’محمد اقبال کو کسی نے اس کا حق نہیں دیا‘

محمد اقبال

،تصویر کا ذریعہTasawar Iqbal

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

لاہور ہائی کورٹ نے پھانسی کے انتظار میں 21 سال قید میں گزارنے والے مجرم محمد اقبال کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جب محمد اقبال کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اس وقت وہ نابالغ تھے، قانون میں موجود رعایت کے حق دار تھے اور انھیں پھانسی کی سزا نہیں سنائی جاسکتی ہے۔

یہ فیصلہ مجرم محمد اقبال کی جانب سے ان کے وکلا جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی بیرسٹر سارہ بلال اور دیگر کی دائر کردہ ایک رٹ پیٹیشن پر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائی کورٹ کے ڈویثرنل بینچ جسٹس اسجد جاوید گھرال اور جسٹس محمد قاسم خان نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جوینائل جسٹس سسٹم آرڈنیس 2000 کے سیکشن 7 کے مطابق ٹرائل کورٹ میں مدعی کا اس وقت نابالغ ہونے کے دعوے کو نہیں جھٹلایا گیا تھا جس کے بعد عدالت خود کو حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے مجرم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا حکم دیتی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ 2001 میں صدر مملکت نے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا جس میں جوینائل جسٹس سسٹم آرڈنیس 2000 کے نافذ ہونے کی تاریخ سے پہلے کے بھی نابالغ مجرموں اور ملزموں کو ریلیف فراہم کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ جس وقت جوینائل جسٹس سسٹم آرڈنیس 2000 کے حوالے سے صدارتی حکم نامہ جاری ہوا اس وقت سے محمد اقبال کا یہ حق تھا کہ ان کو یہ سہولت دی جاتی۔ پنجاب اور وفاقی حکومت نے اس معاملے میں بہت تاخیر کی ہے جس وجہ سے محمد اقبال کو 21 قیمتی سال قید میں گزارنے پڑے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی کنونشنوں کا حصہ ہے۔ ان ہی کنونشنوں کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے جوینائل جسٹس سسٹم آرڈنیس 2000 لایا گیا۔

محمد اقبال کون ہیں؟

محمد اقبال کا تعلق پنجاب کے ضلع منڈی بہاؤ الدین کے علاقے میاں وال رانجھا سے ہے۔ ان کا ایک بھائی اور ایک بہن ہیں۔

محمد اقبال کے والد شیر محمد مقامی کسان تھے۔ محمد اقبال نے ایک غریب خاندان میں آنکھ کھولی۔ پہلے ان کی والدہ کی وفات ہوئی جبکہ والد بیٹے کے مقدمے کی پیروی کرتے ہوئے سال 2003 میں وفات پا گئے تھے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق محمد اقبال کو سال 1998 میں قتل کے ایک مقدمے میں دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ 1999 میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت گجرانوالہ میں مقدمہ چلایا گیا جہاں پر چار افراد کو عمر قید اور صرف محمد اقبال کو سزائے موت دی گئی تھی۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بھی ثابت ہوا تھا کہ جب یہ واقعہ ہوا تھا اس وقت محمد اقبال کی عمر 17 سال تھی۔

محمد اقبال

،تصویر کا ذریعہTaswar Iqbal

جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے مطابق محمد اقبال کے خلاف مدعی نے سنہ 2004 میں راضی نامہ کر لیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ محمد اقبال نے کافی سال جیل میں گزار لیے ہیں اور اب مقتول کے لواحقیقن نہیں چاہتے کہ محمد اقبال پھانسی پر لٹکے۔ مگر درج مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات کے سبب عدالتوں نے اس راضی نامے کو قبول نہیں کیا تھا۔

سال 2016 میں محمد اقبال کی تمام رحم کی اپیلیں مسترد کر دی گئیں تھیں۔ اس کے بعد ان کے بلیک وارنٹ جاری ہوگئے تھے۔

وارنٹ جاری ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں نظرِ ثانی کی ایک درخواست دائر ہوئی جس وجہ سے محمد اقبال کی پھانسی کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ تاہم بعدازاں اس درخواست کو سنہ 2017 میں مسترد کر دیا گیا۔

اس سے قبل کے محمد اقبال کے دوبارہ بلیک وارنٹ جاری ہوتے، جسٹس پراجیکٹ آف پاکستان کی درخواست پر نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے پنجاب حکومت کو ہدایات جاری کیں کہ وہ محمد اقبال کے معاملے میں عبوری ریلیف دیں اور ان کے نابالغ ہونے کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں۔ اسی لیے پنجاب حکومت نے دوبارہ بلیک وارنٹ جاری نہیں کیے۔

سال 2018 میں وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے محکمہ داخلہ کی سفارشات پر صدر مملکت کو خط لکھا کہ وہ محمد اقبال کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیں۔

سال 2018 ہی میں لاہور ہائی کورٹ میں بنیادی انسانی حقوق کے تحت ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس پر لاہور ہائی کورٹ نے محمد اقبال کی پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل کرنے حکم دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے محمد اقبال کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے تک ایوان صدر سے وزیر اعلیٰ کے خط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا۔

’توقع ہے کہ ماموں جلد ہمارے پاس ہوں گے‘

محمد اقبال کے بھانجے تصور اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ جب سے میری والدہ کو یہ اطلاع ملی ہے کہ ان کے بھائی کی سزائے موت ختم کر دی گئی ہے، اس وقت سے ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں ہے۔

’وہ رہ رہ کر اپنے والدین کو یاد کرتی کر رہی ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ ہمارے ماموں جلد ہی ہمارے پاس ہوں گے۔‘

محمد اقبال عمر قید کے حوالے سے قانون میں متعین سزا سے زیادہ وقت قید میں گزار چکے ہیں۔

جسٹس پروجیکٹ پاکستان اور محمد اقبال کی وکیل بیرسٹر سارا بلال کے مطابق پاکستان میں عمر قید کی سزا زیادہ سے زیادہ 25 سال ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم محمد اقبال کے کیس میں تصور کر لیتے ہیں کہ ان کو عمر قید کی سزا 25 سال ہے مگر جیل میں دن اور رات الگ الگ گنا جاتا ہے تو عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی 25 سال قید کی سزا کے لیے قانون کے مطابق محمد اقبال کو ساڑھے بارہ سال بعد رہا ہو جانا چاہیے جبکہ اس وقت محمد اقبال تقریباً 21 سال جیل میں گزار چکے ہیں۔

تصور اقبال کا کہنا تھا کہ جب محمد اقبال والا واقعہ ہوا اس وقت میری عمر ایک سال تھی، میرے ماموں کی عمر سولہ، سترہ سال تھی اور اب میں 23 کا ہوں۔ اس وقت محمد اقبال کی عمر چالیس سال ہو چکی ہوگی۔

بیرسٹر سارا بلال کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے محمد اقبال کے حق کو کئی سال تک دبائے رکھا گیا۔ ’ان کے ساتھ انتہائی زیادتی ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ عدالت نے بھی قرار دیا ہے کہ پنجاب حکومت کو جوینائل جسٹس سسٹم آرڈنینس اور پھر صدارتی حکم نامے کے بعد محمد اقبال کو ان کا قانونی حق دینے کے لیے کسی حکم اور اجازت کی ضرورت نہیں تھی۔ مگر حکومت نے محمد اقبال کو ان کا حق اور انصاف فراہم کرنے کے لیے اپنے قانونی اختیارات کو استعمال نہیں کیا۔‘

بیرسٹر سارا بلال کا کہنا تھا کہ اب تک محمد اقبال کو رہا نہیں کیا گیا۔

’ہمیں ابھی تک نہیں بتایا گیا کہ ان کو کیوں رہا نہیں کیا گیا۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ عدالتی فیصلے کے بعد پنجاب حکومت کو محمد اقبال کے کیس کا فی الفور تیزی سے جائزہ لینا چاہیے۔ اگر عمر قید کی سزا پر مختلف حکومتوں کی جانب سے دی جانے والی معافیاں لاگو نہ بھی کی جائیں تو پھر بھی محمد اقبال عمر قید کی سزا بھگت چکے ہیں۔ اگر پنجاب حکومت نے اس معاملے پر کوئی تاخیر کی تو پھر ہمیں ان کی رہائی کے لیے دوبارہ عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔ جو کہ افسوسناک صورتحال ہوگی۔‘

پنجاب جیل خانہ جات کے مطابق محمد اقبال کے معاملے میں ابھی تک عدالتی حکم نہیں پہنچا ہے۔ عدالتی حکم نامے کا جائزہ لینے کے بعد عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ رٹ پیٹیشن پر لاہور ہائی کورٹ نے زبانی اور مختصر فیصلہ 13 مارچ کو سنایا تھا جبکہ تحریری فیصلہ نو جون کو جاری کیا گیا ہے۔

جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے مطابق پاکستان کی جیلوں میں ایسے کئی نابالغ مجرم ہو سکتے ہیں جن کو ان کے قانونی حق سے محروم رکھا گیا ہو۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس دو ایسے مزید کیسز موجود ہیں جن کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہے۔

بیرسڑ سارا بلال کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے جب حکام کسی کو انصاف اور ان کا حق فراہم کرنے کے لیے خود کو حاصل قانونی اختیارات استعمال نہیں کرتے تو پھر انصاف کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہو جاتی ہے جس کے بعد لوگ پھانسی کے پھندے تک پہنچ جاتے ہیں۔