کورونا وائرس اور شادیوں کا سیزن: حکومت کے ایس او پیز پر میرج ہال مالکان کی مخالفت، جوڑے پریشان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور کی رہائشی عروج (فرضی نام) کے مطابق ان کے بارات اور ولیمے کے سوٹ تیار ہیں۔ فوٹو گرافر کی بھی بکنگ ہوچکی ہے اور ہال تو ستمبر میں ہی بُک کرا لیا گیا تھا۔ لیکن اب موسم سرما کے ساتھ شادیوں کے سیزن میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے نئی حکومتی ہدایات نے ان کی سب تیاروں کو الجھا دیا ہے۔
پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) نے گذشتہ ہفتے کے دوران بڑے شہروں میں شادی و دیگر تقریبات کے لیے حفاظتی ہدایات (ایس او پیز) جاری کی ہیں۔
ان کے تحت 20 نومبر سے اِن ڈور یعنی عمارتوں کے اندر لوگوں کے جمع ہونے پر مکمل پابندی ہوگی اور اس کا اطلاق کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد سمیت تمام بڑے شہروں میں ہوگا۔
ان ہدایات کے بعد ایسے لوگوں میں پریشانی پائی جاتی ہے جنھوں نے کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین میں کمی کے پیش نظر شادی ہالز اور دیگر انتظامات کی بُکنگ کرا لی تھی۔ ملک میں شادی ہال مالکان بھی ان ہدایات سے خوش نہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایسے میں بعض جوڑے اپنی شادی سادگی سے کرنے یا اس میں تاخیر کرنے سے متعلق راستوں پر غور کر رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس حکومتی ایس او پیز کے ساتھ شادی کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔
پاکستان میں شادیوں سے متعلق نئی ایس او پیز کیا ہیں؟
این سی او سی کے مطابق صرف آؤٹ ڈور یعنی عمارتوں کے باہر شادی و دیگر تقریبات کی اجازت ہوگی۔
حکومتی ہدایات کے مطابق آؤٹ ڈور شادی میں بھی 1000 سے زیادہ افراد اکٹھے نہیں ہوسکیں گے۔ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ہر شخص کے لیے ماسک پہننے اور کم از کم چھ فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنے کا کہا گیا ہے۔
این سی او سی کا کہنا ہے کہ ٹینٹ استعمال کرنے کی صورت میں اس کا ہوا دار ہونا لازم ہوگا جبکہ بند مارکی کے ڈیزائن والے ٹینٹوں میں شادی کی تقریبات کی اجازت نہیں ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہNCOC
دیگر ہدایات میں تمام مہمانوں کا درجہ حرارت چیک کرنا، بوفے کی جگہ لنچ باکس تقسیم کرنا اور ہاتھ دھونے کے لیے صابن یا سینیٹائزر کی دستیابی یقینی بنانا شامل ہیں۔ دلہا اور دلہن کے والدین اور منتظمین سے کہا گیا ہے کہ وہ داخلے پر لوگوں میں ماسک تقسیم کریں۔
اور ساتھ میں ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے جیسی روایات سے بھی پرہیز کا حکم ہے۔ این سی او سی کے مطابق تقریب کے اوقات دو گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوسکتے اور انھیں ہر صورت رات 10 بجے تک ختم کرنا لازم بنایا جائے گا۔
اس کے علاوہ پنجاب کے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ ’(20 نومبر سے قبل) جس شادی ہال میں ماسک کی پابندی نہیں کی جائے گی اسے بند کیا جائے گا۔‘
دلہا دلہن کتنے پریشان؟
جن جوڑوں نے رواں سال کے اواخر میں شادی کی تاریخ طے کر رکھی تھی ان میں موجودہ صورتحال کے تناظر میں تشویش پائی جاتی ہے۔
لاہور کے علی حفیظ جنھوں نے دسمبر میں دلہا بننے کا فیصلہ کیا تھا ان افراد میں سے ہیں جنھوں نے حکومتی ہدایات سن کر شادی کی تاریخ ہی بدل ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ جب وہ شادی ہال کی بُکنگ کے لیے جمعے کو ایک جگہ گئے تو ’خوش قسمتی سے‘ انھوں نے ٹی وی پر نئی ہدایات کے ٹِکر دیکھ لیے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں یہ دیکھ کر چُپ چاپ واپس آگیا۔‘
اب انھوں نے شادی ایک سے دو ماہ کی تاخیر کے بعد کرنے کا سوچا ہے۔
لیکن بعض جوڑوں نے اپنی تیاریاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے لیے شادی کی تاریخ اس مرحلے پر تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
عروج کا کہنا ہے کہ ان کے شادی کی دونوں تقریبات کے جوڑے تیار ہیں اور میک اپ آرٹسٹ سے لے کر فوٹوگرافر تک سب کی بکنک ہوچکی ہے، اور ایڈوانس رقم ادا کی جا چکی ہے۔
ان کے لیے اس موقع پر شادی کی تیاریاں روکنا یا اس میں تاخیر کرنا ممکن نہیں اور ایسے میں حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد ہی واحد ذریعہ معلوم ہوتا ہے۔
نئی ہدایات پر ردعمل
ملک بھر میں شادی ہال مالکان اور کیٹرر ایسوسی ایشنز کی جانب سے نئی حکومتی ہدایات کی مخالفت کی گئی ہے۔ انھوں نے رواں سال لاک ڈاؤن کی بدولت اس صنعت کو پہنچنے والے نقصان کا ذکر کرتے ہوئے یہ ہدایات واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

لاہور میں قائم ایک میرج ہال کے مینیجر حسان قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت کی نئی ایس او پیز پر اس شعبے سے وابستہ افراد نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور فی الحال حکومتِ پنجاب سے ان کے مذاکرات جارہی ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر صرف اوپن ایئر یا آؤٹ ڈور شادیوں کی شرط رکھی جاتی ہے تو اس کی پیروی کی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے شادی ہال کی بکنگ کرائی ہے ان کی تقریب آؤٹ ڈور ٹینٹ میں کرائی جاسکتی ہیں۔
صدر پنجاب میرج ہالز ایسوسی ایشن خالد ادریس نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ان ہدایات کو نامنظور قرار دیتے ہیں اور انھوں نے تمام مالکان سے کہا ہے کہ وہ اس دوران اپنے شادی ہال کھلے رکھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اس صنعت کو ماضی کی پابندیوں کی وجہ سے کافی نقصان ہوا ہے کہ ویٹر سمیت دیگر مزدور اس فیصلے سے دوبارہ بیروزگار ہوسکتے ہیں۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس فیصلے سے سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوں گے جو اپنی کم آمدن کے باعث چھوٹے میرج ہالز میں شادیوں کی تقریبات رکھتے ہیں۔
اس صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سیزن شروع ہونے سے قبل یہ فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ وہ پہلے سے تمام بُکنگز کر چکے تھے۔
انھوں نے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اقدامات کو گذشتہ ایس او پیز تک محدود رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔













