پاکستان میں ویکسین کی آزمائش: ویکسین کون سی ہے اور آزمائش کا طریقہ کار کیا ہے

ویکسین

،تصویر کا ذریعہReuters

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے کورونا وارڈ میں مریضوں کی تعداد کم ہونے کے بعد حالیہ ہفتوں میں ایک بار پھر کچھ زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ لیکن اب اسی ہسپتال کے ایک دوسرے حصے میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی تجرباتی ویکسین کے لیے رضا کاروں کی آمد شروع ہو چکی ہے۔

یہاں بھی منظر وہی ہے یعنی اندر جانے کے لیے اجازت حفاظتی تدابیر، سماجی فاصلہ اور ماسک کا استعمال لازم ہے۔

اس ویکسین کو چین کی کمپنی بائیو ٹیک کینسائنو بائیو نے بیجنگ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے اشتراک سے بنایا ہے۔ اسے ’اے ڈی فائیو نوول کورونا وائرس ویکسین‘ کا نام دیا گیا ہے۔ پاکستان میں اس کے ’فیز تھری‘ یا تیسرے مرحلے کی آزمائش ہوگی۔

پاکستان کی طبی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب یہاں کسی ویکسین کی آزمائش کی جا رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ کامیابی کی صورت میں یہ ویکسین ایک بڑی مقدار میں پاکستان کو بھی مل سکے گی۔

ہسپتال کے شعبہ متعدی امراض کے سربراہ اور کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے چین کی ویکسین کے لیے شفا ہسپتال میں اعلیٰ تحقیق کار ڈاکٹر اعجاز خان سے ملاقات ہوئی۔

بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ ’دنیا میں اس وقت 150 ویکسین تجرباتی مراحل سے گزر رہی ہیں اور ان میں سے 25 انسانوں پر آزمائش کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور پانچ سے سات ایسی ہیں جو اس ایڈوانس تیسرے مرحلے میں ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے پانچ ہسپتالوں میں 10 ہزار رضاکاروں کو یہ ویکسین لگائی جائے گی جبکہ دنیا میں مجموعی طور پر کل 40 ہزار رضا کار اس میں شامل ہوں گے۔

فیز تھری، اہمیت و طریقہ کار

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

ڈاکٹر اعجاز کہتے ہیں کہ فیز تھری تک کسی ویکسین کے پہنچنے کا مطلب ہے کہ وہ کلینیکل آزمائش اور انسانوں پر آزمائش کے ابتدائی مراحل میں کامیاب ہو چکی ہے یعنی ویکسین اپنے محفوظ ہونے کے عمل کو دکھا چکی ہے کہ یہ انسانوں میں کام کر سکتی ہے۔

ابتدا میں ویکسین کو جانوروں پر آزمایا جاتا ہے پھر کم تعداد میں انسانوں پر تجربہ کیا جاتا ہے۔

پہلے دو مراحل یعنی فیز ون اور فیز ٹو کا تجربات چین میں ہی ہوئے تھے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس میں نتائج کے مطابق ایک فیصد مضر اثرات یا سائیڈ افیکٹس دیکھنے کو ملے۔

لیکن اس سلسلے میں لمبے عرصے تک انتظار نہیں کیا گیا کیونکہ ایک سے دو سال تک ویکسین کو مارکیٹ میں لے کر آنا چاہتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تیسرے مرحلے میں اے ڈی فائیو ناول کرونا وائرس ویکسین کو زیادہ آبادی کو لگائیں تو کیا ہو گا۔ اس سے پتہ چلے گا کہ یہ کس قدر محفوظ اور موثر ہے۔

یہ ویکسین کیسے بنائی گئی ہے؟

CORONA

ڈاکٹر اعجاز کہتے ہیں کہ ویکسین میں کورونا وائرس میں شامل پروٹین کو ایک اور وائرس، ایڈینو وائرس (عام نزلہ زکام) کو استعمال کر کے اسے کمزور کر دیا جاتا ہے تاکہ یہ مزید نہ بڑھے۔ یعنی کورونا وائرس کی سپائک پروٹین کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو ریکامبیڈنٹ ٹیکنالوجی سے بناتے ہیں۔ اس سے جسم میں اینٹی باڈیز بننتی ہیں۔ اس کا بڑی آبادی میں (سیلولر اور ہیمورل) ردعمل دیکھا جاتا ہے۔ اس سے رضا کار کو کورونا کے ہونے کا خطرہ نہیں اور ہسپتال کے عملے کو اس ویکسین کے حوالے سے تربیت بھی دی گئی ہے۔

دیگر آزمائشوں کی طرح اس آزمائش میں بھی رینڈم سیمپلنگ ہوگی یعنی افراد میں سے کچھ کو ویکسین لگے گی اور کچھ کو پلیسیبو یعنی بظاہر ویکسین جیسا مواد ہوگا لیکن وہ ویکسین نہیں بلکہ بے اثر مادہ ہوگا۔

آزمائش کا حصہ بننے کے لیے شرائط

یہ رضاکارانہ طور پر لگائی جائے گی یعنی اسے لگانے والے کی مرضی پوچھی جائے گی اور اسے ایک سال تک ماہرین کے رابطے میں رہنا ہوگا۔ مریض کو کوئی معاوضہ تو نہیں ملے گا تاہم اس کا طبی معائنہ ہوتا رہے گا اور شہر کے باہر سے آنے والوں کو ٹرانسٹورٹ الاؤنس دیا جائے گا۔

کورونا وائرس
،تصویر کا کیپشنمحکمہ صحت کی اہلکار پشاور ہوائی اڈے پر تھرمل سکینر کی مدد سے مسافروں کو چیک کر رہی ہیں

آزمائش میں حصہ لینے کے لیے عمر کی حد 18 برس رکھی گئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے کچھ مخصوص شرائط بھی پیں۔

یعنی رضاکار کو پہلے سے کورونا نہ ہوا ہو، حاملہ خواتین اور پہلے سے معلوم شدہ کسی بڑی بیماری میں مبتلا افراد کو اس آزمائش میں شامل نہیں کیا جائے گا۔

جن افراد میں قوت مدافعت کی کمی ہو یا وہ ایچ آئی وی میں مبتلا ہوں وہ بھی اس کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ افراد جو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے دی جانے والی دواؤں کا استعمال کر رہے ہوں یا پھر کسی اور ویکسین کا استعمال کر رہے ہوں، وہ بھی آزمائش میں حصہ نہیں لے سکتے۔

تاہم دل کی بیماری اور شوگر میں مبتلا افراد اگر صحت مند ہیں تو وہ بھی اس آزمائش کا حصہ بن سکتے ہیں۔

کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنجیسے حاملہ خواتین اپنا پلازمہ عطیہ نہیں کر سکتی اسی طرح کورونا ویکسین کی کسی آزمائش میں بھی حصہ نہیں لے سکتیں

رضا کار کے خون کا نمونہ سال کے بعد بھی لیا جائے گا جبکہ اسے ہسپتال کے متعلقہ شعبے کا نمبر بھی دیا جائے گا تاکہ ضرورت کی صورت میں وہ رابطہ کر سکیں۔ ہسپتال بھی ہر ہفتے رضا کار سے بذریعہ ایس ایم ایس رابطہ کرے گا۔

لیکن ڈاکٹر اعجاز کہتے ہیں کہ دنیا میں کل 40 ہزار میں سے سات فیصد رضاکاروں کے دیگر کی نسبت زیادہ ٹیسٹنگ ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے رضاکاروں کی تعداد دو سو سے چھ سو ہو گی۔

ڈاکٹر اعجاز کے مطابق ’انھیں 28ویں دن اور چھ مہینے کے بعد بھی ہسپتال آنا ہوگا اور ان کا تفصیلی معائنہ ہوگا‘۔

وہ کہتے ہیں کہ شروع میں ویکسین کے اثرات پہلے سات دن کے بعد سے شروع ہوتے ہیں اور 28 دن تک سب رضا کاروں میں اس کا ردعمل آ جاتا ہے۔

حکام اس سلسلے میں میڈیا کو آگاہی مہم کے لیے استعمال کریں گے تاہم ابتدا میں ہسپتال اپنے طور پر اسے شروع کریں گے۔

ایک فیصد مضر اثرات یا سائڈ افیکٹ

شفا ہسپتال

،تصویر کا ذریعہSHIFA INTERNATIONAL HOSPTIAL

،تصویر کا کیپشنویکسین کے ٹرائل سے پہلے پاکستان اور چین کی متعلقہ کمپنیز اور صحت کے حکام کے درمیان ملاقاتیں بھی ہوئیں اور عملے کو تربیت بھی دی گئی

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین میں کورونا وائرس کی ویکسین کی آزمائش میں پہلے دو مراحل میں سائڈ افیکٹس یا مضر اثرات ایک فیصد تک سامنے آئے۔

ڈاکٹر اعجاز کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت، ڈبلیو ایچ او کا یہ معیار ہے کہ اگر کوئی ویکسین 50 فیصد موثر ہونا دکھا رہی ہے تو اسے استعمال کیا جائے گا۔ اور یہ بھی کہ اس سے نقصانات تو نہیں ہو رہے۔

اس ویکسین کو لگانے کے بعد ’ٹیکے کی جگہ درد، بخار، سر درد جسم میں درد اور دل خراب ہونا۔ یہ علامات ایک دو دن کے لیے ہوتی ہیں۔ جب بھی ویکسین لگائی جاتی ہے اس کے لیے بخار اور سر درد کی دوا لینی ہوتی ہے۔'

کورونا بینر
لائن

ویکسین کے لیے طریقہ کار بھی تبدیل ہو سکتا ہے

ڈاکٹر اعجاز کہتے ہیں کہ جوں جوں وقت گزرے گا تو پاکستان سمیت دنیا بھر سے اس تحقیق اور آزمائش کے نتائج آئیں گے۔

’اسے ہم ’ایڈیپٹڈ ڈیزائن ٹرائل‘ کہتے ہیں کیونکہ باقی ممالک میں ابھی یہ ویکسین لگ رہی ہے، ڈیٹا آرہا ہے۔ ہو سکتا ہے اس پر تجزیہ کرنے کے بعد اسے دیکھتے ہوئے اس میں تبدیلی لائیں۔ ہو سکتا ہے کہیں کہ 18 سال سے کم والوں کو بھی ویکسین لگائیں۔ ہو سکتا ہے ابھی جو ایک ڈوز دی جا رہی ہے آگے چل کر دو ویکسین دینی پڑیں۔‘

فیز فور: پوسٹ مارکیٹنگ سرویلینس

ڈاکٹر اعجاز نے بتایا کہ کامیابی کی صورت میں اسے عام پبلک کو لگایا جا سکے گا تاہم ویکسین کو بظاہر تو تیسرے مرحلے میں کامیابی کے بعد بھی چیک کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق عارضی اثرات تو دیکھنے میں آتے ہیں اور اس میں لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ انھیں کوئی بڑا سائیڈ افیکٹ تو نہیں ہوا۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ لمبے عرصے تک اس کا کتنا اثر ہوتا ہے اور اس کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

’ایک ویکسین مارکیٹ میں آنے اور لوگوں میں استعمال ہونے کے بعد بھی زیر تحقیق رہتی ہے جسے فیز فور کا نام دیا گیا ہے یعنی فیز 3 پر کام رک نہیں جاتا۔ یہ کئی سال تک چلتا رہتا ہے۔‘