ناران، کاغان میں شدید برفباری: ’مجھے لگا کہ اتنی برفباری اور اندھیری رات میں شاید ہم بچ ہی نہ پائیں‘

برف

،تصویر کا ذریعہCourtesy Asif Awan

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

'ہم ساری رات وہاں پھنسے رہے۔ سردی بہت تھی تو گاڑی میں ہیٹر چلا دیا لیکن پھر پیٹرول بھی ختم ہو گیا۔ مجھے تو ایسا لگ رہا تھا کہ اتنی برفباری، ایسی اندھیری رات اور ان حالات میں تو شاید ہم بچ ہی نہ پائیں۔‘

پنجاب کے شہر بہاولپور کے رہائشی محمد حسیب ناران اور شمالی علاقہ جات کی سیر کی غرض سے یہاں آئے تو مگر ان کی واپسی کا سفر کافی پُرخطر رہا۔

انھوں نے بتایا کہ ناران میں چند دن کے قیام کے بعد جب اتوار کو ان کے خاندان نے واپسی کا سفر شروع کیا تو سکی کناری ڈیم کے نزدیک برفباری اور گلیشئیر گرنے سے وہ سٹرک پر ہی پھنس گئے۔

پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے سیاحتی مقامات کاغان اور ناران میں شدید برفباری کے نتیجے میں پھنس جانے والے سیاحوں کو مقامی انتظامیہ نے کئی گھنٹوں کے محنت کے بعد نکال پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

محمد حسیب نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ ان کی فیملی کے علاوہ 53 افراد جو 11 گاڑیوں میں سفر کر رہے تھے، وہ برفباری کے باعث ناران سے واپسی کے راستے میں پھنس گئے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سڑک کی بندش کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور ساری رات فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی اور ریسکیو 1122 مانسہرہ کے اہلکار برف صاف کرنے میں مصروف ہوئے اور سڑک کو دوبارہ قابل استعمال بنایا۔

برف

،تصویر کا ذریعہCourtesy Asif Awan

محمد حسیب کا کہنا تھا صبح کے وقت جب برف وہاں سے ہٹائی گئی تو تقریباً تمام گاڑیوں میں پیٹرل اور ڈیزل ختم ہو چکا تھا جس کے بعد انتظامیہ نے پیٹرول اور ڈیزل فراہم کیا اور سیاحوں کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔

اسے بارے میں جب کاغان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سے رابطہ کیا گیا تو ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد مظہر نے بتایا کہ ہم گذشتہ کئی دنوں سے سیاحوں کو تنبیہ کر رہے تھے کہ برفباری کی پیش گوئی ہے تو ناران، کاغان کا سفر کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ برفباری سے وہ راستے بند ہو جاتے ہیں۔

برف

،تصویر کا ذریعہCourtesy Asif Awan

'لیکن ہماری وارننگ کے باوجود لوگ آتے رہے اور ہفتے کی شام تک ناران میں 53 سیاح موجود تھے حالانکہ ناران اور کاغان میں ہوٹل وغیرہ بند کر دیے گئے تھے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح جب ان کو یہاں سے نکالا گیا تو برفباری جاری تھی۔

محمد مظہر کے مطابق سکی کناری ڈیم سے لے کر ناران کے اطراف میں 34 کلومیٹر کے علاقے میں چار فٹ برفباری ہوئی تھی اور اسی حصے میں ایک چھوٹا گلیشیئر بھی گرا جس کی وجہ سے راستے بند ہو گئے اور سیاح اُس علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ تمام سیاحوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ان میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب اور سندھ سے ہے۔

برف

،تصویر کا ذریعہCourtesy Asif Awan

واضح رہے کہ گلگت کو ملانے والی بابو سر ٹاپ کی روڈ پہلے ہی سیاحوں کے لیے بند ہے جبکہ ناران اور کاغان میں ہوٹل او ریستوران وغیرہ بند ہیں اور جو افراد پھر بھی سفر کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے کھانے پینے اور رہائش کا انتظام کر کے آئیں۔

دوسری جانب گلیات میں برفباری دیکھنے کے لیے مری میں سیاحوں کا رش ہے اور مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے ساتھ سفر کریں اور ٹائروں پر زنجیر لگا کر چلیں۔