وزیر اعظم عمران خان کا خطاب: ’اپوزیشن فوج کے خلاف انڈیا کی پروپیگنڈا مشین جیسی زبان استعمال کر رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں جس طرح حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے فوج پر حملہ کیا ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا اور اپوزیشن کی جانب سے وہ زبان استعمال کی جا رہی ہے جو انڈیا کی پروپیگنڈا مشین پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہے۔
انھوں نے اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے یہ پتہ چلا ہے کہ انڈیا کی جعلی نیوز سائٹس اپوزیشن کے پی ڈی ایم کو بھی فروغ دے رہی تھیں اور کئی ایسے صحافی بھی ہیں جو اس ڈس انفارمیشن کا حصہ تھے اور پی ڈی ایم کو سپورٹ کرتے تھے۔
صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں ہسپتال، لاء کالج، رنگ روڈ منصوبے اور یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی اپوزیشن جس طرح ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستانی فوج، آرمی چیف، آئی ایس آئی کے سربراہ کو تنقید کا ہدف بنا رہی ہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔'
یہ بھی پڑھیے
ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کی ڈس انفو لیب نے انکشاف کیا کہ انڈیا نے 700 جعلی نیوز ویب سائٹس بنا رکھی تھیں اور اس کا مقصد پاکستان کو دنیا کے سامنے منفی انداز میں پیش کرنا تھا تا کہ کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری نہ کرے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPMLN
عمران خان کا کہنا تھا کہ 'اس مہم میں خاص طور پر پاکستانی فوج کو ہدف بنایا گیا کیونکہ انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستانی فوج کمزور ہو اور ان کی پوری منصوبہ بندی ہے کہ دنیا میں پاکستانی فوج کو اس طرح پیش کیا جائے کہ جیسے وہ دہشت گرد ہیں۔‘
نواز شریف کا ردعمل

،تصویر کا ذریعہTwitter/@NawazSharifMNS
وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن کے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم پر فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کے بیان پر سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے ایک ٹویٹ کے ذریعے ردعمل دیا ہے۔
انھوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’فوج اور ایجنسیوں کے خلاف درجنوں بار ہرزہ سرائی کرنے اور اپنی ہر ناکامی کا ملبہ ایک پیج کی آڑ میں فوج کے سر تھوپنے والا عمران خان اس پی ڈی ایم کو نشانہ بنا رہا ہے جو ان جرنیلوں کا محاسبہ کر رہی ہے جنھوں نے ووٹ چوری کر کے عوامی مینڈیٹ کو کچلا اور فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔‘
'نہ دھاندلی کے کوئی ثبوت دیے نہ کسی فورم پر گئے'
وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کا مؤقف ہے کہ الیکشن میں فوج نے دھاندلی کروائی اس لیے حکومت سلیکٹڈ ہے لیکن کوئی ان سے پوچھے کہ اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو کیا آپ الیکشن کمیشن، سپریم کورٹ یا پارلیمنٹ میں آئے اور آپ نے کسی فورم پر کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔‘
عمران خان نے کہا کہ امریکی صدارتی انتخاب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جب ری پبلکن پارٹی نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے تو میڈیا پہلے کہتا تھا کہ انھوں نے ابھی تک کوئی ثبوت نہیں دیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'نہ دھاندلی کے کوئی ثبوت دیے نہ کسی فورم پر گئے اور پاکستانی فوج پر حملہ کرنا شروع کردیا کہ وہ ایک سیلیکٹڈ حکومت لے کر آئے۔'
’اپوزیشن کو این آر او دیا تو غداری ہوگی‘
وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ' خود کو جمہوریت پسند کہلانے والے کہتے ہیں کہ جمہوری حکومت گرا دو، اپوزیشن کا صرف ایک مطالبہ ہے کسی طرح انھیں این آر او دے دیں لیکن کسی نے انھیں این آر او دیا تو وہ کام کرے گا جو دشمن کرتا ہے اور کسی نے ان چوروں کو این آر او دیا تو وہ ملک سے غداری کرے گا۔'
مسلم لیگ ن کی رہنمامریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 'کوئی ان سے پوچھے کہ آپ دونوں کی اہلیت کیا ہے؟ دونوں نے زندگی میں ایک گھنٹہ کام نہیں کیا اور ملک چلانے جارہے ہیں، ان دونوں کا تجربہ یہ ہے کہ یہ بڑی شان و شوکت سے پلے بڑھے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہPMLN
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ملک میں بدترین کرپشن کی، آصف زرداری کو نواز شریف نے کرپشن ہر پی جیل میں ڈالا تھا، انہی دونوں جماعتوں کی وجہ سے ملکی قرضے میں اضافہ ہوا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے خود فیصلہ کرلیا کہ میں صادق و امین ہوں اور کسی کو جوابدہ نہیں۔
’دس برس میں صحت کا نظام بہترین ہوگا‘
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں آئندہ دس برسوں میں صحت کا نظام دنیا کے امیر ترین ممالک کے نظام سے بھی بہتر ہوگا، نجی ہسپتالوں کے لیے کم قیمت پر زمینیں فراہم کریں گے جبکہ پوری کوشش ہے کہ سکولوں کو ڈی سینٹر لائز کردیں۔













