ڈینیئل پرل قتل: احمد عمر شیخ کی سزائے موت کے خاتمے کے خلاف حکومتِ سندھ کی اپیل مسترد، چاروں ملزمان کی رہائی کا حکم

احمد عمر شیخ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈینیئل پرل قتل کیس میں احمد عمر شیخ 18 برس سے زیادہ عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ان کی رہائی کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کی سپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے مقدمۂ قتل میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی اپیل مسترد کر دی ہے جبکہ مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کی اپیل منظور کرتے ہوئے ان سمیت چاروں ملزمان کو بری کر دیا ہے۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو ایک کے اکثریتی فیصلے سے ان درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ اگر ملزمان کے خلاف کوئی اور مقدمہ نہیں ہے تو اُنھیں فوری طور پر رہا کردیا جائے۔

امریکی صحافی ڈینیئل پرل 2002 میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کر دیے گئے تھے اور اسی برس انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو سزائے موت سنائی تھی۔

اس فیصلے کے خلاف اپیل کا فیصلہ 18 برس بعد دو اپریل 2020 کو ہوا اور سندھ ہائی کورٹ نے ان کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اسے اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا سے بدل دیا تھا جبکہ دیگر تین ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔

سندھ حکومت نے اپریل 2020 میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے اپنی اپیل میں سپریم کورٹ سے استدعا کی تھی کہ احمد عمر شیخ کی سزائے موت جبکہ اس مقدمے کے دیگر ملزمان فہد سلیم، سلمان ثاقب اور محمد عادل کی عمر قید کی سزائیں بحال کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیے

عدالت نے جہاں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کیا وہیں احمد عمر شیخ کی ڈینیئل پرل کے اغوا کے جرم میں دی گئی سزا کے خلاف اپیل کو منظور کرتے ہوئے انھیں اس معاملے میں بھی شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

سماعت میں کیا ہوا؟

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں ملزمان کی رہائی کے بارے میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت اور ملزمان کے وکلا کی طرف سے دائر کی گئیں درخواستوں کی سماعت کی۔

بینچ میں موجود جسٹس یحیٰی آفریدی نے سندھ کے پراسکیوٹر جنرل فیاض شاہ سے استفسار کیا کہ گذشتہ سماعت کے بعد اُنھوں نے دعوی کیا تھا کہ احمد عمر سعید شیخ کے جیل میں رہ کر شدت پسندوں کے ساتھ رابطے رکھتے تھے تو کیا اس بارے میں کوئی شواہد سامنے آئے ہیں۔

اس پر سندھ کے پراسکیوٹر جنرل نے کہا کہ اس حوالے سے خفیہ اداروں کی رپورٹ موجود ہے۔

بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ کن ٹیلی فون نمبر سے شدت پسندوں سے رابطے تھے تاہم اس بارے میں بھی پراسکیوٹر جنرل کوئی جواب نہ دے سکے۔

جسٹس یحیٰی آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا اس جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی ہوئی جہاں پر ملزم موبائل فون استعمال کرتے تھے لیکن اس کے بارے میں بھی سندھ کے پراسکیوٹر جنرل عدالت کو مطمئن نہ کرسکے۔

بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیے کہ سنہ 2009 کے معاملے کو لیکر آگئے ہیں لیکن ثبوت ان کے پاس کچھ نہیں۔

احمد عمر شیخ کے وکیل اور والد کا عدالتی فیصلے کے بعد رد عمل

عدالت
،تصویر کا کیپشناحمد عمر شیخ کے والد سعید احمد شیخ

جمعرات کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد احمد عمر شیخ کے وکیل محمود شیخ نے عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج کے فیصلے میں کہا ہے کہ سندھ حکومت کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جو اپیل کی تھی 'سپریم کورٹ اس سے متفق نہیں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ’آج کے فیصلے کے بعد ثابت ہوتا ہے کہ ہماری عدالتیں آزاد ہیں اور کسی کے دباؤ میں نہیں آتیں۔‘

احمد عمر شیخ اس مقدمے کے دوران 18 برس سے زیادہ عرصہ قید میں گزار چکے ہیں اور ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’آج کے فیصلے کے بعد میرے موکل کے خلاف اب پاکستان میں کوئی مقدمہ نہیں ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ سندھ حکومت انصاف کے تقاضے پورے کرے گی اور انھیں مزید قید میں نہیں رکھے گی۔‘

احمد عمر شیخ کے والد بھی فیصلے کے موقع پر عدالت میں موجود تھے۔ فیصلے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’میرا بیٹا جو 19 سال جیل میں قید ہے ، وہ میں کیسے واپس لاؤں۔ اسے اپنا کیرئیر شروع کرنا تھا ، لیکن اسے جیل میں ڈال دیا گیا۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

سعید احمد شیخ کا کہنا تھا کہ ’جب وہ رہا ہو کر آئے گا تو خود فیصلہ کرے گا کہ وہ یہاں پر رہے یا واپس انگلینڈ جائے۔‘

ادھر ڈینیئل پرل کے خاندان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ انھیں ’پاکستانی سپریم کورٹ کی جانب سے ڈینیئل پرل کو اغوا اور قتل کرنے والے احمد عمر شیخ اور دیگر ملزمان کی رہائی کے فیصلے سے دھچکا لگا ہے۔‘

ٹوئٹر پر سلسلہ وار پیغامات میں مقتول امریکی صحافی کے خاندان کی جانب سے کہا گیا ہے ’آج کا فیصلہ انصاف کے عمل کو توڑنے مروڑنے کے برابر ہے اور ان قاتلوں کی رہائی سے پاکستانی عوام اور صحافیوں کو خطرہ لاحق ہوا ہے۔ ہم امریکی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس ناانصافی کو درست کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔‘

پرل خاندان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ پاکستانی حکام انصاف سے ہونے والے اس مذاق کو درست کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے اور کسی بھی قسم کی ناانصافی ڈینیئل پرل کے لیے انصاف کے حصول کی جنگ میں ہمارے عزم کو شکست نہیں دے سکتی۔‘

خیال رہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت نے ان تمام ملزمان کو نظربند کر دیا تھا تاہم دسمبر 2020 میں سندھ ہائیکورٹ نے ہی احمد عمر شیخ سمیت چار ملزمان کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے کر ملزمان کو فوری طور پر جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم عدالت نے تمام ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کو بھی کہا تھا۔

ڈینیئل پرل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمئی 2002 میں کراچی میں ایک گڑھے سے ایک سربریدہ لاش برآمد ہوئی جو ڈی این اے رپوٹ کے مطابق ڈینئیل پرل کی تھی

واضح رہے کہ امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے جنوبی ایشیا میں نمائندے ڈینیئل پرل 23 جنوری 2002 کو کراچی سے لاپتہ ہوئے تھے۔

27 جنوری کو ایک غیر معروف تنظیم 'دا نیشنل موومنٹ فار دا ریسٹوریشن آف پاکستانی سوورینٹی' کی جانب سے دھمکی آمیز پیغام منظر عام پر آیا تھا کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر گوانتانامو بے میں قید پاکستانیوں کو رہا نہ کیا گیا، پاکستان کو ایف 16 طیارے فراہم نہ کیے گئے اور تاوان ادا نہ کیا گیا تو امریکی صحافی کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

21 فروری 2002 کو پاکستانی حکام کو ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی جس میں ڈینیئل پرل کی ہلاکت دکھائی گئی تھی اور پھر اسی برس مئی میں کراچی میں ہی ایک گڑھے سے ایک سربریدہ لاش برآمد ہوئی جو ڈی این اے رپوٹ کے مطابق ڈینئیل پرل کی تھی۔

اس معاملے میں کراچی کے آرٹلری میدان تھانے میں فہد نعیم، سید سلمان ثاقب، شیخ عادل، احمد عمر شیخ کے خلاف امریکی صحافی کے اِغوا اور قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جرم ثابت ہونے پر احمد عمر شیخ کو سزائے موت جبکہ باقی تین مجرمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ نے رواں سال اپریل میں اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے مجرمان کو دی گئی سزاؤں کے خلاف اپیل میں احمد عمرشیخ کی سزائے موت ختم کر کے انھیں اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا دینے جبکہ دیگر تین ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل واشنگٹن ڈی سی کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے تین سالہ پرل پروجیکٹ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان چاروں مجرموں نے صحافی کے اغوا میں ضرور مدد کی تھی تاہم قتل انھوں نے نہیں کیا تھا۔

امریکی صحافیوں کی طرف سے تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق ڈینیئل پرل کے قتل کی ویڈیو بھی دو مرتبہ بنائی گئی تھی۔ پہلی میں صحافی کی گردن کٹ چکی تھی لیکن کیمرا مین نے انھیں قتل کرنے والے عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے مرکزی رہنما خالد شیخ محمد سے کہا تھا کہ وہ دوبارہ اسے ریکارڈ کروائیں اور دوسری مرتبہ خالد نے ڈینئل پرل کا سر تن سے جدا کیا۔

احمد عمر سعید شیخ کون ہیں؟

1973 میں لندن میں ایک متمول اور مذہبی رجحان رکھنے والے پاکستانی خاندان میں پیدا ہونے والے عمر سعید شیخ کے بارے میں سابق پاکستانی فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سنہ 2006 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب 'ان دی لائن آف فائر' میں لکھا کہ 'عمر شیخ کو لندن اسکول آف اکنامکس میں دوران تعلیم ہی برطانوی انٹیلی جنس ادارے ایم آئی سکس نے بھرتی کر لیا تھا۔ ان کے ذریعے بوسنیا میں سرب جارحیت کے خلاف لندن میں مظاہرے منعقد کروائے گئے حتیٰ کہ برطانوی انٹیلی جنس نے اسے کوسوو میں جہاد کے لیے بھی بھیجا'۔

احمد عمر شیخ

،تصویر کا ذریعہAFP

ان معلومات کی کبھی باضابطہ تردید نہیں کی گئی اور خود عمر شیخ نے بھی یہ اعتراف کیا تھا وہ سنہ 1992 میں زمانہ طالب علمی میں بوسنیا گئے تھے اور وہاں مسلمانوں کے خلاف سربوں کے ظلم اور اس پر عالمی طاقتوں کی 'بے حسی' نے ان کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے۔

بوسنیا سے جہاد میں حصہ لینے کا تصور لیے عمر شیخ افغانستان پہنچے جہاں انھوں نے 'جنگی تربیت' حاصل کی لیکن مبصرین کے مطابق اس 'جنگی' تربیت کے استعمال کی انھیں شاید کبھی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ انھوں نے اپنی مغربی تعلیم اور تربیت کو استعمال کرتے ہوئے مغرب سے تعلق رکھنے والوں کو اغوا کر کے اپنے مقاصد پورا کرنے کا پروگرام بنایا۔

1994 میں عمر شیخ نے انڈین دارالحکومت نئی دہلی میں تین برطانوی اور ایک امریکی شہری کو اغوا کیا اور ان کے رہائی کے بدلے دس کشمیری رہنماؤں کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا تاہم یہ منصوبہ ناکام ہوا، وہ پولیس مقابلے میں زخمی ہوئے اور انڈین حکام کی قید میں چلے گئے۔

اس قید سے اسے رہائی دسمبر 1999 میں اس وقت ملی جب ایک انڈین مسافر طیارہ کھٹمنڈو سے دلی جاتے ہوئے اغوا ہو کر قندھار لے جایا گیا۔ طیارے کے مسافروں کے بدلے تین افراد کی رہائی عمل میں آئی جن میں کشمیری جیلوں میں بند مولانا مسعود اظہر، مشتاق زرگر اور عمر شیخ شامل تھے۔

پھر امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے دعویٰ کیا کہ امریکہ پر نائن الیون کے حملوں میں شامل ایک شخص محمد عطا کو پاکستان سے ایک بڑی رقم عمر شیخ نے امریکہ بھیجی تھی۔ ابھی یہ انکشاف اخبارات کی زینت نہیں بنا تھا کہ پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کا اغوا ہو گیا۔

تفتیش کے دوران اس معاملے میں عمر سعید شیخ کا نام سامنے آیا اور پھر کراچی پولیس نے عمر شیخ کو لاہور میں تلاش کر لیا۔ ایک افسر کی ان سے فون پر بات بھی ہوئی اور انھیں ڈینیئل پرل کو رہا کرنے کے بدلے رعایت دینے کی پیشکی کی گئی لیکن پھر وہ تفتیش کاروں کے ریڈار سے غائب ہو گئے۔

دس روز تک تلاش جاری رہی جس کے بعد عمر شیخ نے خود گرفتاری دے دی لیکن اس وقت تک ڈینیئل پرل کو قتل کیا جا چکا تھا۔

گرفتار ہونے کے بعد عمر شیخ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ڈینیئل پرل کے اغوا کے بعد اور گرفتاری سے پہلے کے دو ہفتے انھوں نے لاہور میں اس وقت کے ایک سینیئر بیوروکریٹ اور پاکستان کے سابق وزیرِ داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجازشاہ کے پاس گزارے تھے۔

ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل میں شامل افراد پر مقدمہ امریکہ میں چلانے کا فیصلہ ہوا لیکن پاکستانی حکومت نے عمر شیخ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

پھر پاکستان میں اس مقدمے میں سنہ 2002 میں عمر شیخ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی جس پر اپیل کا فیصلہ 18 برس بعد دو اپریل 2020 کو ہوا اور سندھ ہائی کورٹ نے ان کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اسے اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا سے بدل دیا۔