وزیر اعظم عمران خان دورہ کراچی: صوبائی دارالحکومت کے لیے 1100 ارب روپے کے پیکج کا اعلان، تین سال میں تکمیل کا ارادہ

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial
- مصنف, عابد حسین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیر اعظم عمران خان نے ملک سے سب سے بڑے شہر کراچی کے لیے '1100 ارب روپے مالیت کے ایک تاریخی پیکج' کا اعلان کیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں کا تعاون شامل ہوگا۔
کراچی میں ایک روزہ دورے کے لیے آئے ہوئے وزیر اعظم نے وزیر اعلی مراد علی شاہ اور گورنر سندھ عمران اسمعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ اس ترقیاتی پیکیج کی مدد سے کراچی کے مرکزی مسائل جیسے پانی، نالے، سیوریج کا نظام، ٹرانسپورٹ اور سالڈ ویسٹ کا حل ڈھونڈا جائے گا اور اس پر عمل در آمد کرانے کے لیے 'پروونشل کوآرڈینشن امپلیمینٹشن کمیٹی' (پی سی آئی سی) کے قیام کا بھی اعلان کیا۔
واضح رہے کہ گذشتہ برس مارچ میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دورہ کراچی میں 162 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج کا اعلان کیا تھا جبکہ ستمبر کے آغاز میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بھی بتایا کہ صوبائی حکومت کراچی کے لیے 800 ارب روپے کا پیکج پیش کرے گی۔
اس سے قبل جون میں پیش کیے گئے سالانہ صوبائی بجٹ میں کراچی کی ترقی کے لیے 26 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
'کے فور کا منصوبہ تین سال میں مکمل کر دیں گے'
کراچی کے خصوصی دورے کے موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جیسے ملک میں کورونا کے پھیلاؤ کے بعد فوری طور کمیٹی بنا کر اقدامات کیے، اسی طرح کراچی میں دیگر مسائل کا بھی حل تلاش کیا جائے گا۔
پی سی آئی سی کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کمیٹی میں پاک فوج کا بہت بڑا کردار ہے کیوں کہ سیلاب اور صفائی کے معاملات پر ہمیں فوج کی ضرورت ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ 'دنیا میں جب بھی اس طرح کی قدرتی آفت سامنے آتی ہے تو اس میں فوج سب سے آگے ہوتی ہے کیوں وہ سب سے منظم ادارہ ہے اور اس کے پاس سب سے زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔'
پیکج کے تحت حل کیے جانے والے والے مسائل کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہ کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے اور اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ’کے فور‘ منصوبے کا ایک حصہ صوبائی جبکہ دوسرا حصہ وفاقی حکومت لے گی اور آئندہ تین برس میں کراچی میں پانی کے بحران کو مستقل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
نالوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جہاں تجاوزات ہیں انھیں ہٹانے کے لیے نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کام شروع کر دیا ہے اور وہاں پر رہائش پذیر افراد کو متبادل جگہ فراہم کرنے کی ذمہ داری سندھ حکومت کی ہو گی۔
وزیر اعظم عمران خان نے کراچی کے مزید مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سیوریج سسٹم اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے بھی اسی پیکج سے حل کیے جائیں گے۔
ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے کے علاوہ شہر میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سسٹم اور سڑکوں کے منصوبوں کے لیے اس پیکج سے رقم مختص کی جائے گی۔
وزیر اعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس پیکیج کی تکمیل کے لیے تین مراحل میں کام ہوگا جس میں قلیل المدت منصوبے ایک سال میں جبکہ طویل مدتی منصوبے تین سال میں مکمل کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کراچی کے لوگوں کو مشکل حالات سے گزرنا پڑا لیکن اب اس کمیٹی کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial
'ضروری بات یہ ہے کہ شہر میں مختلف انتظامی باڈیز ہیں، مختلف حدود ہیں، لیکن اب اس کمیٹی کی مدد سے سب ایک صفحے پر آ جائیں گے اور رکاوٹیں دور ہوں گی اور اب ان پر عمل درآمد کرایا جائے گا اور پاکستانی فوج بھی اس کا لازمی جزو ہوگی۔'
وزیراعظم عمران خان نے بریفنگ سے قبل 'کراچی کمیٹی' کے ساتھ ملاقات کی جہاں انھیں ’کراچی ٹرانسفارمیشن پلان‘ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزرا شبلی فراز، اسد عمر کے علاوہ گورنر سندھ عمران اسماعیل، کورکمانڈر لیفٹینیٹ جنرل ہمایوں عزیز، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزرا سید غنی، ناصر شاہ اور دیگر افسران شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook/@ImranKhanOfficial
'نئے منصوبوں کے نام پر سیاست کا آغاز کر دیا گیا ہے'
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کراچی کے لیے وفاق یا صوبائی حکومت کی جانب سے اتنی خطیر رقم کے منصوبہ پیش کیے گئے ہوں۔
اس سال جون میں جب صوبہ سندھ کا سالانہ بجٹ پیش کیا گیا تو اس میں شہر کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 26 ارب روپے مختص کیے گئے جس میں بی آر ٹی لائنز، پانی اور سیوریج کی لائنیں اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔
ستمبر کے آغاز میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بھی اعلان کیا تھا کہ کراچی کو 'صحیح معنوں میں تبدیل' کیا جائے گا اور اس مد میں انھوں نے 800 ارب مالیت کے پیکج کا اعلان کیا جس میں 24 منصوبے شامل ہیں۔
مراد علی شاہ کے مطابق اس پیکج میں شامل منصوبوں کی تکمیل ایک سے پانچ سال میں متوقع ہے۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا تھا کہ وفاقی حکومت اس رقم کے مساوی پیکج کا اعلان کرے گی تاہم ایسا نہ ہوا۔
لیکن دوسری جانب ماہرین نے بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پیکجز کے لیے رقم کہاں سے آئے گی جبکہ یہ تنقید بھی پیش کی گئی کہ یہ تمام منصوبے تو پہلے سے ہی چل رہے ہیں اور ان میں نیا کیا ہے۔
کراچی اربن لیب سے منسلک محقق اور اربن پلانر محمد توحید نے وزیر اعلی سندھ کی جانب سے پیش کیے گئے 'کراچی ٹرانسفارمیشن پلان ' (کے ٹی پی) پر ٹویٹ کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ کراچی میں ایک بار پھر نئے منصوبے کے نام پر سیاست کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
'پرانے منصوبوں کو کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں شامل کر دیا ہے، کچھ نیا نہیں ہوا۔ سب کو کراچی کا میئر بننے کا لالچ ہے۔ صرف نعرے بازی ہے اور بلدیاتی انتخابات کے لیے سیاست ہے۔'
پچھلے سال کے بجٹ میں بھی کراچی کے لیے صوبائی حکومت نے 40 ارب روپے مختص کیے تھے جبکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی مدد سے 226 ارب اگلے پانچ سال مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کا بتایا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
حالیہ برسوں میں کتنے پیکجز پیش کیے گئے؟
سات برس قبل پاکستان مسلم لیگ نواز نے کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا تھا تو حکومت قائم کرنے کے چند ماہ بعد کراچی میں آپریشن کا آغاز کیا جس کا مقصد شہر میں امن و امان کو بحال کرنا تھا۔
اگلے برس جولائی 2014 میں حکومت نے ٹرانسپورٹ کی مد میں 15 ارب روپے کے منصوبے کا اعلان کیا جبکہ اس کے علاوہ ایم نائن موٹروے کے لیے 42 ارب روپے اور 'کے فور' پراجیکٹ کی مد میں 12 ارب روپے دینے کا اعلان کیا۔
اگست 2017 میں اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے دورہ کراچی میں اعلان کیا کہ حکومت شہر کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 25 ارب روپے مزید فراہم کرے گی۔
جب 2018 میں پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو اس کے پیچھے ایک بڑا ہاتھ ان کی جماعت کو کراچی سے ملنے والے ووٹ تھے جس کی مدد سے انھوں نے شہر کی 20 میں سے 14 قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کیں اور صوبائی اسمبلی میں بھی 30 منتخب نشستیں حاصل کیں۔

،تصویر کا ذریعہAPP
اس کامیابی کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے مارچ 2019 میں شہر کا دورہ کیا تو انھوں نے 18 منصوبوں کی مد میں 162 ارب روپے کے پیکج کا اعلان کیا جو ٹرانسپورٹ، پانی، سیوریج نظام اور دیگر اہم منصوبوں سے متعلق تھا اور اس وقت بھی ایک 'کراچی ٹرانسفارمیشن کمیٹی' قائم کی گئی تھی۔
'اتنی مالیت کے منصوبوں کے لیے رقم کہاں سے آئی گی؟'
جب بی بی سی نے کراچی کے سابق ایڈمنسٹریٹر فہیم زمان سے ماضی میں دیے گئے پیکجز اور آج دیے جانے والے پیکج کے بارے میں سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی وفاقی حکومتوں نے بارہا گرانٹس دیں جنھوں نے صرف قلیل المدت مسائل کو ایک حد تک حل کیا۔
'ان پیکجز یا ان پراجکیٹس کو میں پلمبر اپروچ کہتا ہوں۔ ان سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہو سکتے، اس کے لیے کراچی کی گورننس بہتر بنانی ہوگی۔'
فہیم زمان نے کہا کہ ’وفاقی اور صوبائی حکومت کے جانب سے 1100 ارب روہے کے پیکج کا اعلان ہوا ہے، اتنا بڑا تو ہمارا دفاعی بجٹ ہوتا ہے تین سال میں، کراچی کے لیے اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟‘
انھوں نے مزید کہا کہ پورے سندھ کا ترقیاتی بجٹ 285 ارب ہے، تو پھر اتنی بڑی مالیت کے منصوبوں کے لیے رقم کہاں سے آئے گی؟
’یہ بہت ہی بدنصیبی کی بات ہوگی کہ کراچی کو دینے کے لیے سندھ اپنے باقی چھوٹے بڑے شہروں کا پیٹ کاٹ دے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کراچی کے مسائل کے نام پر سارے وسائل اس شہر پر لگا دیں۔'

فہیم زمان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت بھی سندھ یا عمومی طور پر ملک میں دس سے 30 فیصد کمیشن رائج ہے۔
'آپ یہ سمجھیں کہ ایک چوتھائی تو صرف حکام بالا کی جیبوں میں جاتا ہے۔ اب اگر آپ نے اس پیکج کا اعلان کیا ہے تو میں بتاؤں کہ کراچی کے جتنے ٹھیکےدار ہیں، بشمول فرنٹئیر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او)، ان سب میں خوشی کی لہر دوڑی ہوئی ہے کہ کراچی میں کام آ رہا ہے، جب بٹے گا تو لُٹ مچے گی۔'
فہیم زمان نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی رقم کے منصوبوں کی نگرانی کا نظام کیا ہوگا اور کون خیال کرے گا کہ ان پیسوں کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔
انھوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے ضروری ہے کہ کراچی کی بلدیہ عظمی (کے ایم سی) کو بااختیار بنایا جائے اور کراچی کے لوگوں کے جو نمائندگان ہیں انھیں اختیار دیا جائے۔
'بلدیہ عظمی کا دائرہ کار صرف صوبائی یا کے ایم سی کے علاقوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہو۔ اگر ترجیحات درست سمت میں ہوں تو شاید آنے والے وقتوں میں کراچی کے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔'












