این آر او پلس پلس: عمران خان کہتے ہیں این آر او نہیں دیں گے، آپوزیشن کہتی ہے ہم نے مانگا ہی نہیں، تو پھر بھی بار بار این آر او کا ذکر کیوں

شہزاد اکبر، محکمۂ زراعت

،تصویر کا ذریعہPID

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام آسلام آباد

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کا الزام ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں ضروری امور پر تعاون کے بدلے مرکزی اپوزیشن جماعتوں نے این آر او مانگا اور حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ پی ڈی ایم کا قیام بھی اسی وجہ سے عمل میں لایا گیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جاننے کے لیے کہ اس کے خلاف حزب اختلاف کا 11 سیاسی جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم کیسے پیدا ہوا آپ کو چار پانچ ماہ پیچھے جانا ہو گا۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما مصدق ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئےکہا کہ ’حکومت کی سٹریٹیجی یہی رہی ہے کہ کسی بھی بل پر ہم حکومت سے بات کرتے ہیں تو ان کے وزرا باہر جا کر این آر او این آر او کا شور مچاتے ہیں۔‘

بدھ کو بھی ایک طرف سے این آر او مانگنے کا الزام لگا تو دوسری طرف سے سوال ہوا کہ این آر او مانگا کس نے ہے؟

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران حان کے مشیر شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آج پی ڈی ایم کے بارے میں کچھ بتانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے بچنے کے لیے اور دوبارہ وائٹ لسٹ میں آنے کے لیے کچھ چیزیں عملی طور پر کرنی تھیں اور کچھ قانون سازی کرنی تھی۔ قانون سازی پارلیمان سے ہونی تھی اور اس کے لیے خاص طور پر سینیٹ میں اپوزیشن کا بھی ساتھ چاہیے۔‘ انھوں نے کہا کہ اس کے بدلے میں اپوزیشن نے ’این آر او پلس پلس‘ مانگ لیا۔

ایف اے ٹی ایف کیا چاہتا تھا؟

شہزاد اکبر نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف یہ چاہتا تھا کہ آپ کے نظام کے اندر احتساب ہو اور شفافیت ہو۔ کوئی منی لانڈرنگ کرتا ہے، چاہے وہ ٹیرازم فائنانسنگ کرتا ہے یا کرپشن ہے یا دیگر ایشوز ہیں تو اس میں شفافیت ہو اور اس کا احتساب ہو۔

شہزاد اکبر کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات میں 11 جماعتوں میں سے چیدہ چیدہ جماعتیں شامل تھیں۔ انھوں نے کہا کہ ان ترامیم کے بدلے میں اپوزیشن نے ہم سے فقط ایک ڈیمانڈ کی کہ ’ایف اے ٹی ایف کے اندر ان کی ایک ہی ڈیمانڈ تھی جسے وزیراعطم این آر او پلس پلس کہہ چکے ہیں۔‘

پاکستان

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial

این آر او پلس پلس کیا ہے؟

شہزاد اکبر نے پی ایم ایل این اور پی پی پی کی جانب سے نیب آرڈیننس کے اندر 34 ترامیم کا مسودہ پریس کانفرنس کے شرکا کے سامنے لہراتے ہوئے بتایا کہ اپوزیشن کا یہ کہنا تھا آپ نیب میں یہ ترامیم کر کے دیں گے تو ہم آپ کو ووٹ بھی دیں گے اور آپ کا ساتھ بھی دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شق وار تین چار روز اس پر بات کی اور اس موقع پر ایف اے ٹی ایف کی ٹیکنیکل ٹیم بھی موجود تھی۔

انھوں نے کہا کہ نیب قوانین میں بھی ترمیم نہیں ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان ترامیم کی تجاویز پیش کرنے والے تمام لوگ نیب کے ملزمان ہیں۔

شہزاد اکبر نے چار شقوں کا تذکرہ کیا کہ نیب کے قانون کا اطلاق 1999 سے پہلے کے دور پر نہ کیا جائے۔

ان کا الزام تھا کہ اس دور میں 1985 کے انتخابات کے بعد کا دور اور پھر 1999 تک کے ادوار کو نکال لیا جائے جب قرضے معاف کروائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جماعتیں چاہتی ہیں کہ ان کی بیلنس شیٹ 1999 کے بعد کے دور سے دیکھی جائے۔

دوسری شق کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نیب کے اندر جو جرم بنے وہ ایک ارب سے کم والا کیس نہ ہو۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کو نیب کے جرم سے نکال دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب پبلک آفس ہولڈر کے لیے ہے اگر اس میں سے منی لانڈرنگ نکال دیں تو آصف علی زرداری کے فیک اکاؤنٹ ختم ہو جاتے۔ شہباز شریف کا ٹی ٹی کیس ختم، فریال تالپور کے کیس ختم ہو جاتے۔۔۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بے نامی کی شق بھی نکال دی جائے تاہم اس کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک عجیب و غریب مطالبہ ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیب کے پانچ جرائم کو نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔

وزیراعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ سزا کو دس سال سے پانچ سال کر دیا جائے۔ باہر سے ثبوت نہ منگوائے جائیں۔ انھوں نے ایک بار پھر وضاحت کی کہ ان میں سے کوئی بھی تجویز پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے قبول نہیں کی۔

نواز شریف
،تصویر کا کیپشنگذشتہ سال نواز شریف ضمانت ملنے کے بعد لندن روانہ ہو گئے تھے

مسلم لیگ ن، پی پی پی کے این آر او مانگنے میں کتنی صداقت ہے؟

مسلم لیگ نون کے رہنما مصدق ملک اس موقف کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں جب بھی ہم پارلیمان میں کسی بھی بل پر بات کرتے ہیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حکومت کہتی ہے آپ ہم سے بات کر رہے ہیں تو یہ این آر او ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا ایف اے ٹی ایف میں میں خود شامل تھا حکومت سے بات چیت میں بھی وہ شریک رہے۔

’حکومت کی سٹریٹیجی یہی رہی ہے کہ کسی بھی بل پر ہم حکومت سے بات کرتے ہیں تو ان کے وزرا باہر جا کر این آر او این آر او کا شور مچاتے ہیں۔‘

ایف اے ٹی ایف کے ایک بل کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ سینیٹ نے ایک بل مسترد کیا، جسے حکومت نے پاس کروایا، جس کے تحت مجسٹریٹ کی اجازت کے بعد خفیہ ایجنسی کے اہلکار ایک سو اسی دن تک کسی کے گھر داخل ہو سکتے ہیں۔

ان کے بچے بچیوں کی ویڈیو بنا سکتے ہیں ان کے فون ٹیپ کر سکتے ہیں اور کمپیوٹر ہیک کر سکتے ہیں اور آپ سیکرٹ سروس کے لوگ ان کے گھر بھجوا سکتے ہیں اور بغیر کسی الزام کے ایسا کر سکتے ہیں۔ اور اگر آپ کی تسلی نہیں ہوتی تو دوبارہ ایسا کر سکتے ہیں۔

انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہم جب حکومت سے اس پر بات کرتے ہیں کہ دیکھیں کوئی ایسا بل لائیں جس کی کوئی تُک بنتی ہو یا ایف اے ٹی ایف کا کوئی ایسا مطالبہ دکھائیں جو اس طرح کی انسانی حقوق کی پامالی کرتا ہو دنیا کے باقی ممالک بھی ہیں ہو۔۔۔۔

جب ہم ان سے یہ بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں آپ کو یاد ہے آپ ایک دفعہ نیب کے مسودے پر بات کر رہے تھے وہ این آر او تھا اس وجہ سے آپ یہ ساری باتیں کر رہے ہیں۔ اگر آپ انسانی حقوق کی پامالی کر رہے ہیں تو اس کا نیب کے ساتھ کیا تعلق ہے۔

مصدق ملک نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے بل کے بارے میں حکومت سے مذاکرات کے بارے میں بھی بتایا۔

’ہم نے ان سے کہا کہ بیٹھ کر منی لانڈرنگ کی تعریف طے کر لیتے ہیں۔ تو انھوں نے کہا 22ویں گریڈ کا کوئی افسر اگر کسی بھی رقم کی منتقلی کو مشکوک سمجھے تو وہ اسے روک سکتا ہے، متعلقہ فرد کو گرفتار کر سکتا ہے۔ تو جب ہم نے کہا کہ یہ مناسب نہیں پہلے منی لانڈرنگ کی تعریف کر لیتے ہیں تو آپ کہتے ہیں (حکومت) آپ کو یاد ہے آپ کے کچھ لوگوں نے ہم سے نیب پر بات کی تھی آپ این آر او مانگ رہے ہیں۔‘

اپنی گفتگو کے آخر میں ان کا سوال وہی تھا جو وزیراعظم کے مشیر سے ایک صحافی نے پوچھا تھا کہ عمران خان این آر او کیسے دے سکتے ہیں؟

پی پی پی کے رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے بھی آج پریس کانفرنس کی۔ انھوں نے کہا کہ شہزاد اکبر پارلیمنٹ کے کام میں مداخلت نہ کریں، مسئلہ سیاسی حکومت کا نہیں اداروں کے کام کرنے کا ہے، نیب بدعنوانی روکنے کے لیے بنا، نجی کاروبار میں مداخلت کے لیے نہیں۔

سینیٹ کا اجلاس بلوانے پر حکومت نالاں

شہزاد اکبر نے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی پریس کانفرنسز پر ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم آپ کو اداروں کی تضحیک نہیں کرنے دیں گے اور آپ اپنے پبلک آفس کو کسی کے دفاع کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔

شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ اپوزیشن کا جو دوبارہ سے ارادہ این آر او پلس پلس مانگنے کا ہے وہ اس میں ابھی تک ناکام ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تجاویز کا مسودہ وہ چھوڑے جا رہے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما محسن رانجھا نے انھیں یہ مسودہ واٹس ایپ کی صورت میں بھیجا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ آخر وزیراعظم کس طرح کسی کو این آر او دے سکتے ہیں تو جواب میں وزیراعظم کے مشیر نے نیب کی تجویز کردہ ترامیم کے مجوزہ مسودے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ این آر او کی ہی کوشش ہے۔