منچھر جھیل: بارش سے منچھر اور موہانے مالامال، لیکن کیا یہ خوشیاں عارضی ہیں؟

منچھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شبینہ فراز
    • عہدہ, صحافی

کیرتھر پہاڑوں پر صبح کی سنہری دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور اُن کے دامن میں وسیع رقبے پر پھیلی منچھر جھیل کا پانی کسی آئینے کی طرح چمک رہا تھا۔ دور دور تک پھیلے ان نیلگوں پانیوں میں ایک سکون اور ٹھہراﺅ تھا لیکن پانیوں پر دھیرے دھیرے ہلکورے لیتی کشتیوں میں ہلچل تھی، چہل پہل تھی۔

یہ کشتیاں مچھیروں کے گھر تھے جہاں بہت سی سجی سنوری خواتین اور بچے ایک کشتی میں منگنی کی رسم کے لیے جمع تھے، ایک جشن کا سماں تھا۔ اونچی آواز میں سہرے گائے جا رہے تھے اور دولہے کی قریبی رشتہ دار خواتین رقص کر رہی تھیں۔

یہ منچھرجھیل پر باجارے کی سمت موجود ’کشتی گاﺅں‘ کا احوال تھا جہاں ہم بھی ایک ڈولتی کشتی (بتیلو) میں سوار ہو کر بڑی مشکل سے اِس کشتی گاﺅں تک پہنچے تھے۔ یہ انتہائی چھوٹی کشتی تھی جو صرف مچھلی پکڑنے کے کام آتی ہے۔

کشتی کے ناخدا کے ہاتھ میں چپو کے بجائے ایک ڈنڈا تھا جس سے کشتی کو دھکیلا جا رہا تھا، 15 فٹ گہرے پانی میں صرف ایک ڈنڈے کے سہارے اس ڈولتی ہوئی کشتی میں سفر کرتے ہوئے ہر جھٹکے پر دل کو اور خود کو بڑی مشکل سے سنبھالنا پڑ رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

منچھر جھیل کے کنارے اور اس گاﺅں تک سب لوگ بہت خوش نظر آ رہے تھے اور اس کی وجہ وہ برسوں بعد جھیل میں پانی کے اضافے کو قرار دے رہے تھے۔

ہم نے کشتی میں گاتی اور رقص کرتی خواتین کے بارے میں پوچھا تو محمد یوسف ملاح نے بتایا کہ ’منگنی کی رسم ہو رہی ہے۔‘ وہ اسی کشتی گاﺅں کے رہائشی تھے، ہماری کشتی اس منگنی والے کشتی گھر کے بالکل متوازی رُک گئی تھی۔

منچھر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

،تصویر کا کیپشنکشتی کے ناخدا کے ہاتھ میں چپو کے بجائے ایک ڈنڈا تھا جس سے کشتی کو دھکیلا جا رہا تھا

’ہمارے ہاں شادی بیاہ سب برسات کے مہینوں کے بعد شروع ہوتے ہیں، بارش کا پانی خوشیاں لاتا ہے۔ اس بار تو اللہ سائیں کا کرم رہا ہے، بارش نے جھیل کو پانی سے بھر دیا ہے، اب یہاں مچھلیاں بھی جام ( زیادہ) ہوں گی اور ان مچھلیوں کو کھانے پکھی پکھیرو (پرندے) بھی آئیں گے۔ ہمارے گزر بسر (ذریعہ آمدن) کا یہی وسیلہ ہے۔‘

’شادی بیاہ کا برسات سے کیا تعلق ہے؟‘ ہمارا دوسرا سوال یہی تھا۔

یوسف ملاح نے بتایا کہ ’ہمارا رواج ہے کہ نئے جوڑے کو شادی کے لیے اپنا علیحدہ کشتی گھر بنانا ہوتا ہے جو لڑکے کی ذمے داری ہوتی ہے، ظاہر ہے اُس کے لیے پیسہ چاہیے۔ برسات کا پانی آتا ہے تو جھیل دھل جاتی ہے، اِس کا کڑوا کیمیکل صاف ہو جاتا ہے پھر مچھی (مچھلیاں) بھی زیادہ آتی ہیں اور روزگار بڑھتا ہے۔ چھ مہینے کام بہت اچھا چلتا ہے۔‘

انھوں نے مزید وضاحت کی کہ ’بڑی کشتی کے لیے تو زیادہ پیسہ چاہیے، لیکن چھوٹی کشتی ایک سیزن کی آمدن میں تیار ہو سکتی ہے۔‘

بارشوں کے بعد منچھر جھیل کا حُسن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ دور دور تک پھیلا سبزی مائل نیلگوں پانی، زمین کی انگشتری میں کسی نیلم جیسی ہی آب و تاب کا حامل تھا۔

بارشوں کے پانی نے جھیل کی زندگی لوٹا دی ہے، بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اسے دھو کر پاک کر دیا ہے۔ جھیل میں نصب نشان کے مطابق اس کی گہرائی اس وقت تقریباً 15 فٹ کے قریب تھی۔ عام حالات میں منچھر جھیل کا رقبہ 250 سکوائر کلومیٹر پر مشتمل ہوتا ہے لیکن بارشوں کے موسم میں اس کا رقبہ دگنا ہو جاتا ہے۔

منچھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبارشوں کے پانی نے جھیل کی زندگی لوٹا دی ہے، بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ اسے دھو کر پاک کر دیا ہے (فائل فوٹو)

منچھر جھیل دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع ہے، جس کا زیادہ حصہ جامشورو اور کچھ حصہ ضلع دادو میں واقع ہے۔

اس بار پاکستان مون سون کی شدید لپیٹ میں رہا اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے ملک کے بیشتر علاقے زیر آب آ گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں درمیانے اور شدید نوعیت کی بارشوں کے سات سپیل آئے۔

کراچی میں صرف اگست کے مہینے میں 848 ملی میٹر یعنی 19 انچ بارش ہوئی جس نے گذشتہ 90 سال کا ریکارڈ توڑا۔ اس کے علاوہ شدید بارشوں نے کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ کئی اضلاع جیسا کہ دادو، لاڑکانہ، شہید بے نظیر آباد، سکھر، سانگھڑ، ٹھٹھہ، بدین، تھرپارکر، میرپورخاص، ٹنڈو محمد خان ، جیکب آباد اور عمر کوٹ کو شدید متاثر کیا۔

کیرتھر پہاڑوں پر ہونے والی تیز بارشوں نے منچھر کے بالائی علاقے کاچھو کو بھی بُری طرح ڈبو دیا۔ لوگوں کے گھر، مال و اسباب سب تباہ ہوگئے اور وہ سڑکوں پر آ گئے مگر اسی کاچھو سے نکلنے والی برساتی ندیوں نے بارش کے پانی کی صورت منچھر جھیل کے دامن میں خوش خالی انڈیل کر اسے مالامال کر دیا۔

کاچھو سندھ اور بلوچستان کی سرحد کے ساتھ کیرتھر پہاڑوں کے دامن میں پھیلا ہوا ایک میدانی علاقہ ہے جس کے جنوب میں منچھر جھیل واقع ہے۔

کیرتھر کے پہاڑوں پر ہونے والی بارشوں کا پانی کاچھو کے علاقے سے 18 ندیوں کے ذریعے منچھر جھیل تک پہنچتا ہے، جن میں سب سے بڑی گاج ندی ہے۔ پورے صوبہ سندھ میں بارشوں نے تباہی اور بربادی کی داستان رقم کی مگرمنچھر جھیل کے موہانے کے چہروں پر اس بارش نے خوشیاں بکھیر دیں۔

منچھر جھیل کے کنارے موجود ماہی گیرصاحب ڈنو کا کہنا تھا کہ ’دس سال کے بعد اب منچھر میں اتنا پانی آیا ہے، اور یہ پانی اتنا صاف ہے کہ ہم اپنے مٹکے براہ راست اس پانی سے بھر رہے ہیں۔‘

یہ حقیقت ہے کہ اس بار کی بارشوں نے جھیل کی آلودگی اور موہانوں کے دکھ، دونوں دور کر دیے ہیں۔

صاحب ڈنونے مزید کہا ’جھیل کا پانی کڑوا ہونے کی وجہ سے ہمیں پانی خریدنے 18 کلومیٹر دور جانا پڑتا تھا۔ 30 روپے کا ایک گیلن ملتا ہے جسے ہم صرف پینے اور پکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم اتنی دور بار بار نہیں جا سکتے اور نہ زیادہ پانی خریدنے کی سکت رکھتے ہیں۔‘

منچھر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

جھیل کنارے کپڑے دھوتی خواتین میں سے ایک میراں کا کہنا ہے کہ ’بارشوں سے پہلے جھیل کے آلودہ پانی میں کپڑے دھوتے ہوئے جھاگ نہیں بنتا تھا، ہم چکی( صابن) رگڑ رگڑ کر تھک جاتے۔ صابن ختم ہو جاتا مگر جھاگ نہیں بنتا تھا۔‘

بوبک بند گاﺅں کی بزرگ خاتون حلیمہ نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’پرانے وقتوں میں منچھر جھیل میں جو گھاس ہوتی تھی اس سے ہم بہت خوبصورت چٹائیاں اوربہت سی اشیا بناتے جو جھیل پر آنے والے سیاح خرید کر لے جاتے تھے۔‘

منچھر کی خوش حالی

اہلِ سندھ کے لیے منچھر صرف ایک جھیل نہیں بلکہ ایک پوری تہذیب کا نام ہے۔ وہ تہذیب جو ایک شان دار تاریخی اور جغرافیائی حوالہ رکھتی ہے۔ اس کی کڑیاں پانچ ہزار سال پرانی موئن جو دڑو کی تہذیب سے ملتی ہیں۔ موئن جو دڑو کے آثار سے ملنے والی کشتی کی شبیہہ بالکل ایسی ہے جیسی کشتیاں منچھر جھیل میں اب بھی موجود ہیں۔

محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق جب موئن جو دڑو کی تہذیب دم توڑ رہی تھی تو وہاں کے باشندوں نے زندگی کی تلاش میں منچھر جھیل کی طرف ہجرت کی اور یوں منچھر میں آباد باشندوں کا تعلق پانچ ہزار سال پرانی تہذیب اور وہاں کے باشندوں سے بنتا ہے۔

منچھر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

زمانوں پہلے اس جھیل کے فراخ سینے پر ہزاروں کشتی گھر تیرتے رہتے اور ان میں لاکھوں موہانے ایک خوشحال زندگی بسر کرتے تھے۔

مقامی افراد کے مطابق صرف چند دہائی قبل ان کی خوشحالی کا یہ عالم تھا کہ یہ تقریبات میں خوشی کے اظہار کے لیے بندوق کی گولی نوٹوں میں لپیٹ کر فائر کرتے۔ یہ جھیل ایک مکمل ماحولیاتی نظام بھی تھا۔ اس کے میٹھے پانی سے ہزاروں ایکڑ زمین سیراب ہوتی، جھیل سے ٹنوں مچھلی نکلتی اور سردیوں میں ٹھنڈے علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں پرندوں کی ڈاریں جھیل پر اُترتیں۔

سندھ کے لوک گیتوں اور داستانوں میں یہ جھیل زندگی کی علامت کے طور پر موجود ہے۔آج کے دور کے سندھی زبان کے مشہور شاعر تاجل بیوس اور استاد بخاری نے خاص طور پر منچھر جھیل کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔

سندھ کے مشہور محقق اور منچھر جھیل پر لکھی گئی کتاب ’منچھر لیک‘ کے مصنف تاج محمد صحرائی لکھتے ہیں کہ جھیل کے اطراف میں واقع کیرتھرسلسلہ کوہ میں زندگی کی نشوونما اور تہذیب کا آغاز منچھر سے ہوا تھا اور یوں منچھر کو دنیا کی قدیم ترین آب گاہوں میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

تاج محمد صحرائی مزید لکھتے ہیں کہ ایرانی حکمراں دارا کے دربار میں ایک شاہی حکیم نے 485 قبل مسیح اپنی کتاب میں لکھا کہ ’سندھ کے درمیان میں ایک ایسی جھیل موجود ہے جہاں تیل پیدا ہوتا ہے۔ اس جھیل میں نہایت عمدہ اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں جن سے یہاں کے لوگ نہایت عمدہ مچھلی کا تیل تیار کرتے ہیں۔ بڑے بڑے اطبا اسے اکسیر سمجھتے تھے اور اس کی گرانی کا یہ حال ہے کہ اسے صرف شاہی طبقہ اور امرا ہی استعمال کر سکتے تھے۔‘

منچھر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنزمانوں پہلے اس جھیل کے فراخ سینے پر ہزاروں کشتی گھر تیرتے رہتے اور ان میں لاکھوں موہانے ایک خوشحال زندگی بسر کرتے تھے (فائل فوٹو)

منچھر کا ماحولیاتی نظام

منچھر جھیل پر ایک مکمل ماحولیاتی نظام ( ایکوسسٹم) کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں انسان، پرندے، ممالیہ، مچھلی، حشرات الارض، گھاس پھونس، جڑی بوٹیاں الغرض حیات کی زنجیر کی تمام کڑیاں ایک مضبوط زنجیر کی صورت یہاں موجود تھیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ریجنل ڈائریکٹر طاہر رشید کے مطابق ’دنیا بھر میں ہجرت کرنے والے پرندوں کے سات اڑان راستے مقرر ہیں، ان میں سے ایک انڈس فلائی وے پاکستان سے گزرتا ہے اور یہ پرندے جن آب گاہوں کو اپنا ٹھکانا بناتے ہیں منچھر جھیل ان میں سے ایک ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں یہاں پرندوں کی تعداد دیکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ یہ جھیل پرندوں کا پسندیدہ پڑاﺅ تھی، اگرچہ اب ان کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔

سنیل کمار، جن کے ایم فل کا تھیسس منچھر جھیل پر ہے، کہتے ہیں کہ ’پرندوں کو غذا، بیٹھنے اور چھپنے کی جگہ بھی درکار ہوتی ہے۔ اس جھیل میں گھاس کے قطعات گھنے اور ان کی مقدار اتنی زیادہ تھی کہ یہ چھوٹے چھوٹے جنگلات کی صورت پرندوں کو پناہ گاہ فراہم کرتے تھے۔ مقامی لوگ ان گھنے قطعات میں مچھلی پکڑنے سے گریز کرتے تھے تاکہ پرندوں کو مچھلی ملتی رہے۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’مشہور ہے کہ منچھر پر جب پرندے اڈار بھرتے تو ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی کہ سورج کی روشنی چھپ جاتی۔‘ لوگوں کے مطابق منچھر کے اچھے دنوں میں اتنی بڑی تعداد میں مرغابیاں جھیل پر موجود ہوتیں کہ پانی کی سطح نظر نہ آتی۔ دیگر پرندوں میں سفید سرخاب ، سلیٹی راج ہنس، چپکو بطخ، نیل سر، پھاراﺅ بطخ، ہنجر بطخ، آری جل مرغی بھی شامل ہیں۔

منچھر میں تین اقسام کے ہنس بھی پائے جاتے ہیں، مقامی لوگ انھیں سندھی ہنس کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پہلے پرندے اتنی زیادہ تعداد میں ہوتے تھے کہ ہم انھیں ہاتھوں سے پکڑ لیا کرتے تھے۔

ماہر ماحولیات نصیر میمن منچھر پر کی گئی اپنی ایک تحقیق میں لکھتے ہیں کہ کیرتھر کے دامن میں اتنا بڑا گڑھا یا یہ جھیل وجود میں کیسے آئی اس حوالے سے تاریخ خاموش ہے مگر یہی لگتا ہے کہ کسی بڑی ارضیاتی تبدیلی کے نتیجے میں یہ جھیل وجود میں آئی۔

سنہ 1981 کی مردم شماری کے مطابق منچھر پر رہنے والوں کی تعداد ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ اچھے دنوں میں اس جھیل سے 2,300 ٹن مچھلی حاصل کی جاتی تھی۔

سنہ 1988 کے برڈ سروے کے مطابق جھیل پر مختلف اقسام کے 25 ہزار پرندے آیا کرتے تھے۔ یہاں آٹھ اقسام سے زائد گھاس کی اقسام ہوتی تھیں، اس کے علاوہ اس جھیل میں کنول کافی مقدار میں پیدا ہوتا ہے، لوگ کنول کے بیجوں کلیوں اور اس کی جڑوں (بیہ) کو بطور سبزی پکا کر کھاتے تھے۔

منچھر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

منچھر کی بربادی کا آغاز

منچھر جھیل کے لیے خطرے کا بگل اس وقت بجا جب سنہ 1974 میں حکومت نے رائٹ بینک آﺅٹ فال یا مین نارا ویلی ڈرین کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں اس منصوبے ڈرین کے تحت دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر واقع زرعی زمینوں کو سیم و تھور سے بچانے کے لیے ان کا شور زدہ پانی ٹیوب ویلوں سے کھیچ کراس نالے کے ذریعے سیہون کے قریب دریائے سندھ میں بہا دیا جانا تھا لیکن اس کے بجائے سنہ 1990 کے عشرے سے یہ منچھر جھیل میں پھینکا جانے لگا۔

ماہرین کے مطابق ایک طرف بارشوں اور دریائے سندھ کے پانی میں کمی کے سبب منچھر میں پانی کم ہوتا رہا، دوسری جانب صنعتی آلودگی اور زمینوں کا شور زدہ پانی اس جھیل کو آلودہ کرتا رہا۔

کچھ سال پہلے کے تجزیوں کے مطابق اس کی آلودگی آٹھ ہزار پی پی ایم ( پارٹس پر ملین) تک جا پہنچی تھی۔ واضح رہے کہ صحت کی عالمی تنظیم کے مطابق پانی میں 800 پی پی ایم سے زیادہ آلودگی صحت کے لیے خطرناک ہے۔

جھیل کی آلودگی نے جھیل کے وسائل کو شدید متاثر کیا۔ اس پر پرندے آنے کم ہوگئے۔ مچھلی کم ہوتی گئی اور گھاس کی تمام اقسام ناپید ہوگئیں۔ اس پر انحصار کرتے ماہی گیر مجبورا جھیل کو چھوڑ گئے۔

ماہی گیروں کی تنظیم کے ایک عہدیدار ارباب کے مطابق منچھر جھیل کے چالیس ہزار ماہی گیر دوسرے علاقوں میں ہجرت پر مجبور ہو کر جھیل چھوڑ گئے۔

منچھر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

منچھر کی بحالی ممکن ہے؟

ڈبلیو ڈبلیو ایف سے وابستہ محمد معظم خان کے مطابق سنہ 2019 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق منچھر جھیل میں پانی کی آلودگی کی شرح سات ہزار ٹی ڈی ایس تھی جبکہ آج کل بارشوں کے بعد یہ شرح صرف تین سے چار سو ڈی ڈی ایس رہ گئی ہے جو ڈبلیو ایچ او کے مقرر کردہ معیار سے بھی کم ہے۔

یہ پانی پینے کے قابل ہو چکا ہے جو کہ بہت خوش آئند بات ہے مگر یہ بہتری وقتی ہے۔ صرف چھ ماہ بعد دوبارہ پانی میں آلودگی اسی سطح پر آ جائے گی۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ چند سال پہلے ان کی تنظیم نے منچھر جھیل کو حیاتیاتی طور پر صاف کرنے کی کوشش کی تھی اور وہاں ایسے پودے لگائے گئے تھے جو پانی سے نمکیات جذب کر کے پانی صاف کرتے ہیں، مگر 7,000 ٹی ڈی ایس کی موجودگی میں یہ پودے پنپ ہی نہیں سکے، اب صرف رائٹ بینک آﺅٹ فال ڈرین کی تکمیل اور جھیل میں میٹھے پانی کا تسلسل منچھر کے مسائل کا پائیدار حل نظر آتا ہے۔

ایریگیشن ڈپارٹمنٹ سیوہن کے ایگزیکٹیو انجینیئر مہیش کمار کے مطابق آر بی او ڈی کے ذریعے زرعی زمینوں کا آلودہ پانی منچھر میں ڈالنے کے بجائے براہ راست گھارو کریک کے ذریعے سمندر میں ڈالا جائے گا۔ یہ منصوبہ اگرچہ ابھی تک نامکمل ہے مگر امید ہے کہ یہ اس سال مکمل ہو جائے گا۔

مہیش کمار کے مطابق ’اس کی مکمل لاگت 62 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے اور اس کا 65 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔‘

اس منصوبے پر بھی ماہرین کو بہت سے تحفظات لاحق ہیں مثلا طاہر رشید کا کہنا ہے کہ سمندر کو آلودہ کرنے سے بہتر ہے کہ پانی کو ٹریٹ کر کے سمندر میں ڈالا جائے تاکہ آبی حیات کو نقصان نہ پہنچے۔

منچھر

،تصویر کا ذریعہShabina Faraz

منچھر اور کشتی کا ساتھ

کشتی کو منچھر کی علامت سمجھا جا سکتا ہے اور ماہرین کے مطابق منچھر پاکستان کی واحد اور غالبا ایشیا کی دوسری جھیل ہے جس میں ماہی گیر کشتیوں میں گھر بنا کر رہتے ہیں۔

یہ ایک کمرے کی کشتی ان کی کُل کائنات ہوتی ہے۔ ماہی گیروں کے خاندان وسیع ہوتے ہیں۔ دس، دس بچوں پر مشتمل یہ خاندان ہنسی خوشی اسی کشتی میں عمر گزار دیتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہم پیدا بھی کشتی میں ہوتے ہیں اور یہیں عمر گزر جاتی ہے اور مرنے کے بعد ہی یہاں سے جاتے ہیں۔

محمد یوسف ملاح نے بتایا کہ ان کے کشتی گھرکی لمبائی 45 فٹ اور چوڑائی 32 فٹ ہے۔ کشتی کی تیاری میں دیار اور ٹاہلی کی لکڑی استعمال ہوتی ہے اور اب مہنگائی کے باعث ان کشتی گھروں کی لاگت 15 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔

یہ کشتی گھر خوبصورتی سے سجے ہوئے ہوتے ہیں۔کم جگہ میں ہر شے سلیقے سے رکھی ہوتی ہے۔ چھوٹے بچوں کے جھولے اور پنگوڑھے بھی روایتی سندھی انداز میں خوبصورتی سے سجے ایک طرف لٹک رہے ہوتے ہیں۔ دوست احباب کی آمد پر یہی کشتیاں اوطاق کا کام انجام دیتی ہیں اور انھیں گھروں سے دور لے جا کر محفل سجائی جاتی ہے۔

کشتی گھروں کے علاوہ آمدورفت اور مچھلی پکڑنے کے لیے چھوٹی مخروطی کشتیاں استعمال کی جاتی ہیں جنھیں مقامی زبان میں 'بتیلو' کہتے ہیں۔ منچھر جھیل پر ان کشتیوں کی مانگ کے سبب بوبک بند پر ایک گاﺅں کے تمام 400 گھرانے کشتی سازی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔

ان کشتیوں پر نفاست سے نقاشی کی جاتی ہے اور دیدہ زیب نمونے بنائے جاتے ہیں۔ یہ سارا کام روایتی انداز میں ہاتھ سے کیا جاتا ہے اس کے لیے کوئی مشینیں استعمال نہیں کی جاتیں۔اس کام کے لیے ان کاریگروں نے کہیں سے تربیت بھی نہیں لی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ نسل در نسل یہی کام کر رہے ہیں اور اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں۔

چھوٹی کشتی بتیلو ایک لاکھ میں تیار ہو جاتی ہے، یہ چھوٹی کشتیاں شیشم اور چلغوزے کی لکڑی سے تیار کی جاتی ہیں جو شمالی علاقوں سے لائی جاتی ہے۔

یوں تو سارا سال کشتی سازی کا کام جاری رہتا ہے لیکن منچھر جھیل میں پانی کی آمد سے ان کشتی سازوں کا کام بھی چمک اٹھے گا۔ ظاہر ہے مچھلی کا شکار زیادہ ہوگا تو زیادہ کشتیوں کی ضرورت ہوگی۔

ماہر ماحولیات اور منچھر پر مرتب کی گئی کتاب ’منچھر: ماضی، حال، مستقبل‘ کے مصنف ناصر پنھور کا کہنا ہے کہ ’منچھر جھیل کی بحالی کے بعد یہاں ماحول دوست سیاحت کے بہت سے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ سیاحوں کے لیے ان کا صدیوں پرانا طرز زندگی اور کشتی گھر بے انتہا کشش کا باعث ہیں۔ سردیوں میں برڈ واچنگ کے شوقین جھیل پر موجود پرندوں کو دیکھنے آ سکتے ہیں۔‘

پانی زندگی کی علامت بھی ہے اور ضمانت بھی۔ منچھر جھیل میں بارش کے پانی نے امید کی لو روشن کر دی ہے۔ ہزاروں لوگوں کی آنکھوں میں خوشحالی کے خواب اُتر آئے ہیں مگر انھیں تعبیر تب ہی مل پائے گی جب اس جھیل کو آلودگی جیسی نحوست سے پاک رکھا جائے گا۔

قدرت نے اپنا کام کر دیا ہے، اب انسانوں کی باری ہے۔