سہیل یافت: 15 برس بعد باعزت بری ہونے والا شخص جو اب اپنے جیسے اسیران کی مدد کر رہا ہے

- مصنف, عمردراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
بات شک کی بنا پر گرفتاری سے شروع ہوئی اور چند ہی روز میں سہیل یافت جیل میں تھے۔ پولیس کی حراست کے دوران انھیں بدترین جسمانی تشدد سہنا پڑا۔
الٹا لٹکا کر انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، نیند سے محروم رکھا گیا اور پیروں کے تلوں پر ڈنڈے برسائے گئے۔ سہیل یافت کو اب بھی یاد ہے کہ جب وہ صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال کی جیل میں پہنچے تھے تو ان کی ’دونوں ٹانگیں سوجی ہوئی تھیں اور پیشاب کی جگہ خون آ رہا تھا۔‘
پولیس ان سے وہ گاڑی برآمد کروانا چاہتی تھی جس پر قاتل فرار ہوئے تھے۔
یہ معاملہ ہے 20 برس قبل ساہیوال میں ایک شخص کے قتل کا۔ چند افراد نے اس شخص پر گولیاں چلائیں اور گاڑی میں فرار ہو گئے تاہم ان کی شناخت نہ ہو پائی۔
مرکزی ملزم کے علاوہ اندھے قتل کے اس مقدمے میں پولیس نے چند نامعلوم افراد کو بھی شامل کیا۔ انھی نامعلوم افراد کی تلاش میں لاہور سے ایک کالج کے چند طالب علموں کو حراست میں لیا گیا۔ دورانِ تفتیش اُن میں سے ایک طالبعلم نے پولیس کے سامنے سہیل یافت نامی شخص کا نام لے دیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور میں پولیس نے انھیں شک کی بنا پر گرفتار کر لیا اور ابتدائی تفتیش کے بعد انھیں جیل بھیج دیا گیا۔ جیل کے دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی اقلیتی مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ سہیل یافت کے ذہن میں کئی وسوسے، کئی سوال تھے۔
بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ ’مجھے یہ علم تھا کہ میرے پیچھے (یعنی مدد کے لیے) آنے والا کوئی نہیں۔‘
اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے بہن بھائی ان کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے تھے کیونکہ ان کے پاس اتنے مالی وسائل ہی نہیں تھے کہ وہ وکیل کا بندوبست کر سکتے۔
وہ بتاتے ہیں کہ پہلے ہی روز جیل عملے کے رویے سے انھیں یہ بھی اندازہ ہو چکا تھا کہ جس قسم کے تشدد سے وہ گزر کر آ رہے تھے اس کا سلسلہ رکنے والا نہیں تھا۔
جوں ہی انھوں نے جیل کے رجسٹر پر درج کروانے کے لیے اپنا نام سہیل مسیح بتایا تو رجسٹرار نے دوہتھڑ ان کی کنپٹیوں پر مارتے ہوئے کہا تھا ’اوئے چوہڑیا، تو نے اپنے ساتھ ہمارے بچوں کو بھی پھنسا دیا ہے۔‘ سہیل کے ساتھ اس مقدمے میں جیل جانے والے باقی کے دو ملزمان مسلمان تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کیا شازیہ میرا انتظار کرے گی؟
اس عرصے کے دوران سہیل یافت کو مسلسل یہ تکلیف بھی ستا رہی تھی کہ کیا وہ دوبارہ کبھی شازیہ سے مل پائیں گے؟ اگر وہ لمبا عرصہ جیل سے نہ نکل سکے تو کیا وہ ان کا انتظار کریں گی یا نہیں؟
شازیہ وہ لڑکی تھی جس سے ان کی ملاقات ماں باپ کی موت کے بعد کے ان دنوں میں ہوئی تھی جب وہ دوستوں کے ساتھ لاہور کے حبیب اللہ روڈ کے پاس واقع میدان میں کرکٹ کھیلنے جایا کرتے تھے۔ ان کی دوستی کب محبت میں بدلی انھیں پتا ہی نہیں چلا۔
دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا ہی تھا جب ان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ وہ جیل چلے گئے اور شازیہ باہر رہ گئیں۔
آج بیس برس بعد سہیل یافت نہ صرف آزاد ہیں بلکہ وہ اب ایک انویسٹیگیٹر ہیں اور جیل میں قید افراد کے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں۔ سہیل لاہور کے ایک نواحی علاقے میں ایک چھوٹے سے گھر میں اپنے تین بچوں اور دوسری اہلیہ کے ساتھ رہتے ہیں۔
بطور ملزم ان کے 10 برس مزید جیل میں گزرے۔ اس وقت کو یاد کر کے سہیل یافت نے بتایا کہ ’جیل نے مجھ سے بہت پیارے لوگ چھین لیے، اتنا کچھ چھین لیا کہ جس کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ یہ گھاؤ وقت بھی نہیں بھر سکتا۔‘
ان پیاروں میں شازیہ بھی شامل تھیں۔ ’وہ لڑکی جس نے دس برس تک میرا انتظار کیا۔ اپنے گھر والوں سے لڑ گئی، سب سے لڑ گئی۔‘
’وہ کینسر سے بھی لڑی، اور میری قانونی جنگ بھی‘
سہیل یافت کی بڑی بہن روبینہ امتیاز بھی اپنے تئیں اپنے بھائی کی مدد کر رہی تھیں۔ وہ بیک وقت دو محاذوں پر لڑ رہی تھیں۔ ’وہ کینسر سے بھی لڑ رہی تھی اور بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اتنے پیسے جمع کرتی تھیں کہ میرے لیے وکیل کا بندوبست کر سکیں۔ تھوڑا تھوڑا کرتے انہیں دس برس لگ گئے۔‘
جیل میں جانے کے بعد دو برس تک سہیل یافت کا مقدمہ چلا اور عدالت نے انھیں ملزم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سہیل یافت نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ بھی عجیب سا تھا۔
’عدالت نے کہا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ آپ قتل میں ملوث ہیں مگر شواہد سے یہ پتہ نہیں چلا کہ قتل کس نے کیا۔‘
اس طرح عدالت نے نرم رویہ اپناتے ہوئے انھیں عمر قید کی سزا سنائی۔ وہ جانتے تھے انھوں نے قتل نہیں کیا تھا لیکن اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے انھیں اعلٰی عدالت میں اپیل دائر کرنا تھی۔ اس کے لیے ان کے پاس وکیل کرنے کے پیسے نہیں تھے۔
'وہاں اوئے چوہڑیا کہہ کر بلاتے تھے'
ساہیوال جیل میں پہلے دو برس کے دوران انھوں نے ’جسمانی اور ذہنی اذیت کی انتہا دیکھی‘ اور یہ سلسلہ دوران حراست پہلے ہی روز سے شروع ہو گیا تھا۔
سہیل کے بقول وہ شدید گرمی کے دن تھے جب انھیں ساہیوال جیل منتقل کیا گیا۔ ان کے ہاتھ پاؤں سوجے ہوئے تھے اور پورا بدن دکھ رہا تھا۔ پیاس کی شدت میں جیل میں پہنچنے پر انھوں نے پانی مانگا۔
’پاس بیٹھے ایک شخص نے مہربانی کی اور سٹیل کے گلاس میں مجھے پانی دیا۔ ابھی میں نے پانی پی کر گلاس رکھا ہی تھا کہ انھیں پتا چل چکا تھا کہ میں اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہوں۔ وہ شخص مجھ سے لڑنے کے لیے آ گیا کہ تمہیں بتانا چاہیے تھا تم نے ہمارا گلاس خراب کر دیا۔‘
انھیں یاد ہے کہ ان کے وارنٹ کی پیروی کرنے والے جیل کے وارنٹ نے وارڈن سے پنجابی میں کہا کہ ’جب اس چوہڑے کو گٹروں میں ڈالیں گے تو اس کی طبیعت صاف ہو جائے گی۔‘ سہیل کے مطابق وہاں ان کو ان کے نام سے نہیں بلکہ ’اوئے چوہڑیا کہہ کر بلایا جاتا تھا۔‘
بعد میں سہیل پر عیاں ہوا کہ جیل کے اندر مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کو اس ترتیب سے مخلتف بیرکوں میں ڈالا جاتا تھا کہ باقی کاموں کے ساتھ ان کے ذمے ان بیرکوں کے ٹائلٹ اور گٹر صاف کرنے کی ذمہ داری بھی ہوتی تھی اور یہ کام ان سے زبردستی کروایا جاتا تھا۔
’تیسرے سال علم ہوا انھیں کینسر ہو گیا تھا‘
سہیل یافت نے امتیازی رویوں کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ جیل حکام کے ساتھ ان کے خلاف احتجاج بھی کرتے اور شکایات بھی درج کرواتے تھے۔ انھوں نے جیل کے اندر قیدیوں کو پڑھانے کی اجازت بھی حاصل کر لی تھی اور ایک چرچ تعمیر کروانے کے لیے بھی کوشاں تھے۔
اس دوران ان کی بڑی بہن روبینہ امتیاز جو اسلام آباد میں رہتی تھیں سال میں ایک مرتبہ کرسمس کے موقع پر ان سے ملاقات کرنے آتی تھیں جب وہ ان کے لیے گرم کپڑے اور مٹھائی وغیرہ لاتیں۔ دو سال ایسے گزر گئے کہ ان سے ملنے گھر سے کوئی نہیں آیا۔
’جب تیسرے برس وہ اچانک مجھ سے ملنے کے لیے آئیں تو ان کی رنگت بھی پیلی پڑی ہوئی تھی اور ان کا وزن بھی بہت کم ہوا تھا۔ میں نے بہت پوچھا مگر انھوں نے نہیں بتایا۔ لیکن تب مجھے علم ہوا کہ انھیں کینسر ہو گیا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہSohail Yateef
’مجھے یقین کرنے میں وقت لگا کہ وہ میرے سامنے کھڑی تھی‘
شازیہ کہاں تھیں، سہیل کو نہیں معلوم تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں سوچتا تھا کہ اب تک تو اس کی شادی بھی ہو گئی ہو گی، بچے بھی ہوں گے۔ اگر کبھی زندگی نے موقع دیا اور میں باہر گیا تو کہیں دور سے ایک دفعہ اس کو ضرور دیکھوں گا۔‘
ساہیوال جیل میں نو برس گزارنے کے بعد انھوں نے اپنا تبادلہ لاہور کی جیل میں کروا لیا۔ اس دوران ان کی کوششوں سے ساہیوال جیل میں مسیحی قیدیوں کے لیے ایک چھوٹا سا چرچ بھی تعمیر ہو چکا تھا اور ان کے خلاف امتیازی رویوں میں بھی تبدیلی آ چکی تھی۔
لیکن سہیل تب تک اپنی عمر قید کے خلاف اپیل دائر نہیں کر سکے تھے۔ لاہور جیل میں آئے انھیں چند ہی روز گزرے تھے کہ ان کی ملاقات آ گئی۔ ان کے لیے یہ تعجب کی بات تھی کہ کون ان سے ملنے آیا تھا کیونکہ اس وقت تک انھوں نے اپنے گھر والوں کو بھی لاہور منتقلی سے آگاہ نہیں کیا تھا۔
’میں ملاقات کے لیے مختص ایریا میں پہنچا اور ادھر ادھر گھوم کر سارا دیکھا مجھے کوئی نظر نہیں آیا۔ اس وقت مجھے دکھ سا ہوا کہ مجھے ملنے کوئی نہیں آیا شاید ان کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ جب میں جانے کے لیے مڑا تو ایک ستون کے پیچھے سے مجھے کوئی نظر آیا اور ایسا لگا وہ رو رہی تھی۔‘
’وہ شاید قبولیت کا وقت تھا‘
وہ شازیہ تھیں۔ سہیل یاتف کہتے ہیں انھیں خود کو سنبھالنے اور یہ یقین کرنے میں تھوڑا وقت لگا کہ وہ واقعتاً ان کے سامنے موجود تھیں۔ اس وقت جو الفاظ شازیہ نے بولے وہ کہتے ہیں وہ ان کی سماعت میں آج بھی گونجتے ہیں۔
’اس نے کہا میرے لیے کیا فیصلہ ہے۔ اس کا میں کیا جواب دیتا۔ مجھے نہیں معلوم میرے منھ سے یہ الفاظ کیسے نکلے۔ میں نے اس سے کہا جہاں اتنا انتظار کیا ہے تھوڑا اور کر لو میں بس باہر آنے والا ہوں۔ وہ شاید قبولیت کا وقت تھا۔‘
کچھ ہی عرصہ میں ان کی بہن نے وکیل کا بندوبست کر کے ان کی اپیل ہائی کورٹ میں دائر کی اور اس اثنا میں ان کی سزا اپیل کا فیصلہ آنے تک معطل کر دی گئی۔ سہیل یاتف دس برس بعد جیل سے باہر آ گئے۔

،تصویر کا ذریعہSohail Yateef
پہلے بہن چل بسی، پھر شازیہ
انھیں معلوم ہوا کہ شازیہ مسلسل ان کی بہن روبینہ کے ساتھ رابطے میں تھیں۔ انھوں نے اپنے خاندان والوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ شادی نہیں کریں گی۔ ان کی بہن ہی کی کوششوں سے چند ہی ماہ میں سہیل اور شازیہ کی شادی ہو گئی۔
تاہم ان کے لیے خوشی کا یہ وقت مختصر ثابت ہوا۔ شادی کے دو ماہ بعد پہلے ان کی بہن کینسر سے چل بسیں اور پھر ایک سال بعد دورانِ زچگی شازیہ کو دل کا دورہ پڑا جس سے ان کی اور بچے کی موت واقع ہو گئی۔
ان کے سابقہ سسر نے کچھ عرصہ بعد خود ان کی دوسری شادی کروائی۔ وہ کہتے ہیں ان کی دوسری اہلیہ ’بہت چاہنے والی اور محبت کرنے والی ہیں۔‘
تفتیش کار کے طور پر نئے سفر کا آغاز
اس دوران سہیل یافت کی ملاقات جیل میں قید افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کی سربراہ سارہ بلال سے ہو چکی تھی۔ وہ جے پی پی کے ایک سیمینار میں ایک سابقہ قیدی کے طور پر اپنے تاثرات بتانے کے لیے مدعو کیے گئے تھے۔
وہیں سارہ بلال نے انھیں جے پی پی کے ساتھ کام کرنے کی دعوت دی۔ ’میں نے کہا اندھا کیا مانگے دو آنکھیں۔ یہ تو زبردست ہو گیا۔ جیل میں یہ ارادہ کر چکا تھا کہ اگر میں کبھی باہر نکلا تو ان بے شمار لوگوں کے لیے کچھ کروں گا جو پھانسی کے پھندے پر لٹکنے تک بھی یہ کہتے رہتے تھے کہ ہم بے قصور ہیں۔‘
اپنے تجربے کی بنا پر انھیں انویسٹیگیٹر کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ان کا کام جیل میں قید ایسے افراد کا پتہ کرنا تھا جو غلط مقدمات میں قید کاٹ رہے تھے یا لمبے عرصے سے اندر تھے۔
ایسے ہی ایک مقدمے کی نشاندہی سہیل نے کی اور اقبال نامی ایک ایسے قیدی کا پتہ چلایا جسے جووینائل یعنی بچہ ہوتے ہوئے سزائے موت سنائی گئی تھی اور اسے پھانسی دی جانے والی تھی جو کہ قانون کے خلاف تھا۔
جے پی پی نے ان کے مقدمے کو اٹھایا اور باالآخر اقبال کو رہائی مل گئی۔ سہیل کہتے ہیں ’ایسے مقدمات سے مجھے حوصلہ ملتا ہے کہ کم از کم کوئی تو ان کی وجہ سے مصیبت سے باہر آیا۔‘

پندرہ برس بعد ’باعزت بری‘
پانچ برس بعد ہائی کورٹ نے سہیل یافت کی اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں تمام الزامات سے بری کر دیا۔ اب سہیل ذاتی طور پر بھی جیل میں قید افراد کی مدد کرتے ہیں۔
اپنی ذاتی کوششوں سے وہ ہر کرسمس اور عید کے موقع پر جیل میں قید افراد کے بچوں کے ساتھ جا کر وقت گزارتے ہیں۔
’جب ایک خاندان کا کفیل شخص جیل چلا جائے تو سب سے زیادہ اس کے بچے متاثر ہوتے ہیں۔ ہم ان کا بتاتے ہیں کہ ہم ان کے ابا کے دوست ہیں اور ان کے والد، بھائی یا شوہر نے ان کے لیے یہ تحائف بھجوائے ہیں۔‘
حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ان کی کہانی کو دیکھتے ہوئے انھیں ’بی بی سی انسپریشنز ایوارڈ‘ کے لیے چنا ہے جس میں دنیا بھر سے ان جیسی متاثر کن شخصیات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
سہیل جیل سے رہا ہونے والے افراد کے لیے بحالی سینٹر بھی بنانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کی کوئی سہولت پاکستان میں ایسے افراد کو میسر نہیں جو جیل ٹراما کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں رائج نظام عدل اور اس میں پھنسی اپنی زندگی کے گزرے 15 برس پر نظر دوڑاتے سہیل یافت کہتے ہیں کہ ’دس یا پندرہ برس بعد عدالت آپ سے کہہ دیتی ہے کہ باعزت بری۔ کیا یہ دو الفاظ ان پندرہ برسوں کا مداوا کر سکتے ہیں؟‘












