کورونا وائرس: سکولوں میں سردیوں کی تعطیلات بڑھانے پر غور، کاروبار بند نہ کرنے کا فیصلہ

عمران خان

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کے بعد ان کی جماعت نے جلسے جلوسوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ باقی جماعتوں سے بھی ایسے ہی اقدام کی امید رکھتے ہیں۔

عمران خان کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے حکومت مخالف جلسوں کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کہہ چکے ہیں کہ وہ جلسے نہ کرنے کے احکامات کی پیروی نہیں کریں گے۔

عمران خان نے پیر کو قومی رابطہ کمیٹی کے اہم اجلاس کے بعد قوم سے خطاب میں کہا کہ ’افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دو ہفتے میں کورونا وائرس کے کیسز چار گنا تک بڑھ چکے ہیں اور اب ہمیں خطرہ یہ ہے کہ اگر ایس او پی پر عملدرآمد اور احتیاط نہ کی گئی تو پھر ہسپتالوں میں جون کے مہینے جیسا حال ہو جائے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں جون کے مہینے میں کورونا کی وبا اپنی عروج پر تھی جبکہ پیر کو مسلسل چوتھے روز پاکستان میں دو ہزار سے زیادہ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ ملک میں کووڈ 19 سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کا ٹیسٹ بھی مثبت آ گیا ہے۔

پاکستان، کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے دوران کورونا کے نئے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے اور انھیں گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ نے بتایا ہے کہ انتخابی مہم کے بعد کورونا کی وبا تیزی سے بڑھ گئی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے پورے ملک میں جلسے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ ہم سب کو کہیں گے وہ بھی ایسا ہی کریں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ 'آج ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے فنکشن میں اور شادی میں تین سو سے زیادہ لوگ جمع نہیں ہوں گے۔'

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں یہ وائرس پہلے سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میں اپنی ساری قوم سے اب یہ کہتا ہوں کہ یہ وقت احتیاط کرنے کا ہے۔ جس طرح پہلے ہم نے احتیاط کی تھی تو ہم بچ گئے تھے۔‘

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے کارخانے اور دکانیں بالکل بند نہیں کرنی ہیں لیکن ان میں ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ آنے والوں دنوں میں وہی احتیاط کرنی ہے، جس میں ماسک پہننا پہلے نمبر پر ہے۔

ان کے مطابق ’ٹائیگر فورس بھی ہمیں موبائل کے ذریعے بتاتی رہے گی۔۔۔ بلکہ پوری قوم ہمیں بتائے گی کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

پاکستان، کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنتعلیمی اداروں میں تعطیلات کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ اور دیکھ کر اس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا

سکولوں کو ایک ہفتے کے لیے مانیٹر کریں گے

عمران خان کا بتایا کہ حکومت نے فی الحال سکول بند کرنے یا موسم سرما کی تعطیلات میں اضافے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا بلکہ سکولوں میں کورونا کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور اس بارے میں فیصلہ آئندہ ہفتے ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ’سکولوں کے حوالے سے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایک ہفتہ اور دیکھیں گے۔ اگر ہمیں یہ پتا چلا کہ یہ سکول سے بھی پھیل رہا ہے تو پھر سردیوں کی چھٹیاں زیادہ کر دیں گے اور گرمیوں میں صرف ایک ماہ کی چھٹیاں کر دیں گے۔‘

مراد علی شاہ کا کورونا ٹیسٹ مثبت

کووڈ 19 کی روک تھام کے لیے قائم ادارے این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں 2128 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ اس عرصے میں 19 افراد اس عالمی وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ میں بھی پیر کو کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایک بیان میں مراد علی شاہ نے بتایا کہ نماز جمعہ کے بعد ان کی طبیعت خراب ہوئی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں جس کے بعد انھوں نے کووڈ 19 کا ٹیسٹ کروایا، جس کے نتائج مثبت آئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ڈاکٹروں کے مشورے پر میں آئسولیشن میں ہوں۔ مجھے ہلکہ بخار ہے لیکن ویسے میری حالت بہتر ہے۔‘

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@SINDHCMHOUSE

’آئندہ سال موسم سرما معمول کے مطابق ہو گا‘

ادھر کورونا وائرس کی پہلی ممکنہ ویکسین بنانے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ پُر اعتماد ہیں کہ آئندہ سال موسم سرما ’معمول کے مطابق ہو گا۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دوا ساز کمپنی بائیو این ٹیک کے سربراہ پروفیسر ساہن نے بتایا کہ ویکسین سے وائرس کی منتقلی کو روکا جاسکے گا۔ لیکن فی الحال کچھ مشکل دن باقی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تاحال ممکنہ ویکسین کے منفی اثرات میں دو روز تک ہلکا بخار شامل ہیں۔