بینظیر بھٹو: کیا سابق وزیر اعظم امریکہ سے سکیورٹی اور بلٹ پروف جیکٹ حاصل کرنا چاہتی تھیں؟

بینظیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو چاہتی تھیں کہ امریکہ انھیں سکیورٹی اور بلٹ پروف جیکٹس فراہم کرے لیکن امریکی حکام کا کہنا تھا کہ وہ صرف ملکی سربراہان کو سکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں۔

امریکہ میں تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے جنوبی ایشیا فیلو شجاع نواز نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں یہ تفصیلات فراہم کی ہیں جو وہ سنہ 2019 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’دی بیٹل فار پاکستان‘ میں بھی تحریر کر چکے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کے پاکستان میں نمائندے اوون بینیٹ جونز کے ساتھ بھی بطور محقق کام کیا ہے۔ اوون بینیٹ جونز کی کتاب 'دی بھٹو ڈائنیسٹی: دی سٹرگل فار پاور ان پاکستان‘ حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔

ڈریگن سکن جیکٹ

شجاع نواز بتاتے ہیں کہ واشنگٹن کے ایک ہوٹل میں چائے پر بینظیر بھٹو سے اُن کی ملاقات ہوئی جس کے دوران محترمہ سے پوچھا گیا کہ ’کیا آپ نے اپنی ذاتی سکیورٹی کے لیے انتظامات کیے ہیں، کیونکہ اس وقت پاکستان میں دہشت گرد حملے ہو رہے تھے۔ القاعدہ اور تحریک طالبان نے اعلان کر چکے ہیں کہ وہ بینظیر کے خلاف ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ایک عورت مسلمان ملک کی وزیر اعظم بنیں؟‘

شجاع نواز بتاتے ہیں کہ اس بات چیت میں آصف زرادری نے اُن کے اِس سوال کے جواب میں کہا کہ ’ہمارے پاس بلٹ پروف جیکٹ ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’میں نے پوچھا کہ کہاں ہے؟ تو انھوں نے جواب دیا بلاول ہاؤس میں۔‘

’میں نے کہا کہ اگر بلاول ہاؤس میں ہے تو آپ تو کراچی ایئر پورٹ پر پہنچیں گے اور خطرہ اس وقت سے شروع ہو گا اور وہ جیکٹ پرانے ڈیزائن کا ہو گا جبکہ اب تحفظ کے ذاتی آلات کافی جدید ہو چکے ہیں۔‘

شجاع نواز کے ذہن میں ڈرگن سکن نامی باڈی آرمر تھی جو عراق میں امریکی فورسز اور عراقی حکومت کو فراہم کی گئی تھیں۔

شجاع نواز

،تصویر کا ذریعہCourtesy Shujanawaz.com

،تصویر کا کیپشنشجاع نواز

ان کے مطابق انھوں نے بینظیر بھٹو کو مشورہ دیا کہ ان کی کس قسم کی پروٹیکشن ہونی چاہیے اور وہ (امریکہ) خاص طور پر خواتین کے لیے بھی باڈی آرمر بناتے ہیں جو گلے تک ہوتی ہے اور اس کا وزن بھی زیادہ نہیں ہوتا۔

’انھوں (بینظیر) نے مجھے کہا کہ آپ ہمارا ان سے رابطہ کروا دیں۔ میں نے بذریعہ ای میل کمپنی سے رابطہ کیا انھوں نے کہا کہ وہ دبئی جا کر پیمائش لے سکتے ہیں لیکن یہ ایک کنٹرولڈ آئٹم ہے جس کی فراہمی کے لیے حکومت پاکستان کی اجازت ضروری تھی۔‘

شجاع نواز بتاتے ہیں کہ بینظیر بھٹو نے انھیں کہا کہ وہ حکومت پاکستان کو (اس حوالے سے) درخواست نہیں کرنا چاہتی کیونکہ پروٹوکول کے تحت انھیں یہ درخواست واشنگٹن میں پاکستان کے سفارت خانے میں موجود دفاعی اتاشی کو کرنا پڑے گی، اور وہ (دفاعی اثاشی) منظوری تبھی دیں گے جب مشرف انھیں ایسا کرنے کی اجازت دیں گے۔

شجاع نواز کہتے ہیں کہ بینظیر کا کہنا تھا کہ وہ مشرف کا احسان نہیں لینا چاہتیں اور یوں یہ بات وہاں ہی ختم ہو گئی۔

کراچی میں 18 اکتوبر 2007 کو بینظیر بھٹو کی خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپسی کے روز استقبالی کارواں میں دھماکے ہوئے جس میں 145 سے زائد کارکن ہلاک اور کئی درجن زخمی ہو گئے لیکن بینظیر بھٹو ان دھماکوں میں محفوظ رہیں۔

دوسری جانب اوون بینٹ جونز اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کو فوج پر اعتماد نہیں تھا۔

انھوں نے اپنی سکیورٹی کا انتظام اپنے رضاکاروں سے کروایا تھا، فوج کی جانب سے ایک سگنل جیمر گاڑی فراہم کی گئی تھی تاکہ ریموٹ کنٹرول بم کے سگنلز کو روکا جا سکے لیکن اس کی بیٹریاں بھی ڈرین ہو گئیں تھیں۔

شجاع نواز بتاتے ہیں کہ جب کراچی کا حملہ ہوا تو آصف زرداری نے رابطہ کیا اور کہا کہ ’آپ (باڈی آرمر بنانے والی) کمپنی کا رابطہ بھیجیں، ہم کوشش کریں گے کہ متحدہ عرب امارات کے ذریعے یہ باڈی آرمر حاصل کریں۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ ان کے پاس اتنا وقت تھا۔‘

کتاب سر ورق

،تصویر کا ذریعہPENGUIN

اپوزیشن رہنما کے لیے سکیورٹی نہیں

شجاع نواز امریکی کانگریس، یورپی یونین اور دیگر فورمز کے ساتھ بھی کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بینظیر بھٹو کو خطرات سے آگاہ کیا تھا کیونکہ اُن کے پاس کافی معلومات تھیں اور انھیں صورتحال کا اندازہ بھی تھا۔

’کراچی (کارساز) حملے کے بعد امریکہ کے سفارت خانے نے بینظیر کو کہا تھا کہ آپ پر پھر حملے کا خطرہ ہے۔ بی بی سی کے صحافی اوون بینٹ جونز کی بھی یہ معلومات ہیں۔ بلاول ہاؤس میں بینظیر بھٹو کے ساتھ امریکی سفیر این پیٹرسن کی ملاقات ہوئی تھی جس میں بینظیر نے درخواست کی تھی کہ صورتحال اور ان کی سکیورٹی کا جائزہ لیا جائے اور اقدامات اٹھائے جائیں۔‘

’اس پر این پیٹرسن نے جواب دیا تھا کہ امریکی حکومت صرف ملکی سربراہان کو سکیورٹی فراہم کر سکتی ہے، ایسے اپوزینش رہنماؤں کو نہیں جو سیاسی تحریک میں شامل ہوتے ہیں کیونکہ اگر انھیں سکیورٹی فراہم کی گئی تو بظاہر یہ ہی لگے گا کہ امریکہ حکومت کے خلاف ایک سیاسی رہنما کی حمایت کر رہا ہے۔‘

بے نظیر بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بینظیر بھٹو کے ساتھ مذاکرات میں معاون کون تھا

اوون بینٹ جونز اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ سنہ 2005 میں مشرف اور بینظیر میں رابطے بحال ہوئے اور سنہ 2005 سے لے کر سنہ 2006 تک بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف کے نمائندوں کے درمیان کم از کم پانچ ملاقاتیں ہوئیں، جن میں طارق عزیز، آئی ایس آئی کے سربراہ پرویز کیانی اور جنرل حامد جاوید شامل تھے۔

مشرف کو مزید سیاسی حمایت کی ضرورت تھی جبکہ بینظیر مقدمات سے نجات چاہتی تھیں۔ دونوں فریقین میں مذاکرات کی معاونت برطانوی فارن آفس کر رہا تھا اور جب بات کسی معاہدے تک پہنچی تو برطانیہ نے معاملہ امریکہ کے حوالے کر دیا۔

شجاع نواز کے مطابق ابتدائی رابطے میں متحدہ عرب امارات نے کافی مدد کی تھی پھر جنرل مشرف کے مشیر طارق عزیز نے امریکہ کے ساتھ رابطہ کیا۔ رچرڈ باؤچر اس وقت وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بیورو کے اسسٹنٹ سیکریٹری تھے۔

ان سے کہا گیا کہ امریکہ گارنٹی دے کہ اس بات چیت کا کیا نتیجہ ہو گا۔ امریکی صدر نے یہ ذمہ داری سیکریٹری خارجہ کونڈو لیزا رائس کو دی تھی۔ سیکریٹری رائس کو رچرڈ باؤچر نے جب یہ اطلاع پہنچائی تو انھوں نے کہا کہ ہم ضمانت نہیں دے سکتے، ہم شہادت دیں گے کہ یہ فیصلہ ہوا ہے اور ہمیں اس کا علم ہے۔

’پھر یہ سلسلہ شروع ہوا اور اس معاملے کو کونڈو لیزا رائس اور نائب صدر ڈک چینی کی بھی حمایت حاصل تھی اور وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح بھی ان کی بات چیت ہو جائے کیونکہ پاکستان کے حالات اس وقت کافی خراب ہو رہے تھے۔ جنرل مشرف کے یکطرفہ فیصلوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں بھی احتجاج کر رہی تھیں اور وکلا کی تحریک بھی جاری تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ معاملات سنبھل جائیں تاکہ پاکستان کی مدد سے افغانستان کا مسئلہ حل ہو سکے۔‘

شجاع نواز کے مطابق اس وقت برطانیہ کی طرف سے مارک گرانٹ لائل جو بعد میں برطانیہ کے سفیر بنے اور سر ایڈم تھامسن نے مل کر کام شروع کیا اور ان (بینظیر) کا طارق عزیز اور باؤچر سے رابطہ رہا۔

جنرل پرویز مشرف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بینظیر کی شرائط مان لی گئیں

اوون بینٹ جونز لکھتے ہیں کہ مذاکرات میں فوج کا کہنا تھا کہ وہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں لیکن آصف زرداری کے بغیر۔ بینظیر نے کامیابی کے ساتھ مزاحمت کی اور بینظیر اور مشرف میں بالاخر 24 جنوری 2007 کو ملاقات ہوئی۔

مشرف کے لیے یہ ڈیل کٹھن نہیں تھی کیونکہ وہ مقبولیت کھو بیٹھے تھے اور ان کی قانونی حیثیت بحران کا شکار تھی۔

وہ چاہ رہے تھے کہ پیپلزپارٹی انتخابات کے بعد ان کے اقتدار کی حمایت کرے جبکہ بینظیر بھٹو کی تین شرائط تھیں: مشرف فوج کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں، تیسری بار وزیراعظم بننے پر عائد پابندی ختم کی جائے اور نواز شریف، جن کے ساتھ وہ میثاق جمہوریت پر دستخط کر چکی تھیں، کو انتخابات میں شریک ہونے کی اجازت دی جائے۔

امریکہ اور برطانیہ کا خیال تھا کہ مشرف اور بینظیر کی مشترکہ حکومت افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑائی میں ضروری تھی۔

شجاع نواز کا کہنا ہے کہ جہاں تک ان کے علم میں ہے ’جنرل مشرف صدر ہوں اور بینظیر بھٹو وزیراعظم، اس بارے میں کوئی ٹھوس فیصلے نہیں ہوئے تھے۔‘

بینظیر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

جب رحمان ملک نے یو این کمیشن کو اپنی رپورٹ دی

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرمین بینظیر بھٹو 27 دسمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہوئیں اور اس کے بعد جب ان کی جماعت پیپلز پارٹی نے اقتدار سنبھالا تو اقوام متحدہ کو قتل کی باقاعدہ تحقیقات کرنے کی درخواست کی گئی اور یو این نے ایک کمیشن تشکل دیا تھا۔

شجاع نواز بتاتے ہیں کہ حکومت پاکستان نے خود بھی ایک رپورٹ تیار کی تھی۔ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے تفتیش کار ہیرالڈو میونیز کے حوالے کی تھی اور کہا تھا کہ ’میں نے آپ کے لیے ڈرافٹ تیار کیا ہے آپ اس کی تھوڑی بہت انگریزی ٹھیک کر لیں آپ کو مزید کام کرنے کی ضرورت نہیں۔‘

یہ بات میونیز کو پسند نہیں آئی تھی انھوں نے بعد میں اپنی کتاب میں بھی اس کا ذکر کیا۔

اس بارے میں سابق وفاقی وزیر رحمان ملک کا موقف جاننے کے لیے بی بی سی کی جانب سے ان سے تحریری طور پر رابطہ کیا گیا تاہم ان کا کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

بے نظیر بھٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بینظیر بھٹو حکومت کے لیے تیار نہ تھیں

اوون بینٹ جونز کے مطابق ڈیل ہو گئی اور این آر او جاری کر دیا گیا تاہم اس کے باوجود فریقین میں اعتماد کا فقدان رہا۔

شجاع نواز بینظیر بھٹو کے ساتھ اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ انھوں نے اُن سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے شیڈو حکومت بنائی ہے؟ کیا آپ کے پاس کابینہ ہے، آپ کیا کریں گی؟

’انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ایسی چیزیں نہیں ہوتیں، ہم وہاں پہنچ کر دیکھیں گے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ انھوں نے کوئی ٹھوس پروگرام نہیں بنایا تھا کہ ان کا منصوبہ کیا ہے اور وہ کس حد تک ملکی آئین میں تبدیلی لائیں گی اور کس کو حکومت میں شامل کریں گی۔‘

’میں سمجھتا ہوں کہ یہ پیپلز پارٹی، بینظیر بھٹو یا آصف زرداری کی سوچ نہیں بلکہ تمام جماعتوں کی سوچ یہ ہی ہے کہ جب وہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو وہ تیاری نہیں کرتے کہ وہ حکومت میں آ کر کیا کریں گے۔ ان کے پاس کوئی شیڈو پلان نہیں ہوتا۔‘