پاکستان میں کاٹن کی پیداوار میں ریکارڈ کمی: ’میں اب گنے کی فصل کاشت کرتا ہوں، لیکن دل آج بھی کپاس کی فصل اگانے کو کرتا ہے‘

کپاس

،تصویر کا ذریعہAFP

    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

’آج میں اپنی زمینوں پر گنے کی فصل کاشت کرتا ہوں لیکن میرا دل آج بھی کپاس کی فصل اگانے کو کرتا ہے۔ آج بھی میں اپنی زمین کے ایک چھوٹے سے حصے پر کپاس کی فصل کاشت کرتا ہوں کہ کہیں میں یہ فصل کاشت کرنا بھول نہ جاؤں۔‘

یہ الفاظ ضلع رحیم یار خان میں واقع گاؤں فتح پور پنجابیاں کے زمیندار راشد عمران کے ہیں۔ 100ایکٹر اراضی کے مالک راشد عمران پہلے تقریباً اپنی تمام زرعی اراضی پر کپاس کی فصل کاشت کرتے تھے تاہم گذشتہ چند برسوں سے وہ اپنے 90 فیصد سے زائد رقبے پر گنے کی کاشت کر رہے ہیں۔

ان کی زیر ملکیت اراضی میں اب وہ صرف پانچ ایکٹر رقبے پر کپاس اگاتے ہیں۔ راشد عمران کا کہنا ہے کہ گنے کی کاشت اب مجبوری بن چکی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں اور کپاس کے ناقص بیج کی وجہ سے انھیں دوسری فصل کی کاشت کرنا پڑی۔

لیکن پاکستان کے زرعی شعبے میں راشد عمران ایسے اکیلے زمییندار کاشت کار نہیں جو اب کپاس کی کم فصل بو رہے ہیں۔

کپاس کی کم کاشت کی وجہ سے پاکستان کو اس وقت کاٹن کی تاریخی کمی کا سامنا ہے۔ اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال جنوری کے مہینے کے اختتام تک پاکستان میں کاٹن کی پیداوار گذشتہ سال کے مقابلے میں 34 فیصد تک گر چکی ہے۔

کاٹن پاکستان کے سب سے بڑے برآمدی شعبے ٹیکسٹائل کا بنیادی اور اہم جزو ہے۔ کاٹن کی کم پیداوار سے پاکستان کا یہ برآمدی شعبہ مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے جس کی رواں مالی سال میں اب تک کارکردگی اچھی رہی۔

یہ بھی پڑھیے

کپاس کی فصل

پاکستان میں کاٹن اور ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ افراد اور ماہرین کے مطابق کاٹن کی پیداوار میں اس سال ہونے والی ریکارڈ کمی اچانک رونما نہیں ہوئی بلکہ تسلسل سے اس میں کمی آ رہی تھی۔

گذشتہ چند برسوں میں کاٹن کاشت کرنے کے رقبے میں کمی، موسمیاتی تبدیلیوں اور ناقص بیچ نے مجموعی طور پر کاٹن کی فصل کی پیداوار کو شدید متاثر کیا اور آج صورت حال اس نہج تک پہنچ چکی ہے کہ پاکستان کو ٹیکسٹائل مصنوعات کی پیداوار کے لیے ریکارڈ کاٹن بیرون ملک سے درآمد کرنے پڑ رہی ہے۔

کاٹن کی پیداوار میں کتنی کمی واقع ہوئی

پاکستان کی کاٹن کی پیداوار میں ایک سال میں 34 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی۔

موجودہ سال میں جنوری کے مہینے کے اختتام تک پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 55 لاکھ کاٹن کی گانٹھیں جننگ فیکٹریوں میں پہنچیں جو گذشتہ سال تقریباً 85 لاکھ گانٹھیں تھیں۔

جننگ فیکٹری

چیئرمین کاٹن بروکرز فورم نسیم عثمان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ 30 سال میں کاٹن کی کم ترین پیداوار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں کاٹن پیدا کرنے والے دو بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں کاٹن کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ میں بالترتیب 34 اور 38 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ پاکستان میں کاٹن سیزن کا اختتام فروری کے مہینے میں ختم ہو جاتا ہے اور اس مہینے میں مزید ایک لاکھ کاٹن کی گانٹھیں آ سکتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس 85 لاکھ کاٹن کی گانٹھیں جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھیں اور اس سال ہمارا تخمینہ اس سے زیادہ کا تھا تاہم اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق کاٹن کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں بہت زیادہ گر چکی ہے۔

کاٹن کی پیداوار میں کمی کی کیا وجہ ہے؟

پاکستان میں کاٹن کی پیداوار میں ریکارڈ کمی اگرچہ اس سال واقع ہوئی ہے تاہم ماہرین اور اس شعبے سے وابستہ افراد اس کی کافی عرصے سے نشاندہی کر رہے ہیں کہ ملک میں اس فصل کی کاشت میں مسلسل گراوٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔

کپاس کی فصل

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے اس سلسلے میں بتایا کہ کاٹن کی پیداوار میں اگرچہ تسلسل سے کمی آ رہی ہے مگر رواں برس اسے کچھ زیادہ غیر معمولی حالات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ پاکستان کے کاٹن زون میں وہ غیر معمولی اور طوفانی بارشیں تھیں جس نے سندھ اور پنجاب میں اس فصل کو شدید نقصان پہنچایا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کاٹن کی پیداوار میں کمی کی ایک دوسری بڑی وجہ کاٹن کے زیر کاشت رقبے میں مسلسل کمی ہے جس میں سب سے بڑی وجہ کاشت کاروں کا دوسری فصلوں خاص کر گنے کی کاشت پر چلے جانا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’آج حالت یہ ہے کہ ملک میں کاٹن کی مجموعی پیداوار بمشکل 55 لاکھ گاٹنھوں تک پہنچی ہے۔‘

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی زرعی شعبے پر اپنی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں کپاس کاشت کرنے کے رقبے میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے اور اب یہ صرف 22 لاکھ ہیکٹر رقبے پر کاشت ہوتی ہے جو سن 1982 کے بعد اس کے زیر کاشت رقبے کی کم ترین سطح ہے۔

احسان الحق نے کہا کہ پاکستان میں ساہیوال (پنجاب) سے لے کر حیدرآباد (سندھ) کا علاقہ کراپ زوننگ لا کے تحت کاٹن زون قرار دیا گیا تھا اور اس زون میں کوئی نئی شوگر مل نہیں لگ سکتی اور نہ ہی پہلے سے کام کرنے والی شوگر مل اپنے پلانٹ میں توسیع کر سکتی ہیں۔

تاہم اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس زون میں رحیم یارخان کے علاقے میں گذشتہ دس پندرہ برسوں میں تین نئی شوگر ملیں لگ چکی ہیں تو دوسری جانب پہلے سے کام کرنے والی دو شوگر ملوں میں توسیع ہو چکی ہے۔‘

گنے کی فصل

وہ کہتے ہیں کہ ’ان شوگر ملوں کی وجہ سے پاکستان کے کاٹن زون میں کپاس کی فصل کی بجائے گنے کی گاشت کی جار ہی ہے جو کپاس کی فصل کی کاشت میں کمی کی وجہ بنا ہے۔‘

فتح پور پنجابیاں کے زمیندار راشد عمران کا کہنا ہے کہ اگرچہ گنے کی فصل کاشت کرنے کا معاوضہ اچھا ملتا ہے تاہم اس کی شوگر ملوں سے وصولی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے مقابلے میں کپاس کی فصل پر جننگ فیکٹریوں سے اپنی رقم کی وصولی کے لیے انھیں کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔

کپاس کا ناقص بیج

کپاس

پاکستان میں کاٹن کی پیداوار میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ اس کا ناقص بیج ہے جس میں بہتری کے لیے پاکستان میں کوئی کام نہیں ہوا۔

نسیم عثمان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں کپاس کے بیچ میں بہتری لانے کے لیے کوئی تحقیق نہیں کی گئ جس کی وجہ سے پرانے بیچ کی وجہ سے فی ایکٹر پیداوار بہت کم ہےاور اس میں مسلسل کمی بھی واقع ہو رہی ہے۔‘

پاکسان اپیرل فورم کے چئیرمین جاوید بلوانی نے بتایا کہ ملک میں کاٹن پر تحقیق کے دو ادارے ہوا کرتے تھے۔ ایک ملتان اور دوسرا کراچی میں واقع تھا۔ ملتان میں واقع ریسرچ انسٹیٹوٹ تو کام کر رہا ہے۔

تاہم کراچی میں مائی کلاچی روڈ پر واقع اس ریسرچ انسٹیوٹ کو ختم کر کے اس کی زمین امریکن قونصلیٹ قائم کرنے کے لیے دے دی گئی تھی۔ امریکی قونصلیٹ قائم ہو گیا لیکن کاٹن ریسرچ کے انسٹیوٹ کے لیے متبادل زمین کا آج تک پتا نہ چل سکا۔

کاٹن کی پیداوار ٹیکسٹائل کے شعبے کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟

کپاس

پاکستان کے برآمدی شعبے میں ٹیکسٹائل مصنوعات اس شعبے کا تقریباً 60 فیصد ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لگنے والے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد جب معاشی سرگرمیاں پوری طرح بحال ہوئیں تو اس شعبے کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس کی برآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اب تک کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی ٹیکسٹائل کی برآمدات اس سال کے پہلے چھ ماہ میں سات ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہیں۔

کاٹن کے شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق اب تک ملک میں ٹیکسٹائل کا شعبہ امپورٹڈ کے ساتھ مقامی کاٹن بھی استعمال کر رہا تھا لیکن آنے والے چند مہینوں میں نئی فصل کے آنے سے پہلے ان کا تمام تر انحصار درآمدی کاٹن پر ہو گا۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے زونل ہیڈ آصف انعام نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کاٹن کی کم پیداوار کی وجہ سے بیرون ملک سے کاٹن درآمد کرنا پڑے گی جو ملکی کاٹن کے مقابلے میں مہنگی ہو گی اور اس کی قیمت کو ٹیکسٹائل ملوں کو اپنے اخراجات میں شامل کرنا پڑے گی۔

انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے شعبے کو اپنی ضرورت کے لیے امریکہ، برازیل اور افریقہ سے کاٹن درآمد کرنی پڑتی ہے جس میں سے 50 فیصد گذشتہ برس امریکہ سے منگوائی گئی تھی۔

جاوید بلوانی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والی کاٹن اور دھاگے کا فریٹ اور ڈیوٹی اسے مقامی کاٹن کے مقابلے میں زیادہ مہنگا کرتی ہے جس کا مجموعی اثر ٹیکسٹائل مصنوعات کی لاگت پر آئے گا۔

احسان الحق نے اس سلسلے میں بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق ٹیکسٹائل کے شعبے کو اس سال 50 لاکھ کاٹن گانٹھیں برآمد کرنا پڑیں گی جو کہ تقریباً تین ارب ڈالر تک کا امپورٹ بل بن سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک جانب حکومت درآمدات کو کم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے تو دوسری جانب مقامی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے کاٹن کو درآمد کرنا پڑے گا۔

جو زرمبادلہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی صورت میں کمایا جا رہا ہے اسے کاٹن کی درآمد کی صورت میں بیرون ملک بھیج دیا جائے گا جو ملک کے تجارتی توازن میں بگاڑ پیدا کرے گا۔

کپاس کی گانٹھیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کاٹن کی کم پیداوار کے مزید کیا نقصانات ہیں؟

ملک میں کاٹن کی پیداوار میں کمی نا صرف ٹیکسٹائل کے شعبے کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ دوسری جانب اس کے منفی اثرات ملک میں خوردنی تیل کے شعبے پر بھی آ سکتے ہیں۔ پاکستان میں کاٹن کی فصل کا ایک بائی پراڈکٹ کاٹن سیڈ ہے جس سے بنولے کا تیل نکلتا ہے جو ملک میں پام آئل کے ساتھ خوردنی تیل کا ایک جزو ہے۔

ماہر کاٹن احسان الحق نے کہا کہ کاٹن کی پیداوار میں کمی سے بنولہ آئل کی پیداوار میں بھی کمی آ رہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو مزید مہنگا خوردنی تیل درآمد کرنا پڑے گا۔

انھوں نے بتایا کہ ایک من کپاس کی فصل سے 20 کلو گرام بنولہ تیل تیار کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کپاس کا پودا جلانے کے بھی کام آتا ہے۔ جب فصل تیار ہونے کے بعد اس سے کپاس کا پھول اتار لیا جاتا ہے تو باقی بچ جانے والے پودے کو کاٹن زون کے علاقوں میں جلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

احسان الحق کہتے ہیں کہ اگر اس کی فصل میں کمی آتی ہے تو جلانے کے لیے لکڑی کی ضرورت درختوں کی کٹائی سے پوری ہو گی جو پاکستان جیسے ماحولیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ملک کے لیے مزید تباہی کا باعث بنے گی۔

’مقامی طور پر پیدا ہونے والی کاٹن سے بننے والا کپڑا اور ٹیکسٹائل مصنوعات درآمدی کاٹن کے مقابلے میں سستے ہوتے ہیں جو کاٹن کی مقامی پیداوار میں کمی کی وجہ سے مہنگے ہو سکتے ہیں جس کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑتا ہے۔‘