ریپ کے خلاف صدارتی آرڈیننس منظور: کیمیکل کیسٹریشن کی سزا پر عمل کیسے ہو گا؟

کیمیکل کیسٹریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Creative

،تصویر کا کیپشنماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں بھی مجرم کی مرضی کے بغیر کیمیکل کیسٹریشن کی سزا نہیں دی جاتی تاہم کچھ ایسے عادی مجرم ہوتے ہیں جو خود اپنی اصلاح کے لیے یہ سزا تجویز کرتے ہیں کیونکہ وہ اس کے علاوہ اس سے باز نہیں رہ سکتے
    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کی طرف سے ریپ کے خلاف قوانین میں کیمیکل کیسٹریشن جیسی سزاؤں کی اصولی منظوری کے بعد ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ان نئے قوانین کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔

صدر پاکستان عارف علوی نے منگل کو ’اینٹی ریپ آرڈیننس 2020‘ پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ یہ قانون اب چار ماہ کے لیے مؤثر رہے گا اور اب اس عرصے میں پارلیمنٹ قانون سازی کے ذریعے ان قوانین کو مستقل حیثیت دے سکتی ہے۔ اس نئے قانون میں ریپ کے مقدمات میں چار ماہ کے عرصے میں ٹرائل مکمل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

سماجی کارکن اور وکیل نگہت داد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس عمل کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے مشاورت کے بجائے حکومت نے آرڈینس کا راستہ اختیار کیا ہے جو ایک عارضی نوعیت کا قانون ہے۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں ہو رہا تھا جس کی وجہ سے آرڈیننس کا راستہ اختیار کیا گیا ہے۔ اس قانون کے مستقبل کے بارے میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ فروی یا مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہو جائیں گے جس کے بعد پارلیمنٹ میں تحریک انصاف کی حکومت کو اکثریت مل جائے گی اور پھر یہ قانون پارلیمنٹ سے بھی با آسانی منظور کرایا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے

فروغ نسیم کے مطابق نئے قانون میں سخت سزائیں متعارف کرائی گئی ہیں جن میں سزائے موت، تا حیات قید، دس سے 25 سال کی قید، جرمانے اور کیمیکل کیسٹریشن جیسی سزائیں شامل ہیں۔

وزیر قانون کے مطابق کیمیکل کیسٹریشن یا سرجری کے ذریعے کسی کو کچھ عرصے یا ہمیشہ کے لیے نا مرد بھی بنایا جا سکے گا۔ اس قانون کے تحت قومی شناختی ادارہ نادرا ریپ کے مقدمات کے مجرمان کا ڈیٹا بنائے گا جسے صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

فروغ نیسم کے مطابق وزیر اعظم عوامی مفاد میں اس ڈیٹا کو ریلیز کرنے کا بھی حکم دے سکتے ہیں جبکہ یہ ڈیٹا ہسپتالوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ بھی شیئر کیا جا سکے گا۔

کیمیکل کیسٹریشن کے عمل کی تشریح

صدارتی آرڈیننس میں صرف کیمیکل کیسٹریشن کا ذکر شامل ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں عدالت فیصلہ دے گی کہ کس مجرم کو یہ سزا ملنی ہے۔ کیمیکل کیسٹریشن کے عمل سے متعلق عدالتی حکم پر قائم کیا گیا ایک بورڈ کرے گا۔ تاہم اس قانون میں کیمیکل کیسٹریشن کے عمل کی تشریح نہیں کی گئی ہے۔

اس قانون میں اینٹی ریپ کرائسز سیل اور خصوصی کمیٹی بھی بنائی جائے گی، جن کے ذریعے وزیر اعظم، صدر پاکستان اور چیف جسٹس کو بھی جلد ٹرائل مکمل کرنے سے متعلق مشاورتی عمل کا حصہ بنایا گیا ہے۔

اس قانون کے مطابق اب ریپ کرنے والوں کو ان کی مرضی سے کیمیکل کیسٹریشن جیسی سزا دی جا سکے گی، جس سے وہ آئندہ ریپ جیسے جرائم سے باز رہ سکیں گے۔

سزا کا یہ عمل بظاہر ایک علاج کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔

اس وقت دنیا کے چند ممالک ایسے ہیں جہاں عادی مجرمان کی جنسی ہوس کم کرنے کے لیے ایسی سزا کا تصور موجود ہے۔

یہ سزا کب اور کیسے متعارف ہوئی اور اس وقت یہ دنیا میں کہاں کہاں رائج ہے اس بحث سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ کیمیکل کیسٹریشن کا عمل ہوتا کیا ہے اور ریپ کے مقدمات میں مجرموں کو یہ سزا دی کیسے جاتی ہے؟

اس حوالے سے بی بی سی نے میڈیکل کے شعبے کے ماہرین سے جاننے کی کوشش کی کہ اس سزا سے انسانی جسم پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیمیکل کیسٹریشن کے عمل کے مضر اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں؟

ڈاکٹر عبید علی نے مختلف سرکاری محکموں میں دو دہائی کا عرصہ ادویات کے قوانین نافذ کرنے میں گزارا۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اب سینٹر فار کوالٹی سائنسز سے وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر عبید علی نے بی بی سی کو بتایا کہ کیمیکل کیسٹریشن ایک خطرناک سزا ہے، جس میں مردوں میں مردانگی ختم کرنے کی جستجو میں مردانہ ہارمون کی سطح کو کم کیا جاتا ہے، جس سے اس کے اندر جنسی لذت حاصل کرنے کی چاہت کچھ عرصے کے لیے کم کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر عبید کہتے ہیں انسانی جسم میں حیاتیاتی کیمیائی نظام کا ایک توازن ہے اور اس میں مصنوعی چھیڑ چھاڑ اس فرد کے لیے انتہائی ہولناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

ان کی رائے میں کیمیکل کیسٹریشن کے عمل سے دماغی اور نفسیاتی مسائل کے علاوہ دل کی بیماریوں کا پیدا ہونا تقریباً یقینی بات ہے۔

ڈاکٹر عبید علی کہتے ہیں کہ ’اس کیمیکل کیسٹریشن کے مقصد کے لیے مطلوبہ دواؤں کا وسیع مطالعہ نہیں کیا گیا لہٰذا بغیر متوازن تحقیق اس کو دائمی محفوظ نہیں کہا جا سکتا۔‘

کیمیکل کیسٹریشن کتنے عرصے کے لیے مؤثر رہتی ہے؟

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ کیمیکل کیسٹریشن سے جنسی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ یہ صلاحیت دوبارہ بحال ہو جاتی ہے۔

اسلام آباد میں واقع پولی کلینک ہسپتال کے شعبہ یورولوجی کے سربراہ ڈاکٹر شہباز حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ کیمیکل کیسٹریشن کا تصور ابھی واضح نہیں ہے۔

ان کے مطابق ایسی ادویات اور انجیکشن ضرور موجود ہیں جن سے جنسی صلاحیت کو کم کیا جاتا ہے مگر یہ کسی کو اس صلاحیت سے محروم کرنے کے لیے مؤثر طریقہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر شہباز کے مطابق یہ ایک مہنگا علاج ہوتا ہے مگر اس کے جنسی صلاحیت پر زیادہ عرصے کے لیے اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک مجرم کو ایک سال تک ہر تین ماہ بعد جنسی صلاحیت دبانے والے انجیکشن لگائے جائیں تو اس کا کل خرچہ کم از کم ڈیڑھ لاکھ تک بنتا ہے۔

اب یہ دیکھنا ہو گا کہ رہائی کے بعد ایسے شخص کی ہر تین ماہ بعد ہسپتال آنے کی ضمانت کون دے گا جبکہ دوران قید اس عمل کا کوئی فائدہ نہیں رہتا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹر الطاف حسین کے مطابق کیمیکل کیسٹریشن کا عمل کم از کم ایک سال کے عرصے کے لیے جاری رہتا ہے اور اس عرصے میں وقفے وقفے سے مجرم کو جنسی صلاحیت کم کرنے والے انجکشن لگائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر عبید علی کا کہنا ہے کہ کیمیکل کیسٹریشن کا عمل تین سے پانچ سال تک مؤثر رہتا ہے اور اس کے بعد پھر جنسی صلاحیت پیدا کرنے والے ہارمونز۔۔ ٹیسٹو سٹرون (testosterone)۔۔ فعال ہو جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ایل ایچ آر ایچ اور میڈروکسی پروجیسٹرون (Medrooxy progesterone) جیسی کیمیائی ادویات مردانہ ہارمون کو کم کرتی ہیں اور عمومی طور پر دوا کے اثر کے زائل ہونے کے بعد مردانہ ہارمون کی سطح آہستہ آہستہ واپس آجاتی ہے۔

ڈاکٹر عبید علی کے مطابق مجرم کی صحت اور عمر کے حساب سے اس دوا کے مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کیمیکل کیسٹریشن کا تصور کہاں سے آیا؟

ڈاکٹر الطاف کے مطابق سزائے موت اور عمر قید جیسی سزاؤں کے متبادل کے طور پر 1944 میں پہلی بار کیمیکل کیسٹریشن کی سزا متعارف کرائی گئی تھی جو بعد میں دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہو گئی۔

ان کے مطابق یہ سزا عادی مجرمان کے لیے تجویز کی گئی تھی۔

لیوپرولائیڈ ایسی ٹیٹ (Leuprolide acetate) آج کل استعمال ہو رہی ہے جو ان ہارمون کو ڈپرس کرتی ہے، جس کی وجہ سے جنسی ہوس میں کمی واقع ہوتی ہے۔

ان کے مطابق اس عمل کے ساتھ نفسیاتی تھراپی کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔

ڈاکٹر الطاف کے مطابق یہ سزا یورولوجی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے ڈاکٹر کی زیر نگرانی دی جاتی ہے جبکہ نفسیاتی تھراپی کا عمل ماہر نفسیات کی نگرانی میں ہوتا ہے۔

اس وقت امریکہ کی چند ریاستوں کے علاوہ کیمیکل کیسٹریشن کی سزا انڈونیشیا، پولینڈ اور روس سمیت دیگر کچھ ممالک میں بھی رائج ہے۔

ڈاکٹر شہباز حنیف کی رائے میں اس عمل کے لیے کیسٹریشن کی اصطلاح درست نہیں ہے۔

ان کے خیال میں کیسٹریشن تو ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس کے بعد جنسی صلاحیت دوبارہ فعال نہیں ہو سکتی۔ تاہم اگر اس وقت ہارمون کو ڈپرس کرنے والے رائج طریقہ علاج کی بات کی جائے تو پھر 20 سال کی عمر والے فرد پر تو ایسے انجکشن کے ذیادہ اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔

پاکستان میں باقی سب کی طرح ڈاکٹر شہباز کو بھی ابھی اس بات کا انتظار ہے کہ اس شعبے میں کہیں حکومت کوئی نیا تصور تو متعارف کرانے نہیں جا رہی ہے، جس کے بارے میں ابھی شاید خود یورولوجی کے ماہرین بھی ذیادہ علم نہیں رکھتے ہیں۔