فیڈرل بورڈ آف ریونیو: ’انکم ٹیکس ری فنڈ کی ای میل محض دھوکہ ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان میں انکم ٹیکس فائلر افراد میں سے اگر کسی کے پاس اِن باکس میں ’ری فنڈ ایٹ دے ریٹ آف ایف بی آر ڈاٹ کو ڈاٹ پی کے‘ سے یہ ای میل آئی ہے کہ آپ انکم ٹیکس ری فنڈ کے اہل ہیں اور اس کے ساتھ میں ایک لنک بھی موجود ہے جس میں اس کو کلک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے تو یقین جانیں اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا کہنا ہے کہ یہ صرف دھوکہ ہے۔ ایف بی آر کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے سسٹم سے یہ ای میل جاری نہیں ہوئی، انھوں نے ایف آئی اے سائبر کرائم کو اس کی شکایت کر دی ہے۔
انکم ٹیکس ری فنڈ ملتا کیسے ہے؟
آپ پر جتنا ٹیکس واجب الادا ہے اور اگر آپ نے اس سے زیادہ ادا کر دیا ہے تو آپ ٹیکس ری فنڈ کا دعویٰ کرنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق ری فنڈ اس صورت میں ہی مل سکتا ہے اگر آپ نے انکم ٹیکس ریٹرن آن لائن جمع کرایا ہو تاہم ہاتھ سے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والے افراد ری فنڈ سے مستفید نہیں ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انکم ٹیکس ری فنڈ کے لیے ایک علیحدہ سے درخوست ایف بی آر کے سافٹ ویئر نظام پر کی جاتی ہے اور اس درخواست کا سٹیٹس دیکھنے کے لیے ریجنل انکم ٹیکس دفتر جانا ہوتا ہے۔
درخواست فارم میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ گذشتہ مالی سال میں اس شخص کو کتنی آمدنی ہوئی اور اس نے آمدنی پر کتنا ٹیکس ادا کیا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایف بی آر کے قاعدے کے مطابق اگر انکم ٹیکس ری فنڈ کا دعویٰ مقررہ تاریخ کے بعد کیا گیا ہے تو اس شخص کو ادائیگی نہیں کی جائے گی۔
ٹیکس ریٹرن جمع کراتے وقت خیال رکھیں
ایف بی آر کے سافٹ ویئر میں جب آپ تمام انکم ٹیکس ریٹرن کی معلومات جمع کرا دیں گے اور ’ٹیکس پیڈ اینڈ ویری فیکیشن‘ بٹن کو دبائیں گے تو سسٹم خود کار نظام کے ذریعے ری فنڈ کا تخمینہ لگائے گا اور ری فنڈ کی لائن میں یہ رقم دیکھی جا سکتی ہے۔
آپ کے اپ لوڈ کیے گئے تمام دستاویزات کی ایف بی آر کا متعلقہ شعبہ چھان بین کرے گا جس کے بعد آپ کے ری فنڈ کے دعوے کو تسلیم، ترمیم یا پھر مسترد کرے گا۔
انکم ٹیکس ری فنڈ کے لیے سسٹم میں ترمیم
پاکستان میں انکم ٹیکس ری فنڈ کی واپسی میں کئی سال تاخیر کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔
وزیراعظم کے مالی اور محصولات کے بارے میں مشیر ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ پچھلے برسوں میں ایک لاکھ تک مالیت کے ایک ارب 70 کروڑ روپے کے ری فنڈ فوری جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ سے پانچ لاکھ مالیت کے ری فنڈ کے لیے کارروائی جاری ہے جو اگلے ماہ تک جاری کر دی جائے گی۔
ایف بی آر کے ترجمان کے مطابق انکم ٹیم ری فنڈ کی بھی ایک مرکزی ڈپازیٹری بنا رہی ہے جس طرح سیلز ٹیکس کی واپسی کے لیے بنائی گئی ہے اس سے ڈُپلیکیشن اور اختیارات کے غلط استعمال کی شکایت بھی دور ہو جائیں گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تنخواہ دار طبقہ ترجیحات میں ںکہاں ہے؟
نامور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ تنخواہ سے ود ہولڈنگ ٹیکس کٹ رہا ہوتا ہے، اس میں کوئی فرق نہیں آتا ہے جبکہ تجارت میں ود ہولڈنگ ٹیکس مختلف شرح سے کٹتا ہے۔
’میں نے آپ سے کوئی مال لیا یا دیا تو 100 روپے ٹیکس بنا جبکہ مجھ پر اس کی ادائیگی 90 روپے بنتی ہے بعد میں مجھے دس روپے کا ری فنڈ ملے گا کیونکہ تجارت میں ٹیکس مختلف ذرائع سے کٹ رہا ہوتا ہے، اس کا پتہ آخر میں جا کر چلتا ہے جب پورے سال کا اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے۔
انکم ٹیکس قوانین کے ماہر ایڈووکیٹ میر ارشد کا کہنا ہے کہ موجودہ پالیسی میں بھی اولیت ایکسپورٹروں کو حاصل ہے، دوسرے نمبر پر سیلز ٹیکس کے صارفین ہیں اور تنخواہ دار طبقہ تیسرے درجے پر آتا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کی حالیہ مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی 20 کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ ایف بی آر کے مطابق رواں سال مئی تک ٹیکس فائلروں کی تعداد 19 لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔








