پی ڈی ایم: ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر مولانا فضل الرحمان کا رد عمل اور سوشل میڈیا کی بحث

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان کی پیر کو ہونے والی پریس کانفرنس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے راولپنڈی آنے کے پلان پر ڈی جی آئی ایس پی آر سے جب سوال پوچھا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ جی ایچ کیو کے سامنے دھرنا دیں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ آئیں ہم چائے پانی پلائیں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ خود تو پاپا جونز کے پیزے کھائیں اور ہمیں چائے پانی پر ٹرخائیں، یہ تو پھر زیادتی ہے، یہ مہمانداری نہیں ہے۔‘
مولانا فضل الرحمان نے پیر کی شام ملاکنڈ کے مقام بٹ خیلہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کہا گیا کہ نیب کے سامنے مولانا فضل الرحمان کو سرنڈر کرنا ہو گا، میں نے کہا سرنڈر ہونا مولانا فضل الرحمان کا کام نہیں وہ جنرل نیازی کا کام ہے۔‘
آنے والے وقتوں میں آئین کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، صوبوں کے عوام کے حقوق کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور اس قوم کی ملکیت کے خلاف، اس پر قبضہ کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم ان سازشوں کا مقابلہ کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق فوج ملک کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ ’ہزار اختلاف کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فوج کو وضاحت دینی ہو گی کہ وہ غیر جانبدار ہیں کہ عمران خان کے ساتھ فریق ہیں۔ اگر وہ فریق ہیں تو پھر ہماری مجبوری ہو گی کہ جی ایچ کیو کے دروازے پر احتجاج کریں۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف کی طرح کا مارشل لا ہے اور ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے پوری زندگی آمریت کے خلاف جنگ لڑی ہے۔‘
’پی ڈی ایم 19 جنوری کو الیکشن کمشین کے سامنے مظاہرہ کرے گی‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم 19 جنوری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے مظاہرہ کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ اس حکومت نے کرپشن کے دروازے کھول رکھے ہیں اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو یہ نظر نہیں آتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم، اسلام آباد میں 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرے گی اور فارن فنڈنگ کیس کا تعاقب کرے گی جبکہ 21 جنوری کو کراچی میں 'اسرائیل نامنظور' کے لیے ملین مارچ کا انعقاد کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس سے پہلے عوام تمہارے اقتدار کی کشتی غرق کردے، چند دن باقی ہیں خود استعفیٰ دے کر چلے جاؤ۔
عوام سے مل کر ان کٹھ پتلیوں کو بھگائیں گے: بلاول بھٹو

،تصویر کا ذریعہEPA
بلاول بھٹو نے ملاکنڈ جلسے سے خطاب میں کہا کہ ملک پر نااہل اور ناجائز وزیر اعظم اور ناجائز حکمران مسلط ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام سے مل کر ان کٹھ پتلیوں کو بھگائیں گے، ان کا خاتمہ کریں گے، یہاں عوامی راج قائم کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ کسی آمر کے آگے سر جھکایا ہے اور نہ ہی کسی کٹھ پتلی کے آگے سر جھکائیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ تبدیلی والے جھوٹ بولتے ہیں، انھوں نے وعدے پورے نہیں کیے۔
بلاول بھٹو نے تحریک انصاف کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے سارے دھوکے باز ہیں، جنھیں حکومت چلانی نہیں آتی لیکن تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام کو دھوکا دیا۔
بلاول نے کہا کہ ملاکنڈ کے ہر شہری کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سلیکٹڈ چلا جائے جو ملک کو معاشی بحران میں دھکیل رہا ہے جبکہ کٹھ پتلی، سلیکٹڈ راج کا خاتمہ اور جمہوریت بحال کریں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ملاکنڈ کے نوجوانوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ 'اس حکومت میں دہشت گردوں کو رہائی ملی، افسوس کہ ہم شہید ہونے والے اے پی ایس کے بچوں کو اصاف نہیں دے سکے'۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ 'وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے لواحقین کو بلیک میلر قرار دے دیا، یہ کس قسم کا انصاف ہے'۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ 'آج تک کسی شہید کو انصاف نہیں دلا سکے، دہشت گردوں کو قانون کے دائرے میں نہیں لا سکے، ہم اپنے شہیدیوں اور ان کے لواحقین کے آگے شرمندہ ہیں کہ یہ کس قسم کا انصاف ہے جس کا بارے میں وزیر اعظم بات کرتا رہتا ہے۔‘












