آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بلاگرز کی جبری گمشدگی: پاکستان میں جبری طور پر گمشدہ افراد کو واپس لانے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا کردار کتنا اہم رہا ہے؟
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
یہ آج سے دس سال پہلے کی بات ہے کہ کراچی پریس کلب کے سامنے سے اکثر گزرتے ہوئے جبری طور پر گمشدہ افراد کے اہلِخانہ دکھائی دیتے تھے۔ ان کو دیکھ کر ایسا تاثر ملتا تھا کہ یہ لوگ ان کیمپوں میں ہی رہتے ہیں۔
گمشدہ افراد کی تصویروں کے انبار کے سامنے بیٹھے ماما قدیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، ایک بار ایک شخص نے فون پر اپنے دوست کو راستہ سمجھاتے ہوئے کہا ’میں وہاں کھڑا ہوں جہاں ایک بوڑھا آدمی تصویریں بیچتا ہے۔‘
اس وقت گمشدہ افراد کے بارے میں کھل کر بات نہیں کی جاتی تھی۔ اخبارات کے دفاتر میں بھی تاثر یہی تھا کہ جب تک فون نہیں آ جاتا یا دو ٹوک الفاظ میں منع نہیں کر دیا جاتا تب تک لکھتے رہو۔ جو صحافی اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ان کے بارے میں لکھتے تھے، انھیں بھی مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ طنزیہ انداز میں کہا جاتا تھا کہ شاید ان افراد پر لکھنے والے لوگ ’انھی لوگوں کی برادری سے ہوں گے، تبھی دل اتنا دکھ رہا ہے۔‘
تو اگر آپ جبری طور پر گمشدہ کیے گیے شیعہ، بلوچ، سندھی اور پختون افراد کے بارے میں لکھتے تو پہلے سے ہی گمان کر لیا جاتا کہ یا تو آپ ان کے رشتہ دار ہیں یا پیسوں کے عوض (یعنی لفافہ لے کر) یہ کارِ خیر انجام دے رہے ہیں۔
پھر چار سے سات جنوری سنہ 2017 کے درمیان یکِے بعد دیگرے پانچ بلاگرز اور سماجی کارکنان ’غائب‘ کر دیے گیے۔ ان میں پروفیسر اور شاعر سلمان حیدر سمیت بلاگرز اور سماجی کارکن عاصم سعید، وقاص گورایا، احمد رضا نصیر اور ثمر عباس شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بار شور مچا جس کی بنیاد بنی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس لیکن پہلے ہونے والے اِکا دُکا احتجاج کے برعکس اس بار سڑکوں پر لوگوں کی تعداد دیکھنے والی تھی۔ ان دس برسوں میں ایسا پہلی بار دیکھا گیا کہ سوشل میڈیا کا استعمال گمشدہ افراد کی واپسی کی اپیل کے لیے کیا گیا۔
اس سلسلے میں سوال ہونا شروع ہوئے اور اب بات اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ آج کسی کے بھی گُم ہونے یا اٹھائے جانے پر سب سے پہلے ان کے اہلِخانہ سوشل میڈیا کا رُخ کرتے ہیں۔
تو ان دس برسوں میں اور خاص کر بلاگرز کے غائب ہونے کے بعد پچھلے تین برسوں میں کیا بدلا؟
پروفیسر اور شاعر سلمان حیدر بتاتے ہیں کہ ’ہم چاروں پانچوں لوگ وسطی پنجاب سے اٹھائے گئے تھے۔ پہلی بار لوگوں کو محسوس ہوا کہ اصل زندگی میں لوگ اٹھائے جاتے ہیں۔ اس سے پہلے گمشدہ کیے گیے افراد کی زیادہ تر آبادی کا تعلق بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخوا سے ہوتا تھا۔ اور نہ ہی ہم میں سے کسی نے ٹی وی پر ان علاقوں کے بارے میں اور خاص کر جبری طور پر اٹھائے گئے لوگوں کے بارے میں سُنا کہ ہم کوئی بات جوڑ سکیں۔ اگر یہ ٹیگ لگ جائے کہ یہ بلوچ ہے یا اسلامی تنظیم کا ہے، تو پھر اس پر کوئی نہیں بولتا تھا۔‘
انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا ’پھر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ جن تنظیموں کے لوگ اٹھائے جاتے تھے وہ نہیں بولتی تھیں۔ جماعتِ اسلامی یا مدارس کے لوگ اٹھائے جاتے تھے تو وہ خاموش ہو جاتی تھیں جس کے نتیجے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہو جاتی تھیں۔ میرا جن بھی لوگوں سے تعلق تھا یا شاعری کے حوالے سے رہا، وہ میرے لیے باہر آئے اور ایک تحریک سی بن گئی، جو اس سے پہلے نہیں ہوا تھا اور اگر ہوا بھی تھا تو کوئٹہ یا خیرپور سے خبر آتی تھی جو خبروں تک نہیں پہنچ پاتی تھی۔‘
’کسی کو بھی کہیں سے بھی غائب کیا جاسکتا ہے‘
اس کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ ان کارکنان کے واپس آنے پر دو باتیں ملک کے دیگر حصوں کے لیے واضح ہوئیں۔
سابق بلاگر فہد دیشمکھ نے بی بی سی کو بتایا ’بہت سے لوگوں کے لیے یہ واضح ہوا کہ غیر قانونی طور پر کسی بھی علاقے سے لوگوں کو غائب کیا جا سکتا ہے۔ پھر لوٹنے والے کارکنان کی طرف سے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کے بارے میں بات کرنا اور اس کا بین الااقوامی اداروں سے لے کر انسانی حقوق کے اداروں میں رپورٹ ہونا، اس سب پر سوال اٹھنا شروع ہوئے۔‘
فہد نے کہا ’یہی بات جب پہلے پختون یا بلوچ کارکنان کی طرف سے کی جاتی تھی تو اس کو سن کر ان سُنی کر دیا جاتا تھا کیونکہ عام آدمی کے ذہن میں تاثر یہ ہے کہ یہ ریاست اور ان اقوام کا مسئلہ ہے لیکن شہروں کے بیچ و بیچ لوگ اٹھائے گئے تو سوشل میڈیا پر نام لینا اور شور مچنا شروع ہو گیا۔‘
فہد کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’پہلے سوشل میڈیا پر بات کرنا ایک عام آدمی کے لیے مشکل تھا کیونکہ وہ پہلی ترجیح پولیس اور عدالت کے پاس جانے کو دیتے تھے لیکن سستے سمارٹ فون اور انٹرنیٹ کی دستیابی سے یہ فائدہ ہوا کہ ہر کسی کے پاس فون کی سہولت آئی جس سے دس سال مزید کسی مقدمے کے مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر سوشل میڈیا پر بات کرنا آسان بنا۔‘
’کوئی غائب کردیا جائے تو شور مچائیں‘
پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک سماجی کارکن سنہ 2017 میں اٹھائے گئے بلاگرز کی واپسی کے لیے ہر جگہ احتجاج کر چکے تھے اور جنوری کے بیس دن گزرنے کے بعد جب ان کارکنان کی واپسی ہوئی تو پھر خود اس سماجی کارکن کو جبری طور پر اٹھا لیا گیا۔
یورپ میں مقیم ان کارکن نے بی بی سی کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میری بیوی کو کہا گیا کہ وہ چُپ رہیں اور زیادہ بات نا کریں وگرنہ اندیشہ ہے کہ کہیں مجھے زدوکوب کر کے میری لاش ندی نالے میں نہ پھینک دی جائے، لیکن میری بیوی خاموش نہیں رہی۔ ہر جگہ گئی، احتجاج کیا، ہیش ٹیگ چلایا۔ آج اسی بات کا نتیجہ ہے کہ میں زندہ لوٹ آیا ہوں۔‘
انھوں نے حالیہ دنوں میں سوئیڈن سے صحافی ساجد حسین اور ٹورنٹو میں بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کی سابق چیئرپرسن کریمہ بلوچ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’پیغامات تو اب بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔ ساجد اور کریمہ کا کیس اس کی مثال ہے کہ کہیں بھی چلے جاؤ۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں سمجھنا ہے کہ ہمارے پاس ایک بہت بڑی طاقت سوشل میڈیا کی ہے۔ تو اگر آپ کے کسی عزیز کو اٹھاتے ہیں تو خدارا خاموشی اختیار نہ کریں۔‘
’ہم اپنی خبر خود لگائیں گے‘
اب اگر آپ سوشل میڈیا صفحات پر نظر دوڑائیں تو آپ کو مختلف صفحات ایسے علاقوں کے بھی نظر آئیں گے جہاں دس سال پہلے تک انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں تھی۔ یہ صفحات بتدریج ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات جانچنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں جن کو کئی سال پہلے یا حال ہی میں اٹھایا گیا ہے۔
جنوب مغربی بلوچستان سے لے کر سابق فاٹا اور جیکب آباد سے بھی اپ ڈیٹس جمع کی جاتی ہیں۔ جبری طور پر گمشدہ افراد کے غائب ہونے سے لے کر، پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج کرنے یا نہ کرنے تک کی تمام تر تفصیلات میڈیا پر نشر ہونے سے پہلے ہی ٹوئٹر، فیس بُک اور واٹس ایپ پر سامنے آ جاتی ہیں۔ جس گاڑی میں اٹھایا گیا ہے اس کا رنگ، نمبر تک بتا دیا جاتا ہے۔
پشتون تحفظ موومنٹ سے منسلک احتشام افغان نے بی بی سی کو بتایا ’پہلے جب ہم جبری طور پر گمشدہ افراد کے بارے میں وزیرستان سے یا سابق فاٹا سے بات کرتے تھے تو لگتا تھا خود کلامی کر رہے ہیں۔ سننے والا، چھاپنے والا کوئی نہیں تھا۔ اب سوشل میڈیا کی وجہ سے یہ ہوا ہے کہ مختلف قومیں ایک دوسرے کو جاننے لگی ہیں اور ایک دوسرے کے لیے بات کرتی ہیں کیونکہ ہم جو بات کرتے تھے وہ آج سب کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کوئی ایسا نہیں بچا جسے نہ اٹھایا ہو یا تنگ کیا ہو۔‘
اس کے ساتھ ہی ایک قدرتی تحریک ان لوگوں کی ہے جو کسی بھی علاقے سے جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کی بازیابی پر شور مچاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال صحافی مطیع اللہ جان اور سکیوریٹیز ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کے کیس کی ہے۔
ان دونوں افراد کے خاندان نے خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ جہاں مطیع اللہ جان کے کیس میں واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آ گئی اور سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ بنا، وہیں ساجد گوندل کے کیس میں ان کی اہلیہ کا وزیرِاعظم ہاؤس کے سامنے احتجاج اور سوشل میڈیا پر ان کی والدہ کی درخواست بھی سب کے سامنے ہے۔
سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا کہ ’پہلے ٹی وی چینل کے ذریعے خبریں لوگوں تک پہنچتی تھیں۔ اب سوشل میڈیا پر ہونے والی بات یا احتجاج خبر بنتی ہے۔ لوگوں کو سمجھ آ گیا ہے کہ اگر میڈیا ان کی بات نہیں سنے گا، ان کے بارے میں بات نہیں کرے گا، ان کو وقت نہیں دے گا، تو وہ خود اپنی بات کریں گے اور ہمارے سامنے مثالیں بھیں یہی ہیں۔‘
اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے صحافی حسنین رضا نے بی بی سی کو بتایا ’ہمارے لیے واٹس ایپ، ٹوئٹر اور فیس بُک بہت معنی رکھتے ہیں۔ یہاں (اوکاڑہ) سے جبری طور پر لوگوں کو گمشدہ تو نہیں کیا گیا البتہ ہمہ وقت حق سچ لکھنے والے صحافیوں کو انتظامیہ کی جانب سے اکثر اوقات ماورائے قانون کاروائیوں کا سامنا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ جھوٹے مقدمات بنا کر اپنا تابعدار بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے اور اگر دھمکی بھی دی جاتی ہے تو ہم اس کا جواب سوشل میڈیا پر احتجاج سے دیتے ہیں۔ اس سے ہماری بات ریکارڈ ہو جاتی ہے اور لوگوں کو پتا لگتا ہے کہ قصوروار کون ہے۔‘
’مبینہ گمشدگی‘
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ سوشل میڈیا پر سوال اٹھانے والوں کو کن خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ جب لوگوں نے سوشل میڈیا کا استعمال بتدریج گمشدہ افراد کی واپسی کے لیے کرنا شروع کیا اور اس کے نتیجے میں بحث ہونا شروع ہو گئی تو ویب سائٹس پر ہونے والی بحث کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔
سماجی کارکن فریحہ عزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خطرہ تو ہے اور نظر بھی رکھی جاتی ہے۔ آپ کی کسی بھی ٹوئٹ کو اٹھا کر آپ کے خلاف استعمال کر کے اکاؤنٹ عارضی طور پر بند کرا دیا جاتا ہے۔ وہ قانون جو آپ کی حفاظت کے لیے بنائے گیے ہیں ان کو آپ کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمارے سامنے مثالیں موجود ہیں جیسے عمار علی جان کو ہراساں کیا گیا، ایف آئی اے کے ذریعے کارروائی کی گئی۔ تو کل کو اگر غائب کرنے کی کوشش کریں گے وہ بھی سب کے سامنے آ جائے گا۔‘
لیکن فریحہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر بات کرنا اور بھی زور پکڑے گا کیونکہ ’اگر آپ کو یاد ہو تو مطیع اللہ جان کے کیس میں ملک کی سب سے بڑی عدالت کی طرف سے ان کی گمشدگی کی ویڈیوز منظرِ عام پر ہونے کے باوجود ’مبینہ‘ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ تو جب مطیع اللہ جیسی شخصیت کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جا سکتا ہے تو آپ کے خیال میں عام آدمی کو اس سے کیا پیغام ملے گا؟‘