تاخیر سے شادی کرنے والی خواتین کو کیا کچھ سننا پڑتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@beingmadiha
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو
’میں جس بھی شادی میں جاتی تھی تو مجھے کہا جاتا تھا کہ ’ہائے، اللہ تمہارے بھی نصیب کھولے۔‘ میں 22 سال کی عمر سے یہی سن رہی ہوں۔ تیس سال کے بعد تو میری سگی خالہ نے کہا کہ تمہاری عمر میں تمہاری ماں کے دو بچے تھے۔ جب نوکری کرنی شروع کی تو مجھے کہا گیا کہ نوکری والی لڑکی سے کون شادی کرے گا؟ عمر گزر رہی ہے، شادی کرلو، ورنہ بچے نہیں ہوں گے۔‘
یہ کہنا ہے اسلام آباد کی رہائشی سعدیہ وداد کا جو مختلف بین الاقوامی اداروں کے لیے فیلڈ ریسرچر اور کنسلٹنٹ کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔
عام طور پر پاکستانی معاشرے میں خواتین سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ’عمر بڑھنے‘ سے پہلے شادی کرلیں جبکہ ان کی پڑھائی یا کیریئر کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ تاہم ملک میں پہلے ادوار کے مقابلے میں اب خواتین زیادہ کام بھی کرتی ہیں اور اپنے کام کے ساتھ ساتھ گھر بھی سنبھالتی ہیں۔
لیکن اب بھی خواتین سے منسلک توقعات یا سوچ شادی کرنے اور گھر بسانے جیسے خیالات سے جُڑے ہوئے ہیں۔
اس بارے میں بی بی سی نے جب چند خواتین سے بات کی، جنھوں نے 30 سال کی عمر گزرنے کے بعد شادی کی، تو انھوں نے بتایا کہ کیسے انھیں معاشرے کی جانب سے طرح طرح کی باتیں سننی پڑیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’طرح طرح کے سوال کیے جاتے‘
مثال کے طور پر سعدیہ وداد نے نمل یونیورسٹی سے صحافت میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد کئی بڑے میڈیا اور نشریاتی اداروں میں کام کیا۔ اس دوران انھوں نے اپنے گھر والوں سے پیسے مانگنے کے بجائے اپنے لیے خود پیسے کمائے۔
اس کے بعد کئی سالوں تک وہ گھر میں بھی مختلف ادوار میں معاشی طور پر ہاتھ بٹاتی رہیں لیکن گھر میں ان سے ایک ہی سوال کیا جاتا تھا کہ شادی کب کرو گی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اپنی شادی سے کچھ عرصے پہلے شادیوں میں جانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہاں ان سے ہر طرح کے سوالات کیے جاتے تھے جن کا وہ جواب نہیں دینا چاہتی تھیں۔
لیکن حال ہی میں سوشل میڈیا پر شادی کی عمر کو لے کر چھڑنے والی بحث کے بعد سعدیہ اور ان جیسی دیگر خواتین بھی اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں اور یہ بتانا چاہ رہی ہیں کہ شادی کی کوئی خاص عمر نہیں ہوتی، اسی لیے لڑکیوں سے یہ سوال نہیں کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر حال ہی میں ایک دلہن کی تصویر وائرل ہوئی۔ اس تصویر میں بظاہر شادی ہال میں بیٹھی دلہن اپنے ہاتھوں میں ایک چھوٹا سا بینر تھامے بیٹھی ہیں جس میں لکھا ہے گیٹنگ میرِڈ ایٹ تھرٹی، یعنی میں 30 سال کی عمر میں شادی کر رہی ہوں۔
اس تصویر میں موجود دلہن مدیحہ شاہد نے یہ تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر بھی شئیر کی جس کے بعد سے یہ ہر جگہ زیرِ بحث ہے۔
اس تصویر کو فیس بُک پر اب تک مختلف صارف اپنے اپنے گروپ میں شئیر کرچکے ہیں اور اب تک اس پوسٹ کے نیچے ایک ہزار سے زائد لڑکیوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جبکہ اب تک اس پوسٹ کو پانچ ہزار سے زائد بار شئیر کیا جاچکا ہے۔جس میں زیادہ تر خواتین اس دلہن کو سراہ رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
اگر اسی تصویر کے نیچے لوگوں کے خیالات پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کیسے 25 سال کی عمر گزرنے کے بعد لڑکیوں کی ’ایکسپائری ڈیٹ‘ طے کر دی جاتی ہے اور عام طور پر خاندانوں میں خیال کیا جاتا ہے کہ اب اچھے رشتے نہیں آئیں گے۔
اسی پوسٹ کے نیچے ایک صارف نے لکھا کہ ’دیر سے شادی کرنا جلد بازی میں غلط شادی کرنے سے بہتر ہے‘ جبکہ دیگر خواتین نے یہ بھی کہا کہ کیسے ان کے والدین نے دیر سے شادی کی اور اب وہ ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔
جبکہ ایک لڑکی نے اسی پوسٹ کے نیچے لکھا کہ ان کی شادی تو 38 سال میں ہوئی اور ان کو کہا گیا کہ اب بچے نہیں ہوں گے لیکن ان کے دو بچے بھی ہیں اور وہ خاصی خوش ہیں۔
’ایک عمر کے بعد کنواری لڑکی برداشت نہیں ہوتی‘
بتول آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور اپنے کام کی خاطر وہ دبئی اور سنگاپور سفر کرتی رہتی ہیں لیکن کام کے دوران انھیں خاندان اور خاص طور پر والدین کی طرف سے بارہا یہ سننے کو ملا کہ شادی کرنے کی عمر گزر گئی تو کوئی بوڑھا شوہر ملے گا۔
اب انھوں نے اپنے والدین کو مستقل طور پر دبئی منتقل کر دیا ہے۔
بتول کہتی ہیں کہ ’کنواری لڑکیوں کو ایک عمر کے بعد برداشت نہیں کیا جاتا۔ اور یہ خاصے پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی ہوتا ہے۔ میں ایک وقت میں اپنے گھر میں خود کو اجنبی سا محسوس کرنے لگ گئی تھی کیونکہ بس ایک خیال والدین اور خاندان والوں کے ذہن میں تھا کہ بس اب اس کی شادی ہوجائے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ لڑکا اچھا ہے یا نہیں۔ ہاں یہ ضرور دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی میں ہی کوئی خامی ہوگی جو شادی نہیں ہو رہی۔‘
اور ایسا نہیں کہ تاخیر سے شادی کے ساتھ ساتھ کیریئر میں ترقی کرنے والی خواتین بہت کم ہیں، بلکہ بی بی سی سے بات کرنے والی دیگر خواتین بھی اپنے اپنے پیشے میں بہت آگے ہیں۔
بتول کی طرح ان خواتین کا بھی کہنا ہے کہ ان کے دیر سے شادی کرنے کو ان کی ہی ’خامی‘ سمجھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSadia Widad
کراچی کی رہائشی فروا حیدر اکاؤنٹنگ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد حکومتِ پاکستان کے لیے کام کرتی ہیں اور اسی لیے اب وہ اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ وہ کئی سالوں تک اپنے گھر کے اخراجات بھی برداشت کرتی رہی ہیں اور وہ اس قابل اپنی اعلیٰ تعلیم اور ملازمت کی وجہ سے ہی ہوئیں۔
فروا نے 30 سال کی عمر گزرنے کے بعد ہی شادی کی لیکن اس دوران ان کو بہت کچھ کہا گیا۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کی اپنی شادی 30 سال کی عمر گزرنے کے بعد ہوئی ہے، لیکن انھیں ’25 کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی کہا جاتا تھا کہ کیا بات ہے شادی کیوں نہیں کر رہی۔‘
وہ کہتی ہیں: ’میں آج زیادہ خوش اور معاشی طور پر مستحکم ہوں، کیونکہ میں نے یہ تمام تر فیصلے خود کیے ہیں۔‘
فروا کا کہنا ہے کہ شادی جلدی یا دیر سے کرنے کی بحث کے بجائے لوگوں کو اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔
لاہور کی رہائشی عائشہ صغیر جو پچھلے 12 سالوں سے ایک نشریاتی ادارے سے منسلک ہیں کہتی ہیں کہ انھیں طعنوں کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا تاہم ’میں نے اپنے والد کو بتا دیا تھا کہ اگر میری نہیں بنی تو میں شادی توڑ دوں گی۔ کیونکہ گھوم پھر کر اپنی زندگی کا فیصلہ مجھے ہی کرنا ہے تو میں کسی اور کی بات کیوں سنوں؟‘
’بچے پیدا کرنے کے لیے جلدی شادی‘
پاکستانی معاشرے میں لڑکیوں پر شادی جلدی کرنے کے لیے موجود دباؤ کے حوالے سے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اصولاً کم عمر میں شادی کو صرف بچے پیدا کرنے کے زمرے میں اچھا سمجھا جاتا ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی میں شعبہ صنفی علوم کی سابق سربراہ فرزانہ باری کہتی ہیں کہ شادی کرنے کی کوئی مخصوص عمر نہیں لیکن ’کیونکہ قدرتی طور پر انسان اپنا گھر بار بسانا اور بچے پیدا کرنا چاہتا ہے اس لیے باقی تمام تر باتیں چھوڑ کر ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ وقت پر بچے پیدا کریں۔‘
لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ شادی کا فیصلہ کرنے کا حق ہر انسان کا اپنا ہوتا ہے، لیکن پدر شاہی معاشرے میں بالغ افراد کو بھی اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کرنے نہیں دیا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ ’وقت گزر جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہAyesha Sagheer
بچہ پیدا کرنے کی عمر گزرنے کے بارے میں گائناکولوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا کہ طبی اعتبار سے ’20 سے 22 سال کی عمر بچہ پیدا کرنے کے لیے بہتر سمجھی جاتی ہے اور اس دوران زرخیزی بہت زیادہ ہوتی ہے۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ اس بات کو بنیاد بنا کر لڑکیوں کو خاص طور سے زور دیا جاتا ہے کہ وہ شادی جلدی کر لیں تاکہ بچہ پیدا کرنے کی عمر نہ گزر جائے۔
"لیکن ایسا کوئی سخت اصول نہیں ہے کہ شادی اسی عمر میں کرنا ضروری ہے۔ ہمارے سامنے ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں خواتین نے 40 سے 50 سال کی عمر کے دوران بھی بچے پیدا کیے ہیں۔ ایسی مثالیں کم ہیں لیکن ہیں ضرور۔‘
اسی طرح ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا کہ پہلے خواتین میں ماہواری 40 سال کی عمر میں بند ہوجاتی تھی، لیکن اس عمر میں بھی اب اضافہ ہوا ہے اور یہ حد 50 سال کی عمر تک پہنچ چکی ہے، ’تو وقت کے ساتھ بہت کچھ تبدیل ہورہا ہے۔‘
اگر سعدیہ کی مثال کو سامنے رکھیں تو وہ کہتی ہیں کہ انھیں دیر سے شادی کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ انھوں نے کام کرنا سیکھا، اپنی پسند کے ممالک گھومے، اور پیسے بھی بچائے۔
’اب میرا ایک سال کا بچہ ہے اور ان سب لوگوں کے لیے جو میری دیر سے شادی ہونے اور بچے نہ ہونے کے لیے پریشان تھے، ان کو اس سے اچھا جواب نہیں مل سکتا تھا۔‘










