لشکرِ عمر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
انیس سو تہتر میں لندن میں ایک متمول اور مذہبی رجحان رکھنے والے پاکستانی خاندان میں پیدا ہونے والا نوجوان عمر سعید شیخ عرف عمر شیخ مسلمانوں کے ایک طبقے میں شدت پسندانہ رجحانات اور خاص طور پر پاکستان میں تشدد اور شدت پسندی کے فروغ میں ریاست کے کردار کو سمجھنے کے لیے ایک مکمل انسائیکلو پیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے۔
عمر شیخ فرد واحد کی حیثیت میں ایک مکمل تنظیم اور اپنی ذات میں انجمن ہے۔ اس نے برطانیہ، بھارت اور پاکستان میں مختلف شدت پسند تنظیموں کے ساتھ قریبی تعلق رکھا اور خود اپنی بھی تنظیم بنا ڈالی لیکن اس کی کارروائیاں کسی تنظیمی دائرہ اختیار سے ہمیشہ بالا رہیں۔
عمر شیخ کے بارے میں سابق پاکستانی فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف سنہ دو ہزار چھ میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ میں لکھتے ہیں: عمر شیخ کو لندن اسکول آف اکنامکس میں دوران تعلیم ہی برطانوی انٹیلی جنس ادارے ایم آئی سکس نے بھرتی کر لیا تھا۔ اس کے ذریعے بوسنیا میں سرب جارحیت کے خلاف لندن میں مظاہرے منعقد کروائے گئے حتیٰ کہ برطانوی انٹیلی جنس نے اسے کوسوو میں جہاد کے لیے بھی بھیجا‘۔
اس اطلاع کی باضابطہ تردید نہ ہونا اور خود عمر شیخ کا یہ اعتراف کہ وہ سنہ انیس سو بانوے میں زمانہ طالب علمی میں بوسنیا گیا تھا اور وہاں مسلمانوں کے خلاف سربوں کے ظلم اور اس پر عالمی طاقتوں کی ’بے حسی‘ نے اس کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے، یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہبی رجحان رکھنے والے خاندان کے اس نوجوان کو کس طرح کم عمری ہی میں انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے مقاصد کے لیے کتنی بے دردی سے استعمال کرنا شروع کیا۔
یہ معاملہ شروع تو ایم آئی سکس سے ہوا لیکن کہا جائے کہ ختم (اگر ہوا ہے) پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں پر ہوا تو غلط نہیں ہو گا ۔
بوسنیا سے جہاد میں حصہ لینے کا تصور لیے عمر شیخ افغانستان پہنچا جہاں اس نے جنگی تربیت حاصل کی۔ لیکن اس کے شدت پسندی کے کیرئیر میں اس ’جنگی‘ تربیت کے استعمال کی اسے شائد کبھی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ اس نے اپنی مغربی تعلیم اور تربیت کو استعمال کرتے ہوئے مغرب سے تعلق رکھنے والوں کو اغوا کر کے اپنے مقاصد پورا کرنے کا پروگرام بنایا۔
انیس سو چورانوے میں عمر شیخ نے بھارتی دارالحکومت میں تین برطانوی اور ایک امریکی شہری کو اغوا کیا اور ان کے رہائی کے بدلے دس کشمیری راہنماؤں کی جیل سے رہائی کا مطالبہ کیا۔
یہ منصوبہ ناکام ہوا، پولیس مقابلے میں عمر شیخ زخمی ہوا اور بھارتی قید میں چلا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس قید سے اسے رہائی دسمبر انیس سو ننانوے میں اس وقت ملی جب بھارتی مسافر طیارہ کھٹمنڈو سے دلی جاتے ہوئے اغوا ہو کر قندھار پہنچ گیا۔ طیارے کے مسافروں کے بدلے تین افراد کی رہائی عمل میں آئی جن میں کشمیری جیلوں میں بند مولانا مسعود اظہر، مشتاق زرگر اور عمر شیخ شامل تھے۔
براستہ افغانستان پاکستان پہنچنے والے ان تینوں شدت پسندوں نے پاکستان میں اپنی کارروائیوں کا دو بارہ آغاز کر دیا۔
مسعود اظہر نے جیش محمد کے نام سے تنظیم بنائی تو عمر شیخ اس میں شامل ہوگئے۔ لیکن کچھ عرصے بعد ہی ان سے علیحدہ ہو کر انفرداری طور پر کسی کام میں مصروف ہو گئے۔
یہ کام کیا تھا اس کا پتہ اس وقت چلا جب امریکی سی آئی نے انکشاف کیا کہ امریکہ پر نو گیارہ حملوں میں شامل ایک شخص محمد عطا کو پاکستان سے ایک بڑی رقم عمر شیخ نے امریکہ بھیجی تھی۔
ابھی یہ انکشاف اخبارات کی زینت نہیں بنا تھا کہ پاکستان میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کا اغوا ہو گیا۔
کراچی میں اس اغوا کی ذمہ داری ’موومنٹ فار دی ریسٹوریشن آف پاکستانز ساورینٹی‘ نامی تنظیم نے قبول کر لی۔ اس سے پہلے اس تنظیم کا نام سامنے نہیں آیا تھا۔ تنظیم نے ڈینئل پرل کی رہائی کے بدلے پاکستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کا مطالبہ رکھا۔
امریکی تکنیکی مدد سے تفتیش کار اغوا کاروں کے گروہ کے ایک رکن تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جس نے بتایا کہ ان کے اس چھوٹے سے گروہ کا سرغنہ عمر شیخ ہے۔
کراچی پولیس نے عمر شیخ کو لاھور میں تلاش کر لیا۔ ایک افسر کی اس سے فون پر بات بھی ہوئی اور اسے ڈینئل پرل کو رہا کرنے کے بدلے رعایت دینے کی پیشکی کی گئی لیکن پھر عمر شیخ تفتیش کاروں کے راڈار سے غائب ہو گیا۔
دس روز تک تلاش جاری رہی جس کے بعد عمر شیخ نے خود گرفتاری دے دی لیکن اس وقت تک ڈینئل پرل قتل کیا جا چکا تھا۔
گرفتار ہونے کے بعد عمر شیخ نے اپنے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ڈینئل پرل کے اغوا کے بعد اور اپنی گرفتاری سے پہلے کے دو ہفتے اس نے لاھور میں اس وقت کے ایک سینئر بیوروکریٹ بریگیڈئر ریٹائرڈ اعجازشاہ کے پاس گزارا تھا۔
موصوف پاکستانی خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو میں خدمات انجام دینے کے بعد لاھور میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے۔
ڈینئل پرل کے اغوا اور قتل میں شامل افراد پر مقدمہ امریکہ میں چلانے کا فیصلہ ہوا لیکن پاکستانی حکومت نے عمر شیخ کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حوالہ مجرمان کے معاہدے کے باوجود عمر شیخ کو امریکہ کے حوالے نہ کرنا ایک بڑا سوالیہ نشان کے طور پر آج بھی موجود ہے۔
عمر شیخ کو انسداد د دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی لیکن اس مقدمے پر مزید پیشرفت نو سال سے التواء کا شکار ہے اور عمر شیخ حیدر آباد جیل میں بند ہے۔
عمر شیخ کا نام آخری بار خبروں میں دسمبر دو ہزار آٹھ میں سنائی دیا جب ممبئی حملوں کے بعد ایک نامعلوم شخص نے بھارتی وزیر دفاع پرناب مکھرجی بن کر صدر پاکستان آصف زرداری کو فون کیا اور انہیں پاکستان پر حملے کی دھمکی دی۔
اس دھمکی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اچانک عروج پر پہنچ گئی اور فوجیں سرحدوں کی جانب حرکت کرتی بتائی گئیں۔
چند روز بعد انکشاف ہوا کہ پاکستانی صدر کو یہ ٹیلی فون عمر شیخ نے حیدر آباد جیل سے کیا تھا۔







