’گلشانہ ہاتھ جوڑ کر بھائی کے سامنے کھڑی تھی‘: ’غیرت کے نام پر قتل‘، ایف آئی آر درج

،تصویر کا ذریعہTahir Mari
- مصنف, ریاض سھیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو میں سنیچر کے روز ’غیرت کے نام پر قتل‘ کی گئی خاتون گلشانہ شر کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی سمیت سات افراد کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو کے تھانہ کاہی میں گلشانہ شر کے والد محب شر کی مدعیت میں دائر ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی 23 سالہ بیٹی گلشانہ کو ان کے شوہر نے پانچ، چھ ماہ قبل ’کاری‘ قرار دے کر گھر سے نکال دیا تھا۔
گذشتہ رات درج کی جانے والی ایف آئی آر کے مطابق گلشانہ نے چند ماہ قبل ہی عدالت سے پناہ کی درخواست کی تھی جس کے بعد انھیں دارالامان منتقل کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے کچھ ہی عرصے بعد ان کے والدین انھیں ضمانت پر گھر لے آئے تھے جہاں چند ماہ کے بعد انھیں قتل کر دیا گیا۔
تھانہ کاہی کے ایس ایچ او زاہد مری کے مطابق تمام ملزمان مفرور ہیں اور تاحال ان میں سے کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر کے مطابق برادری کے کچھ لوگ محب شر پر دباؤ ڈالتے تھے اور کہتے تھے کہ تمہاری بیٹی کاری ہے اس کو جان سے مار ڈالو، نہیں تو وہ ان سب کو مار دیں گے جس کے خوف سے گلشانہ تھانے چلی گئیں جس کے بعد عدالت نے انھیں دارلامان بھیج دیا۔
ایف آئی آر میں محب شر نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ اپنی بیٹی کو دارالامان سے واپس کیوں لائے تھے تاہم قتل کے روز یعنی سات نومبر کی صبح کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ اس روز ان کا بیٹا تاج محمد گھر میں موجود تھا۔
انھوں نے بتایا کہ تاج محمد نے کہا کہ اس کو یوسف، یعقوب شر اور دیگر نے کہا ہے کہ گلشانہ کاری ہے اس کو جان سے مارتے ہیں جس کے بعد تاج محمد گھر سے باہر چلا گیا اور ڈبل بیرل بندوق لے کر آیا۔
ایف آئی آر کے مطابق بھائی کے ہاتھ میں بندوق دیکھ کر گلشانہ کچے مکان کی دیواروں میں چھپ گئی اور والدین مدد کے لیے چیخے چلائے لیکن بیٹے نے ان پر بندوق تانتے ہوئے کہا کہ خاموش رہو نہیں تو تمہیں بھی مار دوں گا جس کے بعد گلشانہ ہاتھ جوڑ کر سامنے کھڑی ہو گئی۔ اس دوران تاج محمد نے گلشانہ پر فائر کیا جو اس کو ہاتھ اور پیٹ میں لگا اور وہ نیچے گر گی۔
تاج محمد بندوق پھینک کر فرار ہو گیا اور گلشانہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔
اس سے قبل گلشانہ کے دیور صابو شر نے ساتھیوں سمیت ھیمن بھیل نامی نوجوان کو قتل کیا تھا جس کی ایف آئی آر 4 جولائی کو عمرکوٹ تھانے میں صابو شر اور گلشانہ کے شوہر کے خلاف دائر کی گئی تھی۔
مقتول ھیمن خاندان سمیت گلشانہ کے سسرال کے قریب رہتا تھا اور صحافی طاہر مری کے مطابق ھیمن پر کارو کاری کے الزام کے بعد یہ خاندان عمرکوٹ منتقل ہو گیا تھا۔
ھیمن داس کے قتل کے بعد گلشانہ نے اپنے والدین سمیت تھانے میں پناہ لی تھی جہاں پر اس نے بتایا تھا کہ ان کے بھائی اور شوہر ان پر جھوٹا الزام عائد کر رہے ہیں اور گاؤں کھچ کے لوگ انھیں بھڑکا رہے ہیں۔
گلشانہ کی لاش چنگچی رکشہ میں کھپرو ہسپتال لائی گئی تھی جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد اسے گاؤں روانہ کیا گیا۔
مقامی صحافی طاہر مری نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ اس گاؤں میں گئے تو وہاں خوف طاری تھا۔
نماز جنازہ اور تدفین میں بھی صرف ایک درجن کے قریب لوگ شریک ہوئے اور رات کی تاریکی میں اسے دفنا دیا گیا۔
طاہر مری کا کہنا ہے کہ گاؤں کے لوگوں کو متنبہ کیا گیا تھا کہ کوئی بھی تعزیت کے لیے نہیں جائے گا۔











