بچوں سے جنسی زیادتی: ’سیریل ریپسٹ اور قاتل‘ 12 سالہ بچے کو نشانہ بنانے کے بعد پولیس کی گرفت میں کیسے آیا؟

- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی
’میں اپنے بیٹے کی میت کا آخری دیدار نہیں کر سکا کیونکہ مجھ میں ایسا کرنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔۔۔‘
بلوچستان کے شہر ژوب سے تعلق رکھنے والے خدائے رحم اس سے آگے کچھ نہ کہہ سکے اور فون پر ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دیے اور فون اپنے ایک کزن کے حوالے کر دیا۔
خدائے رحم کا 12 سالہ بیٹا عصمت اللہ آج سے ایک ہفتہ قبل 28 جنوری کو لاپتہ ہو گیا تھا۔
’میرا بیٹا چوتھی جماعت کا طالبعلم تھا۔ آج کل چونکہ سکول بند ہیں تو وہ محنت مزدوری کر رہا تھا۔ میں خود دہاڑی دار مزدور تھا مگر اب کمر کی تکلیف میں مبتلا ہوں۔ عصمت اللہ اور میرا ایک اور بیٹا میرے ساتھ گھر کا چولہا چلانے کے لیے محنت مزدوری کرتے تھے۔‘
خدائے رحم نے بتایا کہ بیٹے کی گمشدگی کے بعد اُنھوں نے پہلے اپنے محلے کی مساجد میں اعلانات کروائے اور اس کے بعد پورے شہر میں لاوڈ سپیکر کے ذریعے اپنے بچے کی تلاش کے لیے اعلان کیا مگر عصمت اللہ کا کچھ پتا نہ چل سکا۔
پھر تین روز بعد 31 جنوری کی صبح ژوب کے مضافات میں مقامی گاؤں کے کچھ افراد کو ایک بچے کی جُھلسی ہوئی لاش ملی۔ مقامی افراد نے میت کو ہسپتال پہنچایا اور ابتدائی تفتیش کے بعد معلوم ہوا کہ یہ 12 سالہ عصمت اللہ ہی کی لاش ہے جو گذشتہ تین دن سے لاپتہ تھا۔
مقامی پولیس کے مطابق اس بچے کا لگاتار دو دن ریپ کیا گیا اور اس کے بعد اس کا گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا گیا اور جرم کے ثبوت مٹانے کی غرض سے لاش کو نذر آتش کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق عصمت اللہ کا مبینہ قاتل ایک ایسا شخص ہے جو پہلے بھی دو مرتبہ بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کر چکا ہے اور الزامات ثابت ہونے پر اسے مختلف اوقات میں عدالت سے دو مرتبہ عمر قید کی سزا بھی سنائی جا چکی ہے جس میں سے ایک کیس میں وہ حال ہی میں جیل سے رہا ہوا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کو اپنے سوتیلے بیٹے کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کے الزام میں سنہ 2018 میں عمر قید ہوئی تھی مگر ایک ہی سال بعد وہ اپنی سابقہ اہلیہ کو کچھ رقم ادا کر کے جیل سے چھوٹ گیا تھا۔ اس واقعے سے قبل یہ ملزم ایک 18 سالہ نوجوان کو زیادتی کے بعد قتل کرنے کے جرم میں 14 سال جیل کاٹ چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
’سیریل ریپسٹ اور قاتل‘ پولیس کی گرفت میں کیسے آیا؟

14 سالہ عصمت اللہ ژوب شہر میں ریڑھی ٹرالی چلاتا تھا۔ یہاں اکثر غریب افراد شہر میں اشیائے خوردونوش اور گھریلو ضروریات کی چیزیں بازار سے انھی ریڑھیوں کے ذریعے گھروں تک پہنچاتے ہیں، جن کے عوض انھیں تھوڑا بہت معاوضہ دیا جاتا ہے۔
عصمت اللہ کے لاپتہ ہونے کے دو دن بعد اس کے اہلخانہ نے اپنے ایک پڑوسی پر اس اغوا میں ملوث ہونے کا شک ظاہر کیا۔
اس شک کی وجہ وہ بات تھی جو کچھ عرصہ قبل عصمت اللہ نے اپنی دادی کو بتائی تھی کہ اس پڑوسی نے کئی بار اس سے ریڑھی پر سامان منگوایا تھا۔ دادی اور گھر والوں کو اس بات پر شک ہوا کہ اگر واقعی کوئی سامان لے جانے کا مقصد تھا تو بار بار اور مختلف دنوں میں کیوں یہ بات کہی گئی؟ سامان تو ایک ہی دن منگوایا جا سکتا تھا۔
بچے کے اہلخانہ کی جانب سے شک کے اس اظہار کے بعد مقامی پولیس نے اس ملزم کی تلاش شروع کر دی۔ یاد رہے کہ اس وقت تک عصمت اللہ کی لاش نہیں ملی تھی بلکہ وہ صرف لاپتہ تھا۔
پولیس حکام کے مطابق انھوں نے پہلے ایک دوست کے ذریعے ملزم کو ڈھونڈنے کی کوشش کی اور اسی دوست کے ذریعے ملزم سے ملاقات کا وقت اور جگہ طے ہوئی۔ تاہم ملزم کو شک گزرا اور وہ بتائے گئے وقت پر مقررہ جگہ پر نہیں آیا۔
اگلی صبح جب عصمت اللہ کی جلی ہوئی لاش ملی تو ژوب شہر میں تمام سیاسی جماعتوں اور شہر کے علما کی جانب سے شہری انتظامیہ کے خلاف ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
مقامی افراد کی جانب سے دن بھر شہر میں دھرنا دیے جانے کے بعد شام کو پولیس نے ایک بار پھر ملزم کی تلاش شروع کر دی۔ شہر میں اس ملزم کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کے بعد مقامی پولیس نے ملزم کے گھر والوں سے معلومات لیں جس سے یہ علم ہوا کہ ملزم کی بہن کا گھر ژوب شہر سے دور ایک پسماندہ گاؤں میں ہے اور امکانات ہیں کہ ملزم وہاں ہو۔
پولیس کے مطابق رات تقریباً نو بجے کے قریب مقامی پولیس نے اس دور دراز گاؤں میں اس گھر پر چھاپہ مارنے کا فیصلہ کیا جہاں ملزم کے چھپے ہونے کا امکان تھا۔
علاقہ ایس ایچ او شیر علی مندوخیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے قافلے میں شامل گاڑیاں تقریباً دس کلومیٹر دور سے بند لائٹس کے ساتھ گاؤں کی طرف چلتی رہیں۔ وہ گاؤں سے پانچ کلومیٹر دور گاڑیاں کھڑی کرنے کے بعد گھر کی جانب پیدل روانہ ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا کرنے کا مقصد یہ تھا کہ گاؤں میں رات کے وقت دور سے گاڑیوں کی آوازیں آ جاتی ہیں، اسی لیے ہم نے گاڑیاں دور کھڑی کیں اور پیدل وہاں پہنچے۔‘
ایس ایچ او نے بتایا کہ گاؤں پہنچتے ہی ملزم کی بہن کے گھر کے مہمان خانے پر چھاپہ مارا گیا اور وہاں سے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش یہ اقرار کر لیا ہے کہ عصمت اللہ نامی بچے کو اسی نے دو دن ریپ کرنے کے بعد قتل کیا اور قتل کرنے کے بعد اس کی لاش جلا دی۔
پولیس کے مطابق ملزم شہر سے باہر ایک عمارت کی چوکیداری کرتا تھا اور اس نے بچے کو بازار سے سامان اسی عمارت تک پہنچانے کے لیے کہا تھا۔
ملزم نے پولیس کے سامنے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عصمت اللہ کو اس عمارت میں سامان لانے کے بہانے بلانے کے بعد اس نے دو دن تک اس کا ریپ کیا اور دوسرے دن رات کے وقت اس کا گلا گھونٹ کر قتل کیا اور لاش جلا ڈالی۔
ایس ایچ او شیر علی مندوخیل کے مطابق گرفتار ملزم اس سے پہلے بھی دو مرتبہ ایسے ہی بچوں کے ریپ اور قتل کے جرم میں جیل میں سزا کاٹ چکا ہے۔
ایس ایچ او کے مطابق ملزم ’سیریل کلر اور ریپسٹ‘ ہے جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے اس کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق ’سنہ 2003 میں اس نے ایک 18 سالہ نوجوان کو ریپ کرنے کے بعد قتل کیا تھا اور اس کے بعد اس کی لاش ایک کنویں میں پھینکی تھی۔‘
انھوں نے کہا کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق مقامی عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی اور وہ 14 سال سزا کاٹ کر جیل سے رہا ہوا تھا۔
ژوب پولیس کی تفتیش کے مطابق ملزم نے جیل سے رہائی کے بعد شہر میں مقیم ایک ایرانی خاتون سے شادی کر لی تھی۔ اس خاتون کی یہ دوسری شادی تھی اور اس کے پہلے شوہر سے چار بچے بھی تھے۔
ایس ایچ او کے مطابق سنہ 2018 میں بھی پولیس نے ملزم کو اپنے سوتیلے بیٹے (جو کہ خاتون کے پہلے شوہر سے تھا) کے ریپ اور قتل کے جرم میں گرفتار کیا تھا اور ایک بار پھر مقامی عدالت نے اسے جرم ثابت ہونے پر 25 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
شیر علی مندوخیل کے مطابق ملزم پر اپنے ہی سوتیلے بچے کا قتل ثابت ہونے پر اس کی بیوی نے اس سے طلاق لے تھی اور پھر ایک سال کے اندر ہی اس نے کچھ رقم کے عوض اپنے سابقہ خاوند کو معاف کیا اور وہ دوبارہ جیل سے رہا ہو گیا تھا۔








