ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع: ایف بی آر کی نئی ’ٹیکس آسان‘ ایپ زندگی کتنی آسان بناتی ہے؟

ٹیکس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان میں تنخواہ دار طبقہ ستمبر کے آخری چند دنوں میں اکثر و بیشتر بس اسی موضوع پر بات کرتا نظر آتا ہے کہ آیا فیڈرل بورڈ آف ریوینیو یعنی ایف بی آر اس سال ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں اضافہ کرے گا یا نہیں۔ تو بالآخر پچلے سالوں کی طرح فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں اس سال بھی توسیع کر ہی دی۔ ترجمان ایف بی آر کے مطابق اب انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ 15 اکتوبر تک بڑھا دی گئی۔

ایف بی آر کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پورے پاکستان میں 29 لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں شامل ہیں یعنی وہ افراد جو سالانہ اپنے گوشوارے جمع کراتے ہیں۔

گذشتہ کئی سالوں سے ایف بی آر اور حکومت پاکستان کی کوشش یہی رہی ہے کہ وہ کسی طرح سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ٹیکس جمع کرنے کے اعداد و شمار کی فہرست میں شامل کر سکیں۔

ایف بی آر کے مطابق گذشتہ مالی سال میں 26 لاکھ لوگوں نے گوشوارے جمع کرائے تھے جبکہ اگلے مالی سال میں 12 فیصد اضافے کے بعد یہ تعداد 29 لاکھ تک جا پہنچی۔

ٹیکس

،تصویر کا ذریعہFBR

اس وجہ سے ہر سال ستمبر میں دی گئی اصل ڈیڈ لائن کے بعد بھی کئی بار 'آخری تاریخ' میں اضافہ کیا جاتا ہے تاکہ لوگ خود کو اندراج کرا سکیں اور اس فہرست میں شامل ہو جائے اور پہلی بار دی گئی ٹیکس جمع کرانے کی 'آخری تاریخ' کبھی بھی حتمی آخری تاریخ نہیں ہوتی اور اکثر اُس مالی سال کے اختتام تک بڑھتی رہتی ہے۔

اگر صرف پچھلے سال کی مثال لیں تو ستمبر کی 30 تاریخ کے بعد یہ ڈیڈ لائن بڑھتے بڑھتے آٹھ دسمبر تک گئی جو کہ حتمی ڈیڈ لائن ثابت ہوئی۔

لیکن اس سال ایف بی آر نے 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن دینے کے بعد متعدد بار یاد دہانی کرائی کہ وہ اس بار تاریخ میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے اور گوشوارے جمع نہ کرانے کی صورت میں صارفین پر یومیہ ہزار روپے جرمانہ بلکہ دو سال قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

ایف بی آر کا کہنا تھا کہ وہ اس سال ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں درخواست جمع کرانے پر صرف اور صرف انتہائی ناگزیر حالات میں اضافہ کریں گے اور وہ بھی 15 روز کی مہلت سے زیادہ نہیں ہوگی۔

ٹیکس آسان

،تصویر کا ذریعہFBR

دو سال قبل 2019 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین شبّر زیدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تنخواہ دار افراد کے لیے ایک ایسی 'موبائل ایپ' کے لانچ ہونے کی نوید سنائی جس کے ذریعے سے وہ اپنے ٹیکس ریٹرن کو فائل کر سکتے ہیں۔

اس ایپ کی مقبولیت وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی گئی ہے اور نہ صرف ایف بی آر خود بلکہ اب کئی صارفین نے اپنی مدد آپ کے تحت اس ایپ کو استعمال کرنے کے لیے ویڈیوز بنا کر یو ٹیوب پر ڈال دی ہیں جسے استعمال کر کے کوئی بھی شخص بہت آسانی سے اپنے گوشوارے جمع کرا سکتا ہے۔

اب صارفین کے پاس ایف بی آر کی ویب سائٹ کے علاوہ اس ایپ کا ذریعہ بھی موجود ہے جس کی مدد سے وہ اپنے گوشوارے جمع کرا سکتے ہیں۔

صارفین کی انھی الجھنوں کے پیشِ نظر ہم نے ’ٹیکس آسان' ایپ سے جڑے سوالات کے جوابات تلاش کیے۔

’ٹیکس آسان‘ ایپ کون استعمال کر سکتا ہے؟

فی الحال اس ایپ کو پاکستان میں مقیم تنخواہ دار افراد استعمال کر سکتے ہیں۔ غیر تنخواہ دار افراد اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اس ایپ کو استعمال کرنے کے اہل نہیں ہیں۔

کیا اس ایپ کا ویب ورژن ہے؟

یہ ایپ اینڈروئڈ اور ایپل، دونوں آپریٹنگ سسٹمز کے ایپ سٹورز میں دستیاب ہے مگر ’ٹیکس آسان‘ کا کوئی ویب ورژن نہیں ہے۔

ایپ

ایپ میں لاگ اِن کیسے کیا جائے؟

اگر آپ Iris پر رجسٹرڈ ہیں یعنی آپ نے ایف بی آر کی ویب سائٹ پر اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے تو ایپ میں username کی جگہ اپنا قومی شناختی کارڈ نمبر درج کریں اور پاس ورڈ وہی رہے گا جو ایف بی آر کی طرف سے آپ کو اُس ای میل پر بھیجا گیا ہو گا جس کا استعمال کرتے ہوئے آپ نے اکاؤنٹ بنایا ہے۔

اس سلسلے میں اپنی ای میل کے سرچ بار میں FBR لکھیے۔ اس کے علاوہ آپ نیا پاس ورڈ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر آپ ٹیکس دہندہ ہیں مگر آن لائن سسٹم پر رجسٹرڈ نہیں ہیں تو آپ کو ایف بی آر کی ویب سائٹ پر Iris ای-اینرولمنٹ کے آپشن میں جا کر اکاؤنٹ بنانا پڑے گا۔

ایپ کیا سہولیات فراہم کرتی ہے؟

اس ایپ کا استعمال کرتے ہوئے آپ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کر سکتے ہیں، سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ ای پیمنٹ کے ذریعے سے آپ تنخواہ کے علاوہ لاگو ہونے والا انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ٹیکس ادا کر سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ بنیادی ویریفیکیشن مثلاً نیشنل ٹیکس نمبر، سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر جیسی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 236 کے مطابق جن چیزوں پر ایڈجسٹیبل ایڈوانس ٹیکس لاگو ہوتا ہے، ان پر ٹیکس ریٹرن فائل کیا جا سکتا ہے۔

ایپ

آپ اپنے انٹرنیٹ بل، فون بل، پریپیڈ کنیکشن کی صورت میں موبائل فون کے لیے خریدے گئے کارڈ، جہاز کے ٹکٹ، شادی ہال کی بکنگ پر کیے گئے خرچے وغیرہ پر ٹیکس ریٹرن حاصل کر سکتے ہیں۔

ایسا کرنے کے لیے آپ کو رسیدیں سنبھال کر رکھنا پڑیں گی اور موبائل کمپنی وغیرہ سے اپنے ادا کردہ بل کے سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے پڑیں گے۔

تو ’ٹیکس آسان‘ ایپ کا استعمال مشکل ہے یا آسان؟

بظاہر مشکل اصطلاحات سے بھرپور ایپ میں تقریباً ہر سرخی کے ساتھ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ اس پر کلک کرنے سے آپ سرخی سے متعلقہ ویب پیج پر آ جائیں گے اور مزید معلومات حاصل کر سکیں گے۔

متعلقہ ویب پیج پر موجود ہدایات مرحلہ وار انداز میں پیش کی گئی ہیں جو اس ایپ کا استعمال قدرے آسان بنا دیتا ہے۔

اگر آپ خود ٹیکس فائل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو نہ صرف یہ ایپ آپ کی مدد گار ہو گی بلکہ کے لیے آپ کو آن لائن رہنمائی بھی ملے گی۔

ایپ
،تصویر کا کیپشنسوالیہ نشان پر کلک کر کے ایپ کا استعمال آسان بنایا جا سکتا ہے

یہ بھی پڑھیے

ہماری ساتھی منزہ انوار نے یوٹیوب پر موجود ایسی ہی ایک رہنما ویڈیو میں موجود ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنا ٹیکس ریٹرن فائل کیا۔

چونکہ وہ گذشتہ سال بھی ایسی ہی ایک رہنما ویڈیو کی مدد سے اپنا ٹیکس ریٹرن خود بھر چکی ہیں اس لیے اس سال یہ پرانی مشق ان کے کام آئی۔

'پچھلے سال میں نے پہلی مرتبہ خود گوشوارے بھرے تھے اس لیے اس کام میں کم از کم تین سے چار گھنٹے صرف ہوئے۔ اگرچہ اس مرتبہ کے فارم میں ذرا سی تبدیلیاں تھیں تاہم نئی رہنما ویڈیو کی مدد سے یہ کام آسان ہو گیا اور میرا تجربہ ہونے کی وجہ سے اس سال میں نے اسے آدھے گھنٹے میں ہی مکمل کر لیا۔'

ٹیکس ایپ

،تصویر کا ذریعہGoogle Play

منزہ کہتی ہیں کہ اس فارم میں گذشتہ سال کے ریٹرنز بھی دکھائی دیتے ہیں اور غلطی ہونے کی صورت میں یہ خود حساب لگا کر بتا دیتا ہے کہ غلطی کہاں ہوئی اور زیادہ انداراج کی صورت میں یہ سوال کرتا ہے کہ یہ رقم کہاں سے آئی۔

حتمی گوشوارے بھرنے کے لیے گذشتہ سال منزہ سے اس ایپ نے ایک کوڈ بنوایا تھا جو اتفاقاً انھیں یاد رہا۔

'اس سال جب میں نے حتمی ریٹرن بھرے تو اس عمل کی تکمیل سے پہلے مجھ سے کوڈ مانگا گیا جو وہی تھا جو میں نے گذشتہ برس بنایا تھا۔ اس کا اندراج کرنے کے بعد گوشوارے جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ سب خود کر کے مجھے احساس ہوا کہ اتنے آسان کام کے لیے ہم ہر ماہ دوسروں جو ہزاروں روپے فیس کے طور ر خوا مخواہ ہی دے دیتے ہیں۔'