سلطان نذیر: گلگت کا نوجوان کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک، دو اہلکاروں کے خلاف مقدمہ

نذیر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@IrfanPTI_GB

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو، کراچی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس کی فائرنگ سے ایک نوجوان اسامہ ندیم ستی کی ہلاکت کے دو دن بعد کراچی سے بھی ایسا ہی ایک واقعہ سامنے آیا ہے جس میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان کی ہلاکت ہوئی ہے۔

کراچی پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں اتوار کو چار افراد کو مبینہ مقابلوں میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا جن کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ یہ لوگ ڈاکو ہیں۔

ان افراد میں گلگت بلتستان کی وادی ہنزہ سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ سلطان نذیر بھی شامل تھے جن کے ورثا کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈاکو نہیں تھے بلکہ تعلیم کے سلسلے میں کراچی میں مقیم تھے۔

یہ بھی پڑھیے

ان کے چچا زاد بھائی سلیم اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پورے خاندان سمیت میٹروول کے علاقے میں اپنے کزن کے سوئم میں دعا کے لیے گئے ہوئے تھے، واپسی پر انھوں نے اپنے موبائل سے نذیر کے لیے ’بائیکیا‘ رائیڈ بک کروائی، کیونکہ اُنھیں گارڈن میں واقع اپنی رہائش گاہ جانا تھا۔

’اگلے ہی روز میں ڈیوٹی پر تھا تو گھر والوں نے بتایا کہ نذیر گھر نہیں آیا، میں نے بائیکیا سے کنفرم کیا کہ نذیر آپ کے ساتھ تھا وہ کہاں ہے۔ بائیکیا رائیڈر نے بتایا کہ حبیب بینک چورنگی پر بائیک کا پیٹرول ختم ہو گیا تھا، وہ دھکا دے کر آگے جا رہے تھے تو پولیس کی فائرنگ ہوئی وہ ایک طرف اور نذیر دوسری طرف چلا گیا، اس کے بعد کا اسے معلوم نہیں۔‘

سلیم اللہ بتاتے ہیں کہ وہ حبیب بینک چورنگی گئے جہاں اُنھوں نے پیٹرول پمپ پر جا کر معلوم کیا تو وہاں ایک ملازم نے بتایا کہ پولیس نے ایک بندے کو گذشتہ رات ہلاک کیا ہے۔

’سائٹ تھانے پر گئے تو وہاں پولیس اہلکاروں نے کوئی بات نہیں سنی، بالآخر ایس ایچ او آئے تو ان سے بات کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ڈکیت مارا ہے اور لاش چھیپا کے سرد خانے بھیج دی ہے۔ ایس ایچ او نے وہاں کھڑے کھڑے بھائی کو ڈکیت ڈکلیئر کر دیا۔ لگتا تھا کہ وہ وہاں ہی فائل بند کرنا چاہتے تھے۔‘

سلیم اللہ کی مدعیت میں دو پولیس اہلکاروں شبیر احمد اور جہانگیر کے خلاف قتل کا مقدمہ گذشتہ روز درج کر لیا گیا ہے۔ ان میں سے شبیر احمد کے بارے میں پولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ اس مقابلے میں زخمی ہوئے ہیں۔

نذیر

،تصویر کا ذریعہSocial Media

،تصویر کا کیپشنسلطان نذیر کے مبینہ قتل کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کا عکس

ضلع کیماڑی کے ایس ایس پی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی کی سطح میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

سلیم اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ان کا پوسٹ مارٹم کروانے جا رہے ہیں، اس کے بعد لاش گلگت روانہ کی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ سلطان نذیر کو ہنزہ سے آئے ہوئے دو ماہ ہوئے تھے، وہ یہاں کراچی میں صدر کے علاقے میں ایک کپڑوں کی دکان پر سیلز مین کا کام کرتے تھے اور بی کام کے پرائیوٹ پیپرز کی تیاری کر رہے تھے۔

سوشل میڈیا پر ردِعمل

اس واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سے لوگ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی مذمت کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کریں۔

صارف ایڈووکیٹ رحمت حسین نے لکھا کہ ’ایک اور دلخراش واقعہ۔ گلگت سے تعلق رکھنے والے طالبعلم کو کراچی پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔‘

نذیر

،تصویر کا ذریعہTwitter/@RahmatHussain6

صارف صدام حسین نے لکھا کہ سندھ کی حکومت اور اداروں کو سلطان نذیر کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔

نذیر

،تصویر کا ذریعہTwitter