مردوں میں بانجھ پن: ’مسئلہ میری بیوی میں نہیں مجھ میں ہے اور اب میں اس کا علاج کروا رہا ہوں‘

بانچھ پن
،تصویر کا کیپشنعطااللہ: جب ٹیسٹ کے نتائج آئے اور بیماری کی تشخیص ہوئی تو میں نے صاف صاف اپنی اہلیہ کو اصل مسئلے سے آگاہ کر دیا اور اب اپنا علاج کرا رہا ہوں
    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

’میری اہلیہ میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ڈاکٹروں نے میرے ٹیسٹ کرائے تو معلوم ہوا کہ مسئلہ مجھ میں ہے۔ میں ایزوسپرمیا کے مرض میں مبتلا ہوں۔‘

عطااللہ (فرضی نام) کی شادی کو دو سال ہو چکے ہیں مگر ان کی اہلیہ حاملہ نہیں ہو پا رہی تھیں۔ انھوں نے ابتدائی دو برس اپنی اہلیہ کا علاج کروایا کیونکہ انھیں معمولی نوعیت کا انفیکشن تھا لیکن یہ کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا کہ وہ حاملہ نہ ہو سکیں۔

بلآخر جب عطااللہ نے ڈاکٹر کے مشورے پر اپنے ٹیسٹ کروائے تو انھیں معلوم ہوا کہ وہ ایزوسپرمیا کے مرض میں مبتلا ہیں یعنی ایسا مریض جس کے سیمن میں سپرمز نہیں ہوتے اور علاج کروائے بغیر ان کے ہاں اولاد ہونا ممکن نہیں ہوتی۔

عطا اللہ کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقے سے ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جب ٹیسٹ کے نتائج آئے اور ان میں اس بیماری کی تشخیص ہوئی تو قبائلی روایات کے برعکس انھوں نے صاف صاف اپنی اہلیہ کو اصل مسئلے سے آگاہ کر دیا اور اب وہ خود اپنا علاج کرا رہے ہیں۔

عطااللہ ان دنوں پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں قائم شعبہ انفرٹیلیٹی سے علاج کرا رہے ہیں۔

'مجھے اور کوئی جنسی مسئلہ در پیش نہیں ہے، بس مسئلہ ہے تو سپرمز کا اور اب میں اس کا علاج کروا رہا ہوں۔ مجھے علاج کروانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے اور ناں ہی میں نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنایا۔ اگر ایک مشکل ہے تو اسے علاج سے حل کیا جا سکتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں جگہ جگہ دیواروں پر مردانہ کمزوری اور بانجھ پن کے علاج کے اعلانات نظر آتے ہیں لیکن کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہے کیونکہ دیگر بیماریوں کے حوالے سے اس طرح کی وال چاکنگ زیادہ نظر نہیں آتی۔

ماہرین صحت کے مطابق اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سے مرد اس نوعیت کی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں مگر ان بیماریوں کا باقاعدہ علاج سرکاری ہسپتالوں میں کہیں نہیں ہوتا اور یہی وجہ ہے کہ سستے علاج کا جھانسا دے کر نیم پیشہ ور لوگ عام افراد کی سادگی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان میں مردوں کے لیے بانجھ پن کا علاج کروانے کو بھی ایک بڑا معاشرتی مسئلہ سمجھا جاتا ہے اور اکثر مرد اسے اپنی انا کا مسئلہ بھی سمجھتے ہیں۔ جن ماہرین سے بی بی سی نے بات کی ان کے مطابق اکثر مرد اپنی بیویوں کا علاج تو برس ہا برس کرواتے ہیں لیکن وہ اپنا بنیادی معائنہ اور ٹیسٹ تک نہیں کرواتے۔

بانجھ پن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنایزوسپرمیا کے مرض میں مبتلا افراد کے سیمن میں سپرمز نہیں ہوتے اور علاج کروائے بغیر ان کے ہاں اولاد ہونا ممکن نہیں ہوتی

پاکستان میں اب پہلی مرتبہ پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں انفرٹیلیٹی یعنی بانجھ پن اور جنسی امراض کا شعبہ قائم کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ ماہر ڈاکٹرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔

پاکستان میں ان امراض کے ماہر ڈاکٹروں کی کمی ہے۔

اس مرکز میں تعینات ڈاکٹر میر عابد جان نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر بانجھ پن اور جنسی بیماریوں کا تعلق یورالوجٹس سے ہوتا ہے اور اس کے لیے متعلقہ فیلڈ میں اعلیٰ تعلیم کا حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے اور پاکستان میں ایسے ڈاکٹر کافی کم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں نجی سطح پر کچھ ہسپتال اور کلینکس ایسے ہیں جہاں ڈاکٹرز ان بیماریوں کا علاج کرتے ہیں لیکن سرکاری سطح پر پہلی مرتبہ پشاور کے سرکاری ہسپتال میں اس کا علاج شروع کیا گیا ہے۔

بانجھ پن انا کا مسئلہ کیوں ہے ؟

ڈاکٹر میر عابد جان کے مطابق ان کے پاس بانجھ پن کے جو مرد مریض آتے ہیں ان میں نوے فیصد ایسے ہوتے ہیں جو برسوں تک پہلے اپنی بیوی کا علاج کرانے پر زور دیتے رہے۔

انھوں نے بتایا کہ چند مرد ایسے بھی آئے جو اپنے مسئلے کو سمجھے بغیر اولاد پیدا کرنے کے چکر میں دو تین شادیاں کر چکے تھے۔

جنسی امراض اور بانجھ پن کتنا بڑا مسئلہ ہے؟

ماہرین صحت کے مطابق دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں اوسطاً پندرہ فیصد جوڑے بانجھ پن کا شکار ہوتے ہیں، تاہم پاکستان میں ان کی تعداد اس سے زیادہ ہے۔

ڈاکٹر میر عابد جان کے مطابق جنسی امراض کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں جن میں نفیساتی مسئلہ بھی شامل ہے۔

'کم عمری میں بھی یہ مسئلہ ہو سکتا ہے جبکہ چالیس سال سے زیادہ عمر کے پچاس فیصد سے زیادہ لوگ مختلف نوعیت کے جنسی امراض کا شکار ہوتے ہیں اور وہ کسی نہ کسی وجہ سے جنسی تعلق بر قرار نہیں رکھ پاتے۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ مسئلہ زیادہ گمبھیر ہے کیونکہ یہاں سیکس ایجوکیشن نہیں ہے اور دوسرا یہ کہ یہاں کوئی باقاعدہ اور مستند ڈاکٹروں کی جانب سے علاج کی بہتر سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں افروڈیازک ادویات پر پابندی عائد ہے۔ افروڈیازک ادویات کو شہوت دلانے والی ادویات کہا جاتا ہے جو جنسی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو دی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ادویات 'غلط مقاصد' کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں اور اس کے علاوہ ان کو فروخت نہ کرنے کی معاشرتی وجوہات بھی بتائی جاتی ہیں لیکن یہ اس کا حل نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں ’یہ ادویات مستند ڈاکٹرز کے مشورے سے مریضوں کو دی جا سکتی ہیں۔ اگر غلط استعمال کی بات ہے تو پاکستان میں متعدد ایسی سکون آور ادویات ہیں جن کا غلط استعمال ہوتا ہے لیکن اس کو روکنے اور ان کی فروخت کو منظم بنانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

بانچھ پن

کیا بانجھ پن کے شکار مرد علاج کے لیے آتے ہیں؟

عام تاثر یہی ہے کہ بیشتر مرد اپنے بانجھ پن کے علاج کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر میر عابد جان کے مطابق نوے فیصد مرد ایسے ہوتے ہیں جو برسوں تک اپنی بیویوں کا علاج کراتے رہتے ہیں لیکن اپنے علاج کی طرف توجہ نہیں دیتے۔

'اب حالات قدرے تبدیل ہو رہے ہیں کیونکہ کچھ ایسے جوان افراد بھی سامنے آئے ہیں جو شادی سے پہلے اپنا معائنہ کرانے آتے ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ ایسے جوان ان کے پاس آتے ہیں جن کی شادیاں نہیں ہوئیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنا مکمل معائنہ کرائیں اور جتنے مطلوبہ ٹیسٹ ہیں وہ بھی کرا لیں تاکہ شادی کے بعد کوئی مسئلہ نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ اب ایسے خاندان بھی سامنے آ رہے جہاں لڑکا اور لڑکی دونوں کے شادی سے قبل ضروری ٹیسٹ کروا لیے جاتے ہیں تاکہ شادی کے بعد کی زندگی پرسکون گزر سکے اور اگر کسی کو مسئلہ ہے تو وہ پہلے ہی سامنے آ جائے بجائے اس کے کہ شادی کے بعد کوفت اٹھائی جائے۔

ڈاکٹر میر عابد جان نے بتایا کہ اگر مرد علاج کرانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تو بعض اوقات اُن کی اہلیہ کو بھی بتایا جاتا ہے تاکہ علاج پر راضی ہو سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں اس کے لیے ’کپل تھیراپسٹ‘ ہوتے ہیں یعنی جو میاں بیوی کو نفسیاتی طور پر علاج کے لیے ساری صورتحال سے آگاہ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بعض اوقات تو مرد مریضوں کی سرجری کی جاتی ہے اور اس کا مقصد ہوتا ہے کہ سپرمز خصیوں میں تو موجود ہوتے ہیں لیکن نالیوں میں بندش کی وجہ سے باہر نہیں آ پاتے۔ لیکن اگر سپرمز بن ہی نہ رہے ہوں تو اُن کا علاج طویل ہوتا ہے اور اس میں بعض اوقات خرچہ بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ ادویات بھی کافی مہنگی ہوتی ہیں۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز سے منسلک شعبہ انفرٹیلیٹی میں ابتدائی طور پر چھ بستروں کا ایک چھوٹا وارڈ قائم کیا گیا ہے۔ اس ہسپتال میں مریضوں کے علاج، ادویات اور جن کو ضرورت ہو ان کی سرجری بھی کی جاتی ہے۔ یہاں ’ٹیسٹ ٹیوب بے بی‘ کے سلسلے میں معاونت تو فراہم کی جاتی ہے لیکن اس کے لیے درکار ادویات اور دیگر ٹیسٹ مہنگے ہیں جو یہاں فی الحال محدود وسائل میں ممکن نہیں ہیں۔