سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کے ٹیکس گوشواروں پر ردعمل: اسد عمر کی شہباز شریف کو اثاثوں کے تبادلے کی پیشکش

،تصویر کا ذریعہAnadolu Agency
پاکستان میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کی جانب سے سال 2018 کی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کر دی گئی ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں شامل اراکین کی الگ ڈائریکٹری بھی جاری کی گئی ہے۔
قومی اسمبلی کے اراکین کی ٹیکس ڈائریکٹری کو دیکھیں تو سال 2018 میں سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے سب سے زیادہ 24 کروڑ 13 لاکھ 29 ہزار 362 روپے ٹیکس دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے مالی سال 2018 میں 2 لاکھ 82 ہزار 449 روپے ٹیکس دیا جب کہ بلاول بھٹو نے اس نے کچھ ہزار روپے زیادہ یعنی 2 لاکھ 94 ہزار 117 روپے ٹیکس دیا ہے۔
سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے 28 لاکھ 91 ہزار 455 روپے، رہنما مسلم لیگ اور رکن قومی اسمبلی شہباز شریف نے 97 لاکھ 30 ہزار 545 روپے جبکہ ان کے بیٹے حمزہ شہباز نے 87 لاکھ 5 ہزار 368 روپے ٹیکس ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر اسد عمر نے 53 لاکھ 46 ہزار 342 روپے ٹیکس دیا۔ جبکہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد احمد چوپدری نے 16 لاکھ 98 ہزار 651 روپے ٹیکس ادا کیا۔
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے 579,011 روپے ٹیکس دیا ہے اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے 2,435,650 روپے ٹیکس ادا کیا۔ وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے 183,900 روپے ٹیکس کی مد میں ادا کیے۔
پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنما کے خورشید شاہ نے تین لاکھ پانچ ہزار روپے، شازیہ مری نے ایک لاکھ 83 ہزار نو سو روپے ٹیکس ادا کیا۔ جبکہ حکمراں جماعت کے مراد سعید نے تین لاکھ 74 ہزار 728 روپے ٹیکس دیا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی قیصر نے پانچ لاکھ 37 ہزار 730 روپے اور پرویز خٹک نے 18 لاکھ 26 ہزار 899 روپے ٹیکس دیا ہے۔
جبکہ سابق وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے 267,380 روپے، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگ زیب نے 281,883 روپے، خواجہ آصف نے 4,371,129 روپے، جبکہ خواجہ سعد رفیق نے 2,949,200 روپے ٹیکس دیا۔
کن اراکین قومی اسمبلی نے ٹیکس ادا نہیں کیا

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@ZartajGulWazir
قومی اسمبلی میں ٹیکس نہ دینے والوں میں 57 ایم این اے شامل ہیں جن میں وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل سمیت فیصل واڈوا اور ناز بلوچ شامل ہیں۔
جبکہ سب سے کم ٹیکس تحریک انصاف کی رہنما کنول شؤذب نے دیا جو 165 روپے ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما مولا بخش چانڈیو نے فقط 5,632 روپے ادا کیے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اگر پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینینٹ اراکین کا جائزہ لیا جائے تو 104 اراکین میں سے سب سے زیادہ ٹیکس سینیٹر فروغ نسیم نے ادا کیا جو ساڑھے تین کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
تین اراکین نے ٹیکس ہی نہیں دیا جن میں پنجاب سے سینیٹر رانا مقبول احمد، خیبر پختونخوا سے بہرامند خان تنگی، تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید اور سنیٹر شمیم آفریدی شامل ہیں۔
سب سے کم ٹیکس جمع کروانے والے سینٹیر کا نام مرزا محمد آفریدی ہیں جنھوں نے محض 910 روپے ٹیکس جمع کروایا۔
سوشل میڈیا پر صارفین کا ردعمل

،تصویر کا ذریعہPTI
اس وقت پاکستانی سوشل میڈیا پر ایف بی آر کی ڈائریکٹری میں سے مختلف اراکین کے ٹیکس ریٹرن کو شیر کیا جا رہا ہے اور اس بارے میں ٹویٹس اور میمز ٹرینڈ بھی کر رہی ہیں۔
صارفین حکمران جماعت پر زیادہ تنقید کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور ٹیکس نہ دینے والے اہم اراکین اسمبلی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف امجد نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ٹیکس ریٹرن اپنی ٹویٹ میں لکھتے ہوئے کہا کہ ’بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال نے سب سے زیادہ 48 لاکھ 8 ہزار 948 روپے ٹیکس دیا جبکہ وزیراعلی پنجاب نے ٹیکس ہی نہیں دیا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter
وزیراعظم کے مشیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اپوزیشن رہنما شہباز شریف کو ٹوئٹر کے ذریعے ایک طنزیہ پیغام دیا اور انھیں اثاثوں کے تبادلے کی پیش کش کی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
وزیراعظم عمران خان نے 2018 میں 2 لاکھ 82 ہزار 449 روپے ٹیکس دیا تاہم ٹوئٹر پر وزیراعظم کی رہائش اور ان کے زیر استعمال دیگر اشیا کا حوالہ دے کر دو لاکھ کو انتہائی کم ٹیکس قرار دیا جا رہا ہے۔
ریحام خان نے اپنی طنزیہ ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان کا نام لیے بغیر ان کے تین کنال کے گھر اور ٹیکس کی رقم کے متعلق لکھا

،تصویر کا ذریعہTwitter
ایک اور ٹوئٹر صارف محمد صابر محمود ہاشمی نے لکھا ’ٹیکس چور ہیں تو کیا ہوا صادق امین تو ہیں۔‘
ٹیکس کم دینے والوں پر تنقید تو ہو رہی ہے لیکن حکمراں جماعت کے نہایت معروف اراکین اسمبلی جنھوں نے ٹیکس دیا ہی نہیں انھیں سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
سخت الفاظ کے چناؤ کے ساتھ ساتھ کچھ صارفین طنزو مزاح کو اپنائے نظر آئے۔ جیسے ایس اے کھوکھر نامی ٹوئٹر ہینڈل پر فیصل واڈوا کے حوالے سے یہ جملہ دیکھنے کو ملا فیصل واڈوا نے کچھ ٹویٹ کیا ہے چیک کر لیں ذرا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
عذرا نامی صارف نے بھی انکم ٹیکس ریٹرن فارم کے اس خانے کا ذکر کیا جس میں رکن اسمبلی کے زیر کفالت افراد کے بارے میں لکھا جاتا ہے لیکن ان کا جواب کچھ مختلف تھا جس میں پوری قوم کا حوالہ ملا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter











