٹ کو ٹیلہ بناکر اس کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں۔'

بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ عوام نے انھیں اسی منشور کے لیے ووٹ دیا تھا تاکہ ان مسائل کو اجاگر کریں اور حل کرنے کےلیے جدوجہد کریں ہم نے حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ بھی عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کیا ہے۔

بلوچستان میں زیر بحث ڈیتھ سکواڈ کے بارے میں سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ان ڈیتھ سکواڈز کو ختم نہیں کیاگیا تھا جن جن اضلاع میں یہ موجود تھے ان کے ایک رکن کی کبھی لاش نہیں ملی اور نہ لاپتہ کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'انھیں گھروں پر بٹھایا گیا یہ سمجھیں کہ شارٹ بریک دیا گیا تاکہ بلوچستان میں جب بھی سیاسی شعور آئے اس کو ختم کرنے کے لیے ہھتکنڈے استعمال کیے جائیں لیکن اس سے نفرتیں بڑھیں گی کیونکہ نظریے اور سوچ کو گولی سے ختم نہیں کرسکتے جہاں لہو گرے گا وہ تناور درخت بنے گا۔'

وفاق میں تحریک انصاف کی حمایت اور صوبے میں اپوزیشن میں بیٹھنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جب حکومت سازی ہوئی تو تحریک انصاف نے ان سے پوچھا ہی نہیں وہ بھی اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ حکومت سازی کرتے اور دوسری بات یہ ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی عرف 'باپ' ان کی ضرورت تھی اور اس کو بنایا ہی حکومت کے لیے گیا تھا انھوں نے وفاقی حکومت کی حمایت کی تھی اس کا حصہ نہیں تھے۔

اختر مینگل کا قومی اسمبلی میں خطاب

سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر بجٹ کو عوام دوست بجٹ کہا جاتا ہے لیکن ان میں ہمیں کتنی فیصد عوام دوستی نظر آتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا 'یہ بجٹ وزرا دوست ہو سکتا ہے، بیوروکریسی دوست ہو سکتا ہے، عسکریت دوست ہو سکتا ہے لیکن عوام دوست بجٹ آج تک نہ اس ملک میں آیا ہے اور نہ ہی کبھی آنے کے امکانات ہیں۔'

سردار اختر مینگل نے کہا کہ یہ اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب عوام کے حقیقی نمائندگی کا حق رکھنے والے فری اینڈ فیئر الیکشن کے تحت منتخب ہو کر آئیں۔

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’اس ملک میں آج تک کسی کو انصاف نہیں ملا، کوڑیوں کے بھاؤ یہاں انصاف بکا ہے اور اس کے خریدار بھی ہم ہی ہیں۔ ہم نے عوام کو مجبور کیا ہے کہ وہ انصاف لیں نہیں بلکہ اس کو خریدیں اور منڈیوں میں جس طرح انصاف بکتا ہے شاید ہی اس ملک کے علاوہ کہیں بکتا ہو۔‘

حکومت پر تنقید جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ جس دن بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو پہلی صف بھری ہوتی ہے، بجٹ منظوری کے دن بھی صف بھری ہوتی ہے لیکن جب بجٹ تجاویز پیش کی جاتی ہیں تو خوردبین سے حکومتی اراکین کو ڈھونڈنا پڑتا ہے‘۔

قومی اسمبلی میں اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے یہاں ایک روایت رہی ہے کہ ہر حکومت پچھلی حکومت کو قصور وار ٹھہراتی ہے، میں موجودہ حکومت کی بات نہیں کرتا، پچھلی حکومتوں نے بھی یہی کیا، اس سے پچھلی حکومتوں نے بھی یہی کیا ہوگا کہ یہ بدحال معیشت ہمیں ورثے میں ملی ہے، خالی خزانہ ہمیں ورثے میں ملا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اس ورثے کے چکر میں چلتے جائیں تو بات 1947 تک پہنچ جائے گی کیونکہ ورثہ تو وہاں سے شروع ہوتا ہے، پھر تو آپ کہیں گے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں پاکستان خالی اور کھوکھلا کر کے دیا ہوا تھا‘۔

انھوں نے کہا کہ بجٹ میں کہا گیا کہ این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی کی جائے گی، ’یہ غلطی سے چھپا ہے یا زبان پھسل گئی ہے؟ نہیں، یہ ان کی پالیسی ہے اور اس پالیسی کے چرچے ہم کئی عرصے سے سن رہے ہیں‘۔

اختر مینگل نے کہا کہ ’میں اس ایوان کے توسط سے حکومت اور وزرا سے اس بات کی وضاحت چاہوں گا کہ یہ نظرثانی کس طرح کی جا رہی ہے، کیا یہ جو کہا جا رہا تھا کہ 18ویں ترمیم کو ختم کیا جائے گا، تو کیا یہ اسی کا حصہ ہے، یہ کس کی پالیسی ہے، حکومت کی پالیسی ہے، ان کے اتحادیوں کی پالیسی ہے یا کسی اور کی پالیسی ہے‘۔

انھوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کی رقم کو کم کردیا گیا ہے اور اس کے بدلے تمام صوبوں کو پیکیج دیے گئے ہیں لیکن بلوچستان کو صرف دس ارب کا پیکیج دیا گیا ہے۔

اختر مینگل کا کہنا تھا کہ پچھلے پی ایس ڈی پی میں جو بجٹ رکھا گیا تھا، ’اس سال اسے کورونا یا ٹڈی دل کھا گیا، یہ اسی طرح بلوچستان کو اپنے ساتھ چلائیں گے؟ یہی ہے بلوچستان کی اہمیت؟ یہی ہیں بلوچستان کی احساس محرومی کو ختم کرنے کے طریقے؟‘۔

سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ’بجٹ سے پہلے چینی، آٹے، پیٹرول وار اشیائے خورونوش کا بحران تھا، امن و امان کا بحران تھا، لوگوں کی اپنے گھروں میں حفاظت کا بحران تھا لیکن اس کے لیے کیا کچھ کیا گیا؟ روزگار دینے کے بجائے روزگار چھینا جا رہا ہے‘۔

بی این پی کے اتحاد کا معاہدہ

اگست 2018 میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور تحریک انصاف نے مرکز میں حکومت سے اتحاد کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

اس یادداشت نامے کے تحت چھ نکاتی ایجنڈے پر اتفاق کیا گیا جس میں لاپتہ افراد کی بازیابی، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد، وفاقی حکومت میں بلوچستان کے لیے چھ فیصد کوٹے پر عملدرآمد، افغان مہاجرین کی فوری واپسی اور صوبے میں پانی کے بحران کے حل کے لیے ڈیم کا قیام شامل تھا۔

سنہ 2018 میں حکمران جماعت پی ٹی آئی اور بی این پی مینگل کے درمیان اس مفاہمتی معاہدے میں تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شامل تھے۔

مرکز میں اختر مینگل نے تحریک انصاف کی حکومت سے اتحاد کیا جبکہ صوبائی سطح پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کا ساتھ دیا۔

بی این پی نے تحریک انصاف کی حمایت کے بدلے کوئی وزارت یا معاون کا منصب نہیں لیا تھا لیکن وزیر اعظم، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کے لیے تحریک انصاف کی حمایت کی تھی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں 5128 لاپتہ افراد کی فہرست پیش کی تھی اور عمران خان کی حکومت کی مشروط حمایت کے لیے پیش کیے چھ نکات میں سے ایک نکتہ لاپتہ افراد کی واپسی بھی تھی۔

سردار اختر مینگل پہلے کب کب حکومت سے ناراض ہوئے

بلوچستان کی سیاسی جماعت بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے گذشتہ برس بھی بجٹ سے قبل حکومت سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور حکومتی پالیسیوں سے نالاں دکھائی دیے اور اس وقت بھی انھوں نے حکومت پر چھ نکاتی مفاہمتی معاہدے پر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم بعدازاں وزیر اعظم کے حکم پر ایک مرتبہ وزیر دفاع پرویز خٹک اور دوسری مرتبہ جہانگیر ترین کی قیادت میں حکومتی وفد نے بی این پی کے تحفظات دور کرنے کے لیے ملاقاتیں کی تھیں۔

رواں برس جنوری میں بھی وزیر قانون فروغ نسیم کی قیادت میں ایک حکومتی وفد کی سردار اختر مینگل سے ملاقات ہوئی تھی جس کے بات انھوں نے میڈیا پر کہا تھا کہ حکومت اور ان کے درمیان مفاہمتی معاہدے خصوصاً لاپتہ افراد کے حوالے سے کافی پیش رفت ہوئی ہے۔

رواں سال فروری میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا تھا کہ اس وقت تک 500 افراد گھروں کو واپس آچکے ہیں لیکن انھوں نے جو فہرست پیش کی تھی ’اس میں سے صرف اکا دکا ہی واپس آئے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ 'اس ملک کی یہ ہی روایت ہے کہ جب کوئی کام یاد آتا ہے تو پھر ضرورت پڑتی ہے، رواں مالی سال کے بجٹ سیشن کے وقت 450 افراد واپس آئے اس کے بعد 52 افراد رہا ہوئے ہیں۔'

اس سے قبل بھی اختر مینگل کی جانب نے حمایت واپس لینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد یہ فیصلہ موخر کردیا گیا۔

بی این پی مینگل کی علیحدگی حکومت عدد پر کیا فرق پڑے گا

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کی پاکستان کی قومی اسمبلی میں چار نشستیں ہیں۔

قومی اسمبلی کے ایوان کی کل نشستیں 341 ہیں جبکہ حال ہی میں ایک رکن اسمبلی منیر اورکزئی کے انتقال کے بعد اس وقت اراکین کی تعداد 340 ہے۔

کسی بھی جماعت کو وفاق میں حکومت بنانے کے لیے 172 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

بی این پی مینگل کے پی ٹی آئی کے حکومتی اتحاد سے نکلنے سے قبل تک حکمران جماعت کی 156 نشستوں کے علاوہ اتحادیوں کو ملا کر حکومت کے پاس کل تعداد 186 تھی۔

بی این پی مینگل کی چار اراکین کے حکومتی اتحاد سے نکلنے کے بعد تحریک انصاف کے حکمراں اتحاد کے پاس کل 182 سیٹیں ہیں جو کہ حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے اب بھی 10 نشستیں زیادہ ہیں۔