پاک چین دوستی: سابق چینی وزیرِاعظم ژو این لائی کا وہ دورہ پاکستان جو پاک چین دوستی کا پیش خیمہ بنا

ژو این لائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ثقلین امام
    • عہدہ, بی بی سی اردو سروس

سنہ 1950 کی دہائی میں کوئی سوچ نہیں سکتا تھا کہ پاکستان اور چین کبھی بہترین دوست ہوں گے اور ان کی دوستی ہر قسم کے موسم کی آزمائش سے کامیابی سے گزر سکے گی اور نہ ہی کسی کے ذہن میں یہ تھا کہ پاکستان کا مقام چین کی نظر میں ’ہمارا اسرائیل‘ بن جائے گا۔

پاکستان مسلم ممالک میں پہلا اور دنیا کا تیسرا ملک تھا جس نے سوشلسٹ انقلاب کے بعد عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا تھا۔ پاکستان نے اس کا اعلان چار جنوری سنہ 1950 میں کیا تھا۔ اگلے برس یعنی 21 مئی سنہ 1951 کو پاکستان کے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور میجر جنرل آغا محمد رضا کو پاکستان نے بیجنگ میں اپنا سفیر تعینات کیا تھا۔

پاکستان اور چین کے تعلقات پر ایک برطانوی صحافی اینڈریو سمال کی لکھی جانے والی ایک کتاب ’دی چائنا پاکستان ایکسز: ایشیاز نیو جیو پالیٹکس‘ میں لکھتے ہیں کہ چین کے عظیم رہنما چیئرمین ماؤ زے تنگ نے پاکستانی سفیر کے کاغذاتِ نامزدگی قبول کرنے کے بعد جب شکریہ ادا کیا تو کوئی خاص گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔

’میں آپ کے ذریعے برطانیہ، آئرلینڈ اور سمندر پار برطانوی نوآبادیاتوں کے شہنشاہ کی جانب سے ان کاغذات نامزدگی کو وصول کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہوں۔‘ چیئرمین ماؤ کے بیان میں یہ ذکر نہیں تھا کہ یہ سفیر پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔

پاکستان کا نام نہ لینے کے واقعے کا ذکر بعد میں چین میں نامزد انڈین سفیر نے بھی خاص طور پر کیا تھا۔ پاکستان اُس وقت تک برطانیہ کی ڈومین تھا یعنی آئینی طور پر برطانیہ کے دائرہِ اقتدار میں تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان جغرافیائی لحاظ سے چین کے لیے کافی اہمیت کا حامل تھا۔ تاریخی شاہراِہ ریشم کا بھی راستہ تھا اور اُس وقت پاکستان امریکہ کا فوجی اتحادی ملک بھی نہیں بنا تھا لیکن اس دور کے حالات میں چین کی ترجیح انڈیا تھا۔ اوائل ہی سے چین اور انڈیا کے درمیان دوستانہ تعلقات کا آغاز ہو گیا تھا اور بے شمار ثقافتی اور تجارتی وفود کے تبادلے ہو چکے تھے۔

اِس پس منظر میں جب چین کے وزیرِ اعظم ژو این لائی (اُس دور میں اخبارات میں اُن کا نام چُو این لائی لکھا جاتا تھا) پاکستان کے دورے پر آئے تو اسے پاکستان میں بہت ستائش کی نگاہ سے دیکھا گیا تھا۔ سنہ 1956 کے ژو این لائی کے دورے نے تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز تو کیا تھا لیکن ’شہد سے زیادہ میٹھی دوستی‘ کا کوئی تصور نہ تھا۔

ژو این لائی

،تصویر کا ذریعہKeystone

اس کا ثبوت اس دورے کے بعد پاکستان کے چین میں اُس وقت کے سفیر سلطان الدین احمد کی وزیرِاعظم ژو این لائی سے وہ ملاقات ہے جس میں وہ پاکستان کو کشمیر کے لیے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کرنے کی بار بار تاکید کرتے ہیں۔ سلطان الدین احمد کی ژو این لائی سے اس بات چیت کی تفصیل ’وڈرو ولسن سینٹر‘ کی آرکائیو میں موجود ہے۔

وزیرِ اعظم ژو این لائی نے پاکستانی سفیر کو بار بار یہ بتانے کی کوشش کی کہ وہ اور سری لنکا کے سربراہ اس بات سے کافی پریشان ہیں کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم ہو سکتا ہے جس کا اس پورے خطے کی ترقی اور خوشحالی پر بہت برا اثر پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان جنگ سے گریز کرے اور تنازع کشمیر کو باہمی مذاکرات سے طے کرے۔

انھوں نے پاکستانی سفیر کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر یہ تصادم ہوا تو اقوام متحدہ کی مداخلت بڑھے گی جس کا پاکستان کو فائدہ نہیں ہو گا بلکہ امریکہ کی مداخلت بڑھے گی جو اس خطے پر پہلے سے نظر جمائے بیٹھا ہے۔ مگر ملاقات میں پاکستانی سفیر انڈیا مخالف اور انڈیا سے خطرے کی بات دہراتے رہے لیکن چینی رہنما انھیں صبر کی تلقین کرتے رہے۔

پاکستان میں چینی امور پر آکسفورڈ یونیورسٹی سے تحقیقی مقالے پر پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرنے والی سیاستدان ڈاکٹر نیلوفر مہدی نے کافی عرصہ پہلے ایک بات چیت میں کہا تھا کہ اگر چین کی پالیسیوں کی تاریخ دیکھی جائے تو وہاں چاہے کوئی بھی نظام رہا ہو، چین سے زیادہ کوئی بھی عملیت پسند نہیں ہو گا۔ وقت نے جلد ہی ثابت کر دیا کہ انڈیا کا بہترین دوست چین زمینی حقائق کے پیشِ نظر پاکستان کا بہترین دوست بن گیا۔

اس لحاظ سے ژو این لائی کا سنہ 1956 کا پاکستان کا دورہ، انڈیا سے تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ ابتدائی دور کی سرد مہری کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان گرمجوشی پیدا ہونا شروع ہوئی جو بالآخر اس مقام تک پہنچی کہ چین کے انٹیلیجینس کے ایک سابق سربراہ، جنرل زی اونگ گوانگ کائی نے کہا کہ ’پاکستان ہمارا اسرائیل ہے۔‘

سنہ 1956 کے عالمی حالات

اس برس چند اہم ایسے واقعات ہوئے جنھوں نے امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ میں نئے زاویے پیدا کیے جن کی وجہ سے عالمی سطح پر چھوٹے ممالک کے درمیان تعلقات کی ایک نئی سمت متعین کرنے کے امکانات دیکھے گئے۔ اُس وقت کے سوویت یونین کے سربراہ نیکیتا خوروشچیف نے سوویت یونین کے بانی لینن کے جانشین جوزف سٹالن کو ہدفِ تنقید بنایا، جس سے دنیا بھر میں سوشلسٹ دھڑوں میں تقسیم ہونا شروع ہو گئے۔

ژو این لائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اُس برس جون میں پولینڈ میں کمیونسٹ پارٹی کے خلاف مظاہروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جسے سوویت یونین کی مدد سے پولینڈ کی حکومت نے سختی سے کچل دیا تھا۔ اس کے علاوہ ہنگری میں طلبا کے ایک گروہ نے کمیونزم کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا لیکن طلبا کے ان مظاہروں کو سوویت یونین کے فوجی ٹینکوں نے تباہ کر دیا تھا۔

چین کے حالات

یہی وہ دور ہے جب امریکہ نے چین پر جوہری بم گرانے کی دھمکی دی تھی تو چین نے بھی اپنا بم بنانے کی کاوشوں کا آغاز کر دیا تھا۔ ظاہر ہے چین اُس وقت سائنس اور ٹیکنالوجی میں اتنا ترقی یافتہ ملک نہیں تھا، اس لیے اُس نے سوویت یونین سے مدد مانگی جو ابتدائی طور پر سوویت یونین نے سوشلسٹ برادر ملک کو بخوشی مہیا کی لیکن ہدف حاصل ہونے سے پہلے سوویت یونین نے چین سے تعاون ختم کر دیا۔

چین میں سوویت یونین کی اس اچانک دستبرداری کا بہت برا منایا گیا۔ نظریاتی اختلافات کے علاوہ سوویت یونین کا اس طرح چین سے عدم تعاون بھی بعد میں چین اور سوویت یونین کے درمیان اختلافات اور مزید آگے چل کر مخاصمت کا سبب بنا۔ انڈیا جو سوویت یونین کا قریبی دوست تھا، اسی لیے چین نے خطے میں پاکستان میں ممکنہ طور پر ایک نیا دوست تلاش کرنا شروع کیا۔

اُس دور کی امریکی خارجہ پالیسی

پچاس کی دہائی کا زمانہ امریکہ کی قیادت میں آزاد مارکیٹ کے بلاک اور سوویت یونین کی قیادت میں سوشلسٹ بلاک کے خلاف سرد جنگ کا کے عروج کا زمانہ تھا۔ امریکی صدر ریٹائرڈ جنرل ڈوائیٹ آئزن ہاور دوسری عالمی جنگ میں اتحادی فوجوں کے سپریم کمانڈر رہ چکے تھے۔ وہ جنوری سنہ 1953 سے لے کر جنوری سنہ 1961 تک امریکہ کے صدر رہے۔

انھوں نے اپنے پیشرو، ہیری ٹرومین کی سوشلسٹ ممالک کو محدود رکھنے اور کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کی خارجہ پالیسی جاری رکھی۔ ایران میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ ان کے زمانے میں پلٹا گیا، کیوبا میں جب فیدل کاسترو نے امریکہ کے حامی جنرل بتیستا کی حکومت کا خاتمہ کیا تو کیوبا پر فوجی حملہ کرنے کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔

ژو این لائی امریکی صدر رچرڈ نکسن کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان کے پیشرو مشرق بعید میں کوریا کے خلاف ایک نامکمل جنگ ان کے لیے ورثے میں چھوڑ گئے تھے۔ آئیزن ہاور نے اس جنگ کے خاتمے کے لیے پالیسی میں تبدیلی کی جس کے نتیجے میں ایک عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا، جو اب تک چل رہا ہے لیکن اس کے بعد سے جزیرہ نما کوریا کی کوریائی قوم دو ممالک میں تقسیم ہو گئی۔

انھیں کے دورِ صدارت میں امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی سب سے بڑی دوڑ کا آغاز ہوا جس کی وجہ سے بے انتہا جوہری اسلحہ تیار ہوا۔ پھر سویت یونین کے ساتھ ’دیتاں‘ (دشمنی کے ماحول کو کم کرنے کی حکمتِ عملی) کے لیے مزید جوہری ہتھیار بنانے پر پابندی عائد کرنے کے معاہدے کے لیے سربراہی کانفرنس کے لیے بھی کام کیا، تاہم یو ٹو کے واقعے (سنہ 1960) کی وجہ سے یہ سربراہی کانفرنس نہ ہو سکی۔

امریکہ براہِ راست ویتنام کی جنگ میں شریک ہوا۔ پولینڈ اور ہنگری میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ امریکہ نے براہ راست مداخلت تو نہیں کی لیکن امریکہ نے مظاہرین کے کچلے جانے پر سوویت یونین کی سخت مذمت کی۔ اسی دور میں جس طرح ایران میں ڈاکٹر مصدق کی حکومت کا تختہ الٹانے کے علاوہ، سی آئی اے نے گوئٹے مالا میں بھی مداخلت کی۔

نہرِ سوئیز پر حملہ

لیکن جس بات نے سنہ 1956 میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ اشتعال اور انتشار پیدا کیا وہ برطانیہ، فرانس اور اسرائیل کا اکھٹے ہو کر مصر پر حملہ تھا۔ مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے 26 جولائی کو نہر سوئیز کو قومی تحویل میں لے لیا تھا۔ برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے اس اعلان کو مسترد کرتے ہوئے نہر سوئز پر حملے کا اعلان کیا۔

تینوں ممالک نے مل کر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن چونکہ برطانیہ اور فرانس کے فوجی دستوں کو پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو 29 اکتوبر کو اسرائیل نے نہر سوئیز پر تنہا حملہ کر دیا۔ اب تک مغربی پریس میں پولینڈ میں کمیونسٹ حکومت کی کارروائیوں کی وجہ سے سویت یونین پر تنقید ہو رہی تھی، نہر سوئیز کے واقعے کی وجہ سے مغربی ممالک پر بھی سخت تنقید شروع ہو گئی۔

دو دن کی لڑائی کے بعد نہر پر قبضہ ہو گیا۔ اس حملے کے فوراً بعد مسلم دنیا کے کئی ممالک میں مظاہرے ہوئے لیکن عراق، ایران اور پاکستان میں ’سامراجی طاقتوں‘ کے خلاف سخت غم و غصہ پیدا ہوا اور عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عراق نے ایک برس پہلے بننے والے امریکہ کے فوجی اتحاد ’معاہدہِ بغداد‘ کا صدر دفتر بغداد سے کسی اور ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

نہر سوئز پر حملے کے دو اہم نتیجے نکلے: ایک یہ کہ امریکہ نے برطانیہ، فرانس اور اسرائیل پر دباؤ ڈال کر نہر سوئز کا قبصہ ختم کرایا اور دوسرے یہ کہ اُس نے برطانیہ اور فرانس دونوں پر یہ واضح کر دیا کہ اب سپر پاور امریکہ ہے، نہ کہ برطانیہ اور فرانس۔ اس طرح امریکہ نے اپنی سفارتی طاقت کو اپنے ہی اتحادیوں کے زیرِ اثر لانے کے لیے استعمال کیا۔

ژو این لائی مصر میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

معاہدہِ بغداد کے رکن ممالک کا فوری طور پر تہران میں اجلاس منعقد ہوا جس میں امریکہ نے یہ وضاحت دی کہ یہ فوجی اتحاد غیر جارح نوعیت کا ہے اور یہ کہ اس کے ارکان کا برطانیہ کی نہر سوئز میں فوجی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس اجلاس میں یہ بھی وضاحت دی گئی کہ معاہدہِ بغداد برقرار ہے اور رکن ممالک کو امریکی امداد ملتی رہے گی۔

اس اجلاس میں اسرائیل کی فوجی کارروائی کی مذمت کی گئی تاہم برطانوی فوجی کارروائی پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ برطانوی مداخلت کی وجہ سے جنگ بندی ممکن ہو سکی۔ اس لیے اس اجلاس کا مقصد یہ تھا کہ معاہدہِ بغداد کو ختم ہونے سے بچایا جائے اور اس خطے میں امریکہ کے کردار کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے۔

اس وقت پاکستان میں چینی سفارتخانے کی ایک بریفنگ جو چین کے دفترِ خارجہ کو بھیجی گئی تھی، اُس کے مطابق اس اجلاس سے سوویت یونین کو خطے میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے روکنا تھا۔ لیکن نتائج توقع کے برعکس نکلے۔ مصر کا انحصار سوویت یونین پر ہو گیا اور اُس کے لیے خطے میں داخل ہونے کے دروازے کھل گئے۔

برطانیہ کی فوجی مداخلت کی وجہ سے معاہدہِ بغداد کمزور ہو گیا، ایشیائی ارکان میں مخالفت بڑھی اور برطانیہ اور امریکہ میں اختلافات پیدا ہو گئے۔

سنہ 1956 میں پاکستان

پاکستان میں کئی برسوں کے آئینی اور سیاسی بحران کے بعد سنہ 1956 میں نیا آئین بن چکا تھا اور پاکستان کو پہلی مرتبہ اسلامی جمہوریہ قرار دیا جا چکا تھا۔ اِس نئے آئین کے تحت اعزازی میجر جنرل اسکندر مرزا کو، جو اب تک گورنر جنرل تھے، پاکستان کا صدر منتخب کیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے دور میں چار وزرائے اعظم برطرف کیے اور پھر خود مارشل لا لگا کر اُسی کا شکار ہوئے۔

بہرحال پاکستان کی اپنی سیاسی کمزوریاں ایک طرف، سنہ 1956 میں پاکستان میں جو سیاسی عدم استحکام چلا آرہا تھا، اُس میں نہر سوئیز کے بحران نے عوامی جذبات کو بہت زیادہ مشتعل کیا۔ اس موقع پر پاکستان جس کے تعلقات مصر سے معاہدہِ بغداد میں شامل ہونے کی وجہ سے خراب چلے آرہے تھے، وہ پاکستان کے اس تنازعے میں غیر جانبدار رہنے کی وجہ سے مزید خراب ہو گئے۔

یہی وہ بحران تھا جس پر پاکستان کے وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی نے عرب اتحاد کو ’صفر جمع صفر جمع صفر برابر صفر‘ کہہ کر انتہائی غیر سفارتی بیان داغ ڈالا۔ اس بیان سے نہ صرف عرب ممالک ناراض ہوئے بلکہ خود پاکستان میں لوگوں کی اپنی حکومت سے مخالفت میں اضافہ ہوا۔ جس کے بعد پاکستانی حکومت نے مصر کی حمایت کی لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔

ژو این لائی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اُس وقت یہ بھی کوشش کی گئی کہ اس معاہدہِ بغداد کو ’معاہدِہ کراچی‘ کو نیا نام دے دیا جائے یعنی اس فوجی اتحاد کے صدر دفتر کو پاکستان منتقل کر دیا جائے۔ تاہم پاکستان میں صدر اسکندر مرزا، وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی اور وزیرِ خارجہ فیروز خان نون کو حزب اختلاف کی تمام جماعتوں اور مذہبی رہنماؤں کی سخت تنقید کا سامنا تھا، اس لیے اس خیال کو ابتدا ہی میں ترک کر دیا گیا۔

بہرحال چینی سفارت خانے کی بریف کے مطابق، حکومت مخالف سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے حکومت پر الزام لگایا کہ ’آپ برطانیہ اور فرانس کے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کی تعریفوں میں لگے ہوئے ہیں۔‘ حکومت پر تنقید کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ وہ مصر پر حملہ آوروں کا دفاع کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، بائیں بازو کے دانشور، مذہبی علما اور عام شہریوں نے بھی نہر سوئیز پر حملے کی وجہ سے پاکستان کی خارجہ پالیسی بدلنے کا مطالبہ کیا۔

خود وزیرِاعظم حسین شہید سہروردی کی جماعت عوامی لیگ میں نہر سوئیز پر حملے کی وجہ سے دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔ اُس وقت کے مشرقی پاکستان کے عوامی لیگ کے ایک ابھرتے ہوئے رہنما مولانا عبدالحمید بھاشانی نے حسین شہید سہروردی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا۔ اس وقت کراچی، لاہور، پشاور سمیت ڈھاکہ میں بھی مغرب مخالف مظاہرے جاری تھے۔

ژو این لائی کا دورہ

سنہ 1956 میں چینی وزیر اعظم ژو این لائی اور نائب وزیرِ اعظم ہی لونگ نے دسمبر کے مہینے سے ایشیا کے آٹھ ممالک، یعنی ویتنام، کمبوڈیا، انڈیا، برما، پاکستان، افغانستان، نیپال اور سری لنکا (اُس زمانے میں یہ سیلون تھا)، کا دورہ کیا جو فروری سنہ 1957 تک جاری رہا۔ سرکاری طور اس دورے کا مقصد دوستی، امن اور مطالعہ بتایا گیا تھا۔

ژو این لائی انڈیا اور برما کے بعد 20 دسمبر سنہ 1956 کو پاکستان آئے۔ جب پاکستان میں عوام اور حزبِ اختلاف نہر سوئیز پر جنگ کی وجہ سے مشتعل بھی تھے اور خدائی مداخلت کے لیے دعا گو بھی تھے، ایسے میں ژو این لائی کے دورہِ پاکستان کو ایک مدد کے طور پر دیکھا گیا ہوگا۔

کیونکہ یہ دورہ نہر سوئز کے بحران، پولینڈ اور ہنگری کے واقعات کے پس منظر میں ہورہا تھا اس لیے وزیراعظم ژو این لائی نے میزبان ممالک کے رہنماؤں کو چین کا موقف بتایا اور کہا کہ چین چاہتا ہے کہ مغربی نوآبادیاتی طاقتیں محکوم اقوام کو آزادی دیں اور قوم پرست ممالک کے اقتدارِ اعلیٰ، اُن کی غیر جانبداری اور امن کی خواہشات کا احترام کیا جائے اور دوسرے ممالک ان میں مداخلت سے گریز کریں۔

انھوں نے اس دورے میں اپنی ملاقاتوں میں اس بات کا بھی کئی مرتبہ اظہارِ خیال کیا کہ سوشلسٹ ممالک کے آپس کے تعلقات کا ایک نیا تجربہ ہے اس لیے انھیں مکمل طور پر معمول کا نہیں کہا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ ان ممالک کے لیے ضروری ہے کہ باہمی تعلقات اور بقائے باہمی کے لیے پانچ اصولوں کو اپنائیں۔

پاکستان اور چین میں پہلا سربراہی رابطہ

ایک برس قبل ہی، یعنی سنہ 1955 میں انڈونیشیا کے اُس وقت کے صدر سوئیکارنو نے ایفرو ایشین کانفرنس کا انعقاد اپنے ملک کے ایک شہر باندُنگ میں کیا تھا جس میں 29 ممالک نے شرکت کی تھی۔ شرکت کرنے والوں میں انڈیا، پاکستان، سری لنکا، برما، ایتھیوپیا، ترکی، لبنان اور مصر بھی شامل تھے۔ چین اس کانفرنس میں ایک مبصر کی حیثیت سے شریک ہوا تھا۔ اس کانفرنس نے ایک دس نکاتی اعلامیہ بھی منظور کیا تھا۔

اسی اجلاس کے دوران پاکستان کے اُس وقت کے وزیرِ اعظم محمد علی بوگرہ نے چین کے وزیرِ اعظم ژو این لائی سے دو مرتبہ ملاقات کی تھی جس میں انھوں نے چینی رہنما کو یقین دلایا تھا کہ پاکستان کے لیے امریکی فوجی معاہدوں میں شرکت کسی ملک (یعنی چین) کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے مقصد کے لیے ہے۔

اس ملاقات نے پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں مثبت پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اگلے برس چین نے پاکستان کے وزیرِ اعظم کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ اُس وقت پاکستان کے وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی بن چکے تھے۔ پھر سہروردی نے ژو این لائی کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور وہ آٹھ ملکی دورے میں پاکستان بھی آئے۔

اس سے بھی قبل یعنی سنہ 1953 میں وزیرِ اعظم ژو این لائی نے انڈیا کے وفد کے ساتھ ملاقات میں عالمی سیاست میں بقائے باہمی کے لیے چین کے ’پانچ اصولوں‘ کے بارے میں بات کی تھی: باہمی عزت، عدم جارحیت، عدم مداخلت، برابری اور بقائے باہمی۔ اگلی چند دہائیوں کے دوران چین کی خارجہ پالیسی انھی اصولوں کے ارد گرد گھومتی رہی سوائے انڈیا سے جنگ کے وقت۔

چین نے پاکستان کے مخمصے کو سمجھا

پاکستان میں پاک چین تعلقات کے لیے ایک تحقیقی ادارے سے وابستہ سینیٹر مشاہد حسین کہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم ژو این لائی کا سنہ 1956 کا دورہِ پاکستان اس مفاہمت کی بنا پر تھا کہ پاکستان کی امریکی فوجی اتحادوں میں شمولیت چین کے خلاف جارحیت کے مقصد کے لیے نہیں بلکہ یہ شمولیت ’پاکستان کے بنیادی دشمن انڈیا‘ کی وجہ سے ہوئی تھی۔

’پاکستان کی ان اتحادوں میں شمولیت دراصل پاکستان کو اپنی سلامتی کے لیے ایک چھتری مہیا کرنے کے لیے تھی، نہ کہ چین سے کسی جارحیت کے خوف کی وجہ سے۔ اس دورے نے مستقبل میں پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کی بھی ایک بنیاد فراہم کی۔ بیجنگ نے اُس دور کی سرد جنگ میں پاکستان کے مغربی ممالک کی جانب، خاص کر امریکہ کی جانب، جھکاؤ میں انڈیا کی وجہ کو ایک مرکزی فیکٹر کے طور پر تسلیم کرلیا تھا۔‘

ژو این لائی اور نہرو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

واقعات کی سمت

اینڈریو سمال کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ اُس زمانے میں چین کا جھکاؤ انڈیا کی جانب تھا۔ انڈیا کے وزیرِاعظم جواہر لعل نہرو نے امریکہ کی اِس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا جس میں انھیں یہ پیشکش کی گئی تھی کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکن بننے کے لیے انڈیا عوامی جمہوریہ چین کی نشست پر بیٹھ جائے۔

اُس وقت چین کی جگہ فارموسا (تائیوان) میں جنرل چیانگ کائی شیک کی حکومت عوامی جمہوریہ چین کی حکومت کی نشست پر قابض تھی۔

انڈیا نے سنہ پچاس کی دہائی کے آغاز میں عوامی جمہوریہ چین کی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لیے ایک قرارداد پیش کی تھی جس کی پاکستان نے حمایت کی، لیکن سنہ 1953 سے لے کر سنہ 1960 تک جب بھی عوامی جمہوریہ چین کی رکنیت کی حمایت میں ایسی کوئی بھی قراداد پیش ہوئی تو پاکستان نے محالفت کی۔

تاہم سنہ 1961 میں جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کا وفد شرکت کر رہا تھا اور اُس وقت چین کی حمایت میں قراداد پیش ہوئی تو اِس وفد کی قیادت اُس وقت کے پاکستان کے آبپاشی اور صنعت کے وزیر ذوالفقار علی بھٹو کر رہے تھے۔ انھوں نے عوامی جمہوریہ چین کی حمایت میں ووٹ دیا۔ تھوڑی دیر بعد ہی امریکہ نے پاکستان کو اس بات پر سخت تنبیہ جاری کی لیکن پاکستان کا فیصلہ آچکا تھا۔ پھر پاکستان چین ہی کا حامی رہا۔

تاہم اس سے قبل پاکستان سنہ 1954 میں سیٹو (اُس وقت یہ معاہدہِ بغداد کہلاتا تھا) اور سنہ 1955 میں سینٹو اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ دیگر تعاون کے معاہدوں کے بعد امریکہ نے پاکستان کو فوجی اور اقتصادی امداد میں خاطر خواہ اضافہ کر دیا جبکہ سیٹو کا بنیادی مقصد ہی چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کو محدود کرنا تھا۔

جب پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا اور پشاور کے قریب بڈھ بیڑ میں پاکستان نے امریکی ادارے نیشنل سکیورٹی ایجینسی کو روس کی مانیٹرنگ کے لیے اڈے دے چکا تھا، اُس وقت انڈیا سوشلسٹ رُجحانات کا مظاہرہ کرتے ہوئے روس کا اتحادی بن چکا تھا اور دلی اور بیجنگ میں ’ہندی چینی بھائی بھائی‘ کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔

اسی دوران جب تبت میں چینی فوجوں کی مداخلت اور کارروائیوں کو باغی تبتّی اقوام متحدہ میں اٹھوانے کی کوششوں کو انڈیا ناکام بنانے کی تگ و دو کر رہا تھا، تو عین اُس وقت پاکستان تبتّی باغیوں کی حمایت کے لیے امریکی طیاروں کو راہداری کی سہولت مہیا کر رہا تھا۔

لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کے اُسی دوران یعنی سنہ 1953 میں چین کی جانب سے گلگت بلتستان میں ہنزہ ریاست کے ساتھ چینی سرحد پر چینی حکام اکثر مبینہ طور پر سرحدی خلاف ورزیاں کر رہے تھے۔ اسی لیے بعد میں ایک موقعہ پر جنرل ایوب خان کو چینی حکام کو یہ متنبہ کرنا پڑا کہ چین کی جانب سے ان علاقوں میں جارحیت کا سخت جواب دیا جائے گا۔

پاکستان کی امریکی مفادات کی حمایت میں کی گئی کارروائیوں پر چین نے پاکستان کو کم ہی تنقید کا نشانہ بنایا۔ بیجنگ سے جاری ہونے والے اکثر بیانات میں امریکہ کے توسیع پسندانہ عزائم کو تنقید نشانہ بنایا جاتا تھا۔ یہ بات واضح اشارہ دے رہی تھی کہ چین سمجھتا تھا کہ پاکستان یہ سب کچھ کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے انڈایا کے خلاف فوجی امداد کے حصول کے لیے کر رہا ہے۔

مستقبل کی سمت

جب ژو این لائی نے پاکستان کا پہلا دورہ کیا تھا تو اُس وقت پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹیجی کے لحاظ سے کوئی بات مشترک نہیں تھی بلکہ صرف عملیت پسندی تھی۔ لیکن بعد میں جب چین کی انڈیا کے ساتھ سنہ 1962 میں سرحدی تنازعات کی وجہ سے جنگ ہوئی تو پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی بنیادی اور مشترکہ وجہ انڈیا دشمنی بن گئی۔ کئی برسوں تک یہ مشترکہ دشمنی دونوں کی دوستی کی بنیادی وجہ سمجھی گئی یا کم از کم الزام یہی لگتا رہا۔

لیکن اب چین اور پاکستان کی دوستی کی بنیادی وجہ دونوں میں انڈیا کی دشمنی سے کہیں زیادہ دیگر اہم وجوہات ہیں۔ انڈیا دشمنی اگرچہ ابھی بھی دونوں کی دوستی کے لیے اہم ہے مگر اس وقت چین پاکستان اور افغانستان میں ایک تغیر پذیری کی گومگو کیفیت اس لیے ہے کہ اُس کے سامنے بہت بڑی سطح کے اہداف ہیں۔ اب چین ایک عالمی اقتصادی طاقت بن کر ابھر رہا ہے۔

آج کے چین کی خطے کی ایک طاقت سے عالمی طاقت کے سفر میں پاکستان اُس کا جُزوِ لاینفک ہے۔ پاکستان اس وقت چین کے لیے بننے والی پائپ لائنوں، سڑکوں، ریلویز کا جال جو مشرقِ وسطیٰ میں انرجی کے ذخائر یعنی تیل اور گیس کے کنوؤں کو چین کے شہروں کے درمیان رابطے کا جو خطہ ہے وہ پاکستان ہے۔

چین کی اِس خطے میں بڑھتی ہوئی بحری طاقت کے لیے بھی پاکستان کا ساحل فوجی حکمتِ عملی اور سٹریٹیجی کے لحاظ سے بہت اہمیت اختیار کر چکا ہے جہاں سے وہ اپنا اثر و رسوخ بحرِ ہند اور خلیجِ فارس تک ہی نہیں بلکہ بحیرہِ روم اور بحیرہِ احمر تک بھی بڑھائے گا۔ اس لیے ممکن ہے کہ یمن کے ہوثی ایران کی بجائے چین کی جنگ لڑ رہے ہوں۔ اگرچہ ایران میں چین کی سرمایہ کاری چار سو ارب ڈالر سے زیادہ ہو گی لیکن پاکستان کی سٹریٹجک حیثیت کا کوئی بدل نہیں ہے۔

پاکستان اور چین کے درمیان شاید ایسا تعاون ژو این لائی نے بھی نہیں سوچا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کوشش کی تھی کہ چین کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہو جائیں اور اس کی تجویز ژو این لائی کو پیش بھی کی تھی لیکن انھوں نے بہت خوشگوار انداز سے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔

پاک چین دوستی کا جو فریم ورک ژو این لائی نے سوچا ہو گا، آج بھی وہی چل رہا ہے: پاکستان کا چین کے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہے،تاہم پاکستان اپنے دفاع، میزائل پروگرام اور جوہری پروگرام کے لیے اگر کسی طاقت پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کر سکتا ہے تو وہ صرف چین ہے۔ اور اب چین پاکستان کی اقتصادی ترقی کا بھی ضامن بنتا جا رہا ہے۔