گذشتہ ہفتے کے پاکستان کی تصویری جھلکیاں

لاڑکانہ میں چاول کی کاشت سے لے کر مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کی گرفتاری اور کراچی میں مائیکرو لاک ڈاؤن کے متعلق خبروں تک، گذشتہ ہفتے پاکستان میں پیش آنے والے چند واقعات کی تصویری جھلکیاں۔

عرس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلاہور میں سید علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے عرس کی تقریبات سے قبل ان کے مزار کو مختلف قسم کی روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ داتا گنج بخش کے تین روزہ عرس کی تقریبات 6 اکتوبر سے شروع ہو رہی ہیں۔
سکول طالبہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنرواں ہفتے حکومتِ پاکستان نے مزید سکول کھولے ہیں اور کلاسوں کی بحالی کے بعد پشاور کے ایک پرائمری سکول کے پہلے دن ایک طالبہ سماجی فاصلے کا خیال رکھتے ہوئے کلاس لے رہی ہیں۔
لاڑکانہ کسان

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنصوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ کے نواح میں پاکستانی کسان اپنے کھیتوں میں چاول کی کٹائی کے بعد چاول خشک کرنے کے عمل میں مصروف ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان، دنیا میں چاول کاشت کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور پاکستان سے برآمد کیے جانے والے چاولوں میں باسمتی چاول کی بڑی مارکیٹ یورپی یونین کے ممالک ہیں۔
نابینا بزرگ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنیکم اکتوبر کو دنیا بھر میں نابینا افراد کا دن منایا گیا۔ کراچی کی ایک مارکیٹ میں ایک نابینا بزرگ لکڑی سے مختلف اشیا تیار کر رہے ہیں۔
کورونا وائرس

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے خدشے کے پیش نظر ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لاک ڈاؤن تیسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور شہر کے پانچ اضلاع کے ہاٹ سپاٹ علاقوں میں 15 روز کے لیے مائیکرو لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔ کراچی کی ایک مصروف شاہراہ پر ایک لڑکے کو فیس ماسک فروخت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
شاہ محمود، عبداللہ عبداللہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/SMQ

،تصویر کا کیپشنرواں ہفتے افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان میں موجود استحکام کو مزید تقویت فراہم کرے گا لیکن اگر افغانستان میں تشدد کم نہ ہوا تو افغان امن عمل میں پیشرفت کو یقینی بنانا مشکل ہو گا۔
احتجاج

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنرواں ہفتے مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں گرفتاری کے بعد لاہور کی ایک احتساب عدالت نے ان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دے دی ہے، اس موقع پر ان کے حامی احتجاج کر رہے ہیں۔