ہزارہ دھرنا: جے آئی ٹی کی تشکیل، دھرنے کے شرکا وزیراعظم کے منتظر

مریم نواز، بلاول
،تصویر کا کیپشنبلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز سمیت حزبِ اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کے دیگر رہنما جمعرات کو دھرنے کے شرکا سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کوئٹہ پہنچے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام نے ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے دس کان کنوں کی ہلاکت کے حوالے سے غفلت کے مرتکب محکموں کے خلاف تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت نے وزیراعظم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ ہزارہ برادری کا دکھ بانٹنے کے لیے اپنی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے فوری طور پر کوئٹہ پہنچیں۔

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا دھرنا جمعرات کو پانچویں دن میں داخل ہو گیا ہے اور دھرنے کے شرکا وزیراعظم عمران خان کی آمد تک اس کے خاتمے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے ہیں۔

کان کنوں کی ہلاکت کا واقعہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب مچھ میں کوئلہ فیلڈ میں پیش آیا تھا جب مسلح افراد نے ہزارہ کان کنوں کو شناخت کے بعد ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کے گلے کاٹ دیے تھے۔

جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی زیر صدارت امن وامان کی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق اس اجلاس میں وزیراعلیٰ نے مچھ میں پیش آنے والے واقعہ پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کچھی اور پولیس کے ضلعی سربراہ کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کا مناسب ڈیٹا مرتب نہ کرنے اور ناقص حفاظتی انتظامات پربھی برہمی کا اظہارکیا۔ انھوں نے تمام کوئلہ کانوں میں سیفٹی انتظامات کیلئے اقدامات اٹھانے اور سہولیات یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تمام کول فیلڈ ساٹس کا معائنہ کرکے حفاظتی انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے

تین میتوں کے لیے افغان حکام کا پاکستانی حکام سے رابطہ

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان حکومت نے تین کانکنوں کی میتوں کی حوالگی کے لیے رابطہ کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں افغان حکومت نے پاکستان کی وفاقی حکومت کو ایک چٹھی بھیجی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ قتل کیے جانے والے 7کان کن افغان شہری ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ افغان حکومت نے اس چٹھی میں کہا ہے کہ ان میں سے تین افراد کے خاندانوں نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ ان کی تدفین افغانستان میں کی جائے۔

وزیر داخلہ نے بتایا کہ ان تین افراد کی میتوں کو افغان حکام کے حوالے کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے جمعرات کو دھرنے کے شرکا سے بات کی ہے ۔

دھرنے کے شرکا کا موقف

دھرنے کے شرکا کا کہنا تھا کہ کئی د ن گزرنے کے باوجود سرکاری حکام کو اب یاد آگیا کہ یہ افغان شہری ہیں۔

جیوٹی وی کے ایک ٹاک شو میں مجلس وحد ت المسلمین کے رہنما اور سابق وزیر آغا رضا نے کہا کہ آخر پہلے دن ان کو کیوں یہ یاد نہیں آیا کہ یہ افغان شہری ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ اگرایران کے چاہ بہار کے علاقے سے کوئی بلوچ یہاںآئے تو کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ وہ ایرانی ہے۔ اگر بھارت سے کوئی آجائے تو ان کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھاتا ۔ اسی طرح اگر کوئی افغانستان سے یہاں آجائے تو ان کے پاکستانی شہری ہونے کے حوالے سے سوالات نہیں کیے جاتے ۔

ان کا کہنا تھا کہ آخر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی پاکستانی شہریت کے بارے میں یہ سوال کیوں اٹھایا جاتا ہے۔

جب دھرنے میں شریک خواتین سے پوچھا گیا کہ مریم نواز نے انہیں کیا یقین دہانی کرائی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ سارے لوگ یہاں صرف تسلی دینے کے لیے آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہیں تسلی نہیں بلکہ تحفظ چاہیے۔

دھرنے کی ایک منتظمہ حمیدہ فدا نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پانچ روز گزرنے کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نہیں آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیر اعظم نہیں آئے تو ان کے مطالبات اس سے بھی زیادہ سخت ہوں گے اور پھر شاید وزیر اعظم آئے بھی تو ہم ان سے مذاکرات سے انکار کریں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے بدھ کو دھرنے کے شرکا کو اپنی آمد کا یقین دلاتے ہوئے ہلاک شدگان کی تدفین کی درخواست کی تھی تاہم جمعرات کو بھی دھرنے کے مقام پر شدید سردی کے باوجود لوگوں کی بہت بڑی تعداد جن میں خواتین بھی شامل ہیں، میتوں کے ہمراہ موجود تھی۔

تاہم وزیرِ اعظم کے دفتر سے کیے گئے ایک ٹویٹ کے مطابق وزیرِ اعظم نے ایک ترک چینل اے نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک بہت افسوس ناک واقعہ ہے۔ انھوں نے یقین دلایا کہ پاکستان میں ہزارہ برادری کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

مغربی بائی پاس پر جاری اس دھرنے میں پانچویں روز شرکا کی تعداد گذشتہ چار روز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

عمران خان کے کوئٹہ کے دورے کا تو کوئی شیڈول سامنے نہیں آیا ہے تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سمیت حزبِ اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت اور دیگر رہنما جمعرات کو دھرنے کے شرکا سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کوئٹہ پہنچے۔

بلاول

جمعرات کو کوئٹہ شہر میں کان کنوں کی ہلاکت کے واقعے کے خلاف مکمل ہڑتال بھی کی گئی۔ شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے دی تھی اور ہڑتال کے باعث شہر کے تمام اہم کاروباری مراکز بند اور نظامِ زندگی معطل رہا۔

بلاول بھٹو زرداری نے متاثرین سے خطاب میں کہا کہ ’ہم کوئٹہ سیاست نہیں دکھ کے لیے آئے ہیں۔ جب بھی کوئٹہ آتے ہیں دکھ میں شریک ہونے کے لیے یہاں پہنچتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان ایک ایسی دھرتی ہے جہاں ہمارے شہیدوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے، لاشوں کو بھی احتجاج کرنا پڑتا ہے۔‘

بلاول کا کہنا تھا کہ ملک میں سب کچھ مہنگا ہوتا جا رہا ہے مگر مزدور کا خون سستا ہو رہا ہے۔ ’آپ کا مطالبہ ایک ہی ہے کہ ہمیں جینے دو۔ آپ کا یہی مطالبہ کراچی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر پیپلز پارٹی کے ورکرز بھی اس میں آپ کے ساتھ شریک ہیں۔‘

مریم ہزارہ دھرنے میں شریک

،تصویر کا ذریعہPMLN

انھوں نے کہا کہ ’ہم اس ریاست سے اپیل کرتے ہیں کہ جو ملک میں سب سے زیادہ محب وطن ہیں وہ آپ کے سامنے بیٹھے ہیں۔ ہم صرف اور صرف انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں، جینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کا خاتمہ کریں گے، اے پی ایس کے بچوں کو انصاف دلائیں گے مگر یہ پلان ناکام ہے۔ ‘

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ نہیں سننا چاہتے کہ بیرونی سازش ہے، اگر ہم اپنے شہریوں کو قتل کروا رہے ہیں تو یہ ہماری ریاست کی ناکامی ہے۔‘

مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے بھی دھرنے کے شرکا سے خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ لاشوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں اس کا احساس ہے لیکن اس کو بیان کرنا مشکل ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان میتوں میں سے ایک میت اس کی بھی ہے جس کے خاندان کا کوئی مرد باقی نہیں اور ایک ایسے بچے کی لاش بھی ہے، جو اپنی فیس جمع کرنے کان میں کام کرنے گیا تھا۔‘

انھوں نے دھرنے کے شرکا کو مخاطب کر کے کہا ’میں حکومت میں نہیں اور آپ کے لیے سوائے آواز اٹھانے کے کچھ نہیں کر سکتی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آپ ایک بے حس شخص کو پکار رہے ہیں لیکن اس کے پاس آنے کا وقت نہیں ہے۔‘

مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان صاحب لاشیں رکھ کر لوگ آپ کے منتظر ہیں۔ کیا آپ کی انا ان لاشوں سے بڑی ہے۔‘

دھرنا
،تصویر کا کیپشنمغربی بائی پاس پر جاری اس دھرنے میں پانچویں روز شرکا کی تعداد گذشتہ چار روز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے

ان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کوئٹہ نہیں آ سکتے تو پھر عوام انھیں اسلام آباد میں کرسی پر بیٹھنے نہیں دیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان، وفاقی وزرا شیخ رشید احمد، علی زیدی اور زلفی بخاری نے دھرنے کے شرکا سے مذاکرات کیے جو بے نتیجہ رہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

دیں اثنا ‏امن کا نوبیل انعام پانے والی ملالہ یوسفزئی نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں ہزارہ برادری پر ہونے والے ظلم و ستم کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے لکھا کہ ’ہزارہ کان کنوں کے وحشیانہ قتل پر اظہارِ غم کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ان کے ساتھ ایسا ہوا ہو لیکن میں امید کرتی ہوں کہ یہ آخری ہوگا۔ اس پر پورا ملک سوگ میں ہے۔

’میں وزیر اعظم‬ سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ جلد ازجلد متاثرین کے اہل خانہ سے ملنے جائیں۔‘

کوئٹہ کے علاوہ ملک بھر میں دھرنے جاری

دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

کراچی میں 15 سے زیادہ مقامات بشمول ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن کے مقام پر، گلستانِ جوہر میں کامران چورنگی، نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی، ایم اے جناح روڈ پر نمائش چورنگی، قومی شاہراہ پر ملیر 15، شارعِ فیصل پر ناتھا خان برج، ملیر میں کالا بورڈ، گلشنِ اقبال میں یونیورسٹی روڈ سمیت مختلف مقامات پر دھرنے جاری ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چائنا چوک کے مقام پر بھی احتجاجی دھرنا جاری ہے جبکہ لاہور میں گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے دیا جا رہا ہے۔

ترجمان مجلس وحدت مسلمین علامہ مقصود علی ڈومکی کا کہنا ہے کہ چاروں صوبوں آزاد کشمیر سمت گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے لوگ مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا ہم ہزارہ شیعہ کمیونٹی کے ساتھ ہیں اور ان کے مطالبات کی منظوری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ورثا سے ملاقات میں وزیر اعظم کو مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔