محکمہ زراعت کی اصطلاح استعمال کرنے پر شہزاد اکبر ’قومی سلامتی کے اداروں سے معذرت خواہ‘، سوشل میڈیا پر رد عمل

،تصویر کا ذریعہPID
پاکستانی سیاست میں ہر دور میں مختلف ذو معنی اصطلاحات کا استعمال ہوتا رہا ہے۔ آج کے دور کی سیاسی اصطلاحات کے تانے بانے شاید پاکستان تحریک انصاف کے سنہ 2014 کے دھرنے اور سنہ 2018 کے عام انتخابات سے ملائے جا سکتے ہیں جیسے ’امپائر کی انگلی‘، ’خلائی مخلوق‘، ’گاڈ فادر‘، ’35 پنکچر‘ وغیرہ۔
گذشتہ روز وزیر اعظم عمران کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر کی طرف سے بھی ایسی ہی ایک دلچسپ اصطلاح کے استعمال کے بعد سے سوشل میڈیا پر خاصی بحث کی جاری ہے۔
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے لیے برطانوی حکومت کو لکھے جانے والے خط سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران ایک صحافی نے شہزاد اکبر سے سوال کیا کہ ’یہ بتا دیں کہ اگر عمران خان شریف فیملی کو این آر او نہیں دے رہے تو پھر انھیں یہ دو بڑے این آر او دیے کس نے؟‘
جواب میں شہزاد اکبر نے کہا کہ ’جو آپ کا سوال ہے وہ آپ محکمہ زراعت سے رابطہ کریں۔‘
خیال رہے کہ ملکی سیاست میں آج کل سابق وزیر اعظم نواز شریف کی واپسی کی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بدعنوانی کے مقدمات کے پیش نظر ان کی وطن واپسی کے لیے قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بیان دینے کے بعد وقت سوشل میڈیا پر شہزاد اکبر کا وہ کلپ وائرل ہو چکا ہے جس میں انھوں نے محکمہ زراعت کا ذکر کیا۔ بعض لوگ ان الفاظ کو ’اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ‘ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ لوگوں کا موقف ہے کہ شہزاد اکبر نے محض مذاق میں ایسا کہا۔
محکمہ زراعت کے بیان پر ’قومی سلامتی کے اداروں سے معافی‘
جب سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے یہ دیکھنے کے بعد شہزاد اکبر کے جواب پر سوالات اٹھائے تو انھوں نے ٹوئٹر پر رات ڈیڑھ بجے کے قریب اپنے موقف کی وضاحت میں دو ٹویٹ کیے۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
ان کا کہنا تھا کہ ’آج پریس کانفرنس میں اس محکمہ زراعت کا ذکر تھا جو ن لیگ کے ہونہار انجینیئر نما ڈاکٹر، شہباز شریف اور صاحبزادی پہ مبنی تھا جنھوں نے کمال مہارت سے پیوند لگا کر پوری قوم کو نواز شریف کی بیماری کا یقین دلایا، این آر او یہ نیب کی 34 ترامیم کی صورت میں حکومت سے مانگ رہے ہیں جو کسی صورت نہیں ملنا۔‘
’یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ میرے بیان سے اگر قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں کوئی غلط تاثر پیدا ہوا ہو تو وہ بے بنیاد اور حقیقت سے عاری ہے اور کسی ادارے یا شخص کی دل آزاری پر میں معذرت خواہ ہوں۔‘
لیکن شہزاد اکبر کی وضاحت سے حکمراں جماعت تحریک انصاف کے ناقدین پر زیادہ اثر نہ پڑ سکا۔ مسلم لیگ نواز سے منسلک میاں عالمگیر شاہ نے لکھا کہ ’اس سے بڑی لیکس اور کیا ہے کہ آج حکومتی ترجمان نے محکمہ زراعت کی بات کر کے تسلیم کر لیا کہ عمران سمیت یہ سب محکمہ زراعت کے بھرتی کیے ہوئے مالی ہیں۔
صحافی غریدہ فاروقی لکھتی ہیں کہ ’یہ شہزاد اکبر کس محکمۂ زراعت کی بات کر رہے ہیں؟ عدالت نے تو کہا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے وفاقی حکومت نے نکالا۔

،تصویر کا ذریعہTWITTER
’میڈیکل رپورٹس حکومت نے تصدیق کروائیں۔ حکومت نے ہی تاحال ضمانت توسیع درخواست پر جواب دینے سے گریز کر رکھا تھا، پھر شہزاد اکبر کی حکومت کس سے خفا ہے؟‘
ان ابھرتے ہوئے سوالوں کے جواب میں پاکستان کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ: ’نون لیگ کے لیڈرز اور میڈیا میں ان کے حمایتی دن رات بتاتے تھے کہ نواز شریف کتنے بیمار ہیں اور اگر نہ بھیجا گیا تو کس طرح ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو گا۔
’کل سے یہ حضرات کہہ رہے ہیں حکومت نے خود بھیجا تھا،ہم کیسے بلوائیں، یہی وہ دھوکہ دہی اور جھوٹ ہے جس کی بنیاد پر نون لیگ کی تشکیل ہوئی۔‘
ٹوئٹر کے خاص و عام کئی صارفین نے اس گفتگو میں حصہ لینا چاہا۔ ندیا اطہر کہتی ہیں کہ ’سیم پیج پر ہونے کے دعویدار بھی محکمہ زراعت تک آ گئے ہیں۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’اگر یہ بھی محکمہ زراعت سے پوچھنا ہے تو آپ کیوں بیٹھے ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
مرتضی سولنگی کہتے ہیں کہ ’اس دن کا انتظار کریں جب محکمہ زراعت والے اس نرسری کا بتائیں گے جہاں احتسابِ اکبر کی پنیری لگائی گئی تھی۔‘
افتخار احمد سمجھتے ہیں کہ ’ایک گروپ اب محکمہ زراعت کو بھی آنکھیں دکھانے لگ گیا اور یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سکیم کا حصہ ہے۔‘
محسن حجازی نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’دس پندرہ برس ہم کھل کر ’باغبانی‘ کریں گے آپ نے بس بیچ میں بولنا نہیں ہے۔ محکمہ زراعت۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER
ممتاز یوسفزئی کو لگتا ہے کہ محکمہ زراعت نے شہزاد اکبر کی باتوں کا ’سخت نوٹس لے لیا ہے‘ جبکہ عمر نصیر اس بات پر پریشان ہیں کہ آیا ’آپ کے ہاں محکمہ زراعت پیوند کاری بھی کرتا ہے۔‘
پاکستان کی سیاست میں محکمۂ زراعت کا مطلب کیا ہے؟
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان کی سیاست میں محکمۂ زراعت کا کچھ اس طرح ذکر کیا گیا ہو کہ بات کسی زرعی محکمے کی نہ ہو رہی ہو۔
بی بی سی کے نامہ نگار آصف فاروقی اپنی 2018 کی تحریر میں اس اصطلاح کے پس منظر کے بارے میں لکھ چکے ہیں۔
ہوا کچھ یوں کہ عام انتخابات کے دوران پی پی 219 سے مسلم لیگ ن ملتان کے صوبائی امیدوار اقبال سراج نے ایک بھری پریس کانفرنس میں کہا کہ ایجنسیوں کے بعض اہلکار انھیں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر زور دے رہے ہیں اور ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔
انھوں نے اسی پریس ٹاک کے دوران موجود ان مبینہ انٹیلی جنس اہلکاروں کی نشاندہی بھی کر دی۔ یہ معاملہ اس روز تمام دن میڈیا کی زینت بنا رہا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگلے روز وہی صاحب ایک بار پھر میڈیا کے سامنے آئے اور گذشتہ روز پیش آنے والی 'غلط فہمی' کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ جن افراد کو وہ انٹیلی جنس ایجنسی کا اہلکار سمجھتے رہے وہ دراصل محکمہ زراعت کے اہلکار تھے جن کے ساتھ ان کے اپنی کھیتی باڑی کے بارے میں کچھ معاملات چل رہے تھے۔ انھوں نے حلفاً کہا کہ اس سارے معاملے کا کسی انٹیلی جنس ایجنسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
معاملہ اس بات پر ختم ہو جانا چاہیے تھا لیکن صحافی کہاں چپ بیٹھنے والے تھے، اسی شام ٹیلی وژن چینلز پر شور مچ گیا کہ کس طرح 'محکمہ زراعت' کے ان اہلکاروں نے اس مسلم لیگی امیدوار کو اس کے گودام میں بند کر کے مکوں اور لاتوں کے ذریعے ملکی زراعت بہتر کرنے کے نسخے سمجھائے جس کے بعد امیدوار موصوف نے اپنا وہ مشہور زمانہ محکمہ زراعت والا بیان جاری کیا۔











