پاکستان کے شمالی علاقوں کے افراد سیاحوں کو کرائے پر کمرے کیسے دے سکیں گے؟

،تصویر کا ذریعہKP Tourism Department
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
اگر آپ پاکستان میں سیاحت کے لیے شمالی علاقہ جات کی طرف جائیں تو اب کو ہوٹل کی ضرورت نہیں ہوگی۔ آپ کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایئر بی اینڈ بی یعنی مقامی لوگوں کے گھروں میں ان کے ساتھ رہنے کا موقع بھی مل سکتا ہے یعنی آپ کو گھر سے باہر گھر میں رہنے کی سہولت دستیاب ہو سکے گی۔
اس نئے منصوبے کے تحت آپ کو صرف خوبصورت علاقے ہی نہیں بلکہ مقامی لوگوں کے ساتھ رہنے کا موقع بھی ملے گا۔ آپ ان کے بارے میں جان سکیں گے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس طرح ایک دوسرے کے کلچر اور رہن سہن سے آگہی بھی ہو سکے گی۔
پاکستان میں پہلی مرتبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن اور ہزارہ ڈویژن میں سیاحتی مقامات پر لوگوں کے گھروں میں سیاحوں کو رہائش فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مقامی لوگوں کے گھروں میں ایک یا دو کمرے سیاحوں کے لیے مختص ہوں گے جن میں تمام سہولیات دستیاب ہوں گی۔

،تصویر کا ذریعہKP Tourism Department
وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ دنوں سوات کا دورہ کیا اور وہاں انھیں سیاحت کے فروغ کے بارے میں کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیبر پختونخوا کے سیکرٹری سیاحت عابد مجید نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں ہوٹلوں کے کمروں کی تعداد محدود ہے اور ان سیاحتی مقامات پر عام طور پر سیاحوں کی آمد کی وجہ سے لوگوں کو کمرے ملنا مشکل ہو جاتے ہیں اس لیے اب حکومت نے یہ منصوبہ بنایا ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں ایک ایسا کمرہ تیار کریں جس میں تمام سہولیات موجود ہوں اور وہ کمرہ سیاحوں کو کرائے پر دیں گے۔
اس طریقے سے مقامی لوگوں کی معیشت بہتر ہو گی اور ہوٹلوں پر جو رش بڑھ گیا اس پر قابو پایا جا سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت ایسے کمرے تیار کرنے پر رضامند افراد کو چار لاکھ روپے بلا سود قرض دیا جائے گا اور اس پر انھیں کوئی زائد رقم نہیں دینی پڑِے گی اور یہ قرض پانچ سال کی مدت میں واپس کرنا ہو گا۔ حکومت نے اس منصوبے کے لیے دو ارب روپے مختص کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKP Tourism Department
عابد مجید نے بتایا کہ اس سے ایک طرف مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے جن میں سیاحوں کو گاڑی، جیپ کی فراہمی سے لے کر کھانے پینے کا سامان مہیا کرنا شامل ہو گا تاکہ وہ رش والی جگہوں سے دور بہتر ماحول میں رہ سکیں۔
انھوں نے کہا کہ اس وقت یہ منصوبہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے محکمے کے زیرِ غور ہے جیسے ہی یہ منصوبہ منظور ہوتا ہے تو بینک آف خیبر کے ساتھ ایک معاہدہ طے کر کے اس پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔
یہاں ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جن لوگوں کو کمرے بنانے کے لیے قرضہ دیا جائے گا ان کے لیے تعلیم یافتہ ہونا ضروری قرار دیا جائے گا تاکہ سیاحوں کو بول چال اور دیگر معاملات میں مشکلات در پیش نہ ہوں۔
’سیاحتی مقامات پر اگر کم پیسوں میں اچھی رہائش ملے تو اس سے بہتر کیا ہو سکتا ہے اور اکثر سیاح اسی حوالے سے سوچتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہKP Tourism Department
تاہم حکومت یہ منصوبے تو بنا رہی ہے اور اس کے لیے فنڈز بھی مختص کیے جا رہے ہیں لیکن دوسری جانب بہت سے علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی پائی جاتی ہے اور اس طرف کم توجہ دی جا رہی ہے۔
مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان علاقوں میں بنیادی طور پر سڑکیں ٹھیک نہیں ہیں جس سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر ایسی جھیلیں اور دیگر مقامات ہیں جہاں کچی سڑکیں ہیں اور لوگوں کو ہزاروں روپے میں جیپ پر سفر کرنا پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ ان علاقوں میں پبلک ٹائلٹس یا لیٹرین نہیں ہیں اور اکثر لوگ خاص طور پر خواتین سیاحوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کو مقامی سطح پر اور سیاح بھی سراہتے ہیں لیکن بنیادی ضروریات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ ان علاقوں میں صفائی کا انتظام نہیں ہے اور درختوں کی کٹائی کی وجہ سے حسن ماند پڑتا جا رہا ہے اس لیے ضروری ہے کہ گبین جبہ اور دیگر ایسے علاقوں میں ہنگامی بنیادوں پر شجر کاری شروع کی جائے۔
خیبر پختونخوا میں اس کے علاوہ فائبر گلاس سے ایسے ہٹس یا کیمپنگ پاڈز بنائے جا رہے ہیں جہاں سیاح کم خرچ میں قدرتی ماحول میں رہ سکیں گے۔ یہ ہٹس یا کیمپنگ پاڈز ملاکنڈ ڈویژن میں گبین جبہ کے مقام پر بنائے جا رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہKP Tourism Department
خیبر پختونخوا میں سیاحت کے فروغ کے لیے مزید سیاحتی مقامات قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان میں منکیال (سوات)، مدکلاشٹ (چترال)، ٹھنڈیانی (ایبٹ آباد) اور مانسہرہ میں بین الاقوامی معیار کے سیاحتی مراکز کے علاوہ کمراٹ، بن شاہی، سکائی لینڈ، لڑم ٹاپ، الائی، بٹگرام اور شانگلہ میں بھی سیاحتی مراکز قائم کیے جائیں گے۔
خیبر پختونخوا میں محکمہ ثقافت اور آثار قدیمہ کے ایک بیان کے مطابق صوبے میں کائیٹ پراجیکٹ کے تحت آثارقدیمہ کے 9 منفرد مقامات کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان میں ملاکنڈ ڈویژن کا وہ علاقہ بھی شامل ہے جہاں نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کا بچپن گزرا اور انھوں نے تعلیم کے فروغ کے لیے جرات کا مظاہرہ کیا تھا۔
ان میں وہ علاقے شامل ہیں جہاں چند برس پہلے تک شدت پسندی کا دور دورہ تھا۔
پھر اس علاقے میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور لوگ یہاں سے نقل مکانی کر گئے تھے۔ یہ علاقہ خالی ہو گیا تھا لیکن یہاں ایسے لوگ تھے جو آپریشن کے باوجود موجود رہے اور انھوں نے ان شدت پسندوں کا مقابلہ بھی کیا ۔
اس علاقے میں ملالہ یوسفزئی کے علاوہ ایسی متعدد خواتین اور نوجوان ہیں جنھوں نے امن کے قیام کے لیے کوششیں کی۔
اب اس علاقے میں امن قائم ہو چکا ہے یہاں ونٹر سپورٹس سے متعلق سرگرمیاں ہوتی ہیں یہاں سیاحت کے فروغ کے لیے کام ہو رہا ہے اور یہاں وہ لوگ موجود ہیں جو ان شدت پسندوں کی کہانیاں بیان کر سکتے ہیں ۔












